Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔شریعت میں روزہ کے معنی ہیں اﷲ   تَعَالٰی کی عبادت کی نیت سے صبح صادق سے لے کر سورج ڈوبنے تک کھانے پینے اور جماع سے اپنے کو روکے رکھنا۔  

    (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الاول فی تعریفہ۔۔۔الخ، ج۱، ص۱۹۴)

مسئلہ : ۔رمضان کے ادا روزے اور نذر معین اور نفل و سنت و مستحب روزے اور مکروہ روزے ان روزوں کی نیت کا وقت سورج ڈوبنے سے لے کر ضحوہ کبریٰ (دوپہر سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے) تک ہے اس درمیان میں جب بھی روزہ کی نیت کرے یہ روزے ہو جائیں گے لیکن رات ہی میں نیت کر لینا بہتر ہے ۔ان چھ روزوں کے علا وہ جتنے روزے ہیں مثلاً رمضان کی قضا کا روزہ‘ نذر معین کی قضا کا روزہ‘ کفارہ کا روزہ‘ حج میں کسی جرم کرنے کا روزہ وغیرہ ان سب روزوں کی نیت کا وقت غروب آفتاب سے لے کر صبح صادق طلوع ہونے تک ہے اس کے بعد نہیں ۔

        (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الاول فی تعریفہ۔۔۔الخ، ج۱، ص۱۹۵)

مسئلہ : ۔جس طرح اور عبادتوں میں بتایا گیا ہے کہ نیت دل کے ارادہ کا نام ہے زبان سے کہنا کچھ ضروری نہیں اسی طرح روزہ میں بھی نیت سے مراد دل کا پختہ ارادہ ہے لیکن زبان سے بھی کہہ لینا اچھا ہے اگر رات میں نیت کرے تو یوں کہے کہ

نَوَیَتُ اَنْ اَصُوْ مَ غَدًا لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرَضِ رَمَضَانَ

        اور اگر دن میں نیت کرے تو یوں کہے کہ

نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ ھٰذَاالْیَوْمَ مِنْ فَرَضِ رَمَضَانَ ط        (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الاول فی تعریفہ...الخ، ج۱، ص۱۹۵)

مسئلہ : ۔قضائے رمضان وغیرہ جن روزوں میں رات سے نیت کر لینی ضروری ہے ان روزوں میں خاص اس روزہ کی نیت بھی ضروری ہے جو روزہ رکھا جائے مثلاً یوں نیت کرے کہ کل میں اپنے پہلے رمضان کے روزے کی قضا رکھوں گا یا میں نے جو ایک دن روزہ رکھنے کی منت مانی تھی کل میں وہ روزہ رکھوں گا۔       (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الاول فی تعریفہ...الخ، ج۱، ص۱۹۶)

مسئلہ : ۔عید و بقرعید اور ذوالحجہ کی گیارہ‘ بارہ‘ تیرہ تاریخ ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ تحریمی ہے اور گناہ ہے۔     (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم، ج۱، ص۲۰۱)

مسئلہ : ۔کسی کام کی منت مانی تو کام پورا ہو جانے پر اس روزہ کو رکھنا واجب ہو گیا۔          (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب السادس فی النذر، ج۱، ص۲۰۹)

مسئلہ : ۔اگر نفل کا روزہ رکھ کر اس کو توڑ دیا تو اب اس کی قضا واجب ہے۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۷۸)

مسئلہ : ۔عورت کو نفل کا روزہ بلا شوہر کی اجازت کے رکھنا منع ہے۔  (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ للصیام وما لایکرہ، ج۱، ص۲۰۱)   

چاند د یکھنے کا بیان

مسئلہ : ۔پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا واجب کفایہ ہے شعبان‘ رمضان ‘شوال‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ۔ (الفتاوی الرضویۃ(الجدیدۃج۱۰، ص۴۵۰۔۴۵۱)

مسئلہ : ۔شعبان کی انتیس تاریخ کو شام کے وقت چاند دیکھیں دکھائی دے تو روزہ اگلے دن رکھیں ورنہ شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزہ رکھیں ۔      

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۷)

         مطلع صاف نہ ہونے میں یعنی آسمان میں ابر وغبار ہونے کی حالت میں صرف رمضان کے چاند کا ثبوت ایک مسلمان عاقل و بالغ مستور یا عادل کی گواہی یا خبر سے ہو جاتا ہے چاہے مرد ہو یا عورت اور رمضان کے سوا تمام مہینوں کا چاند اس وقت ثابت ہوگا جب دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں اور سب پابند شرع ہوں اور یہ کہیں کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اس مہینے کا چاند فلاں دن خود دیکھا ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۶)

عادل : ۔ہونے کا یہ مطلب ہے کہ کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرتا ہو اور ایسا کام نہ کرتا ہو جو تہذیب و مروت کے خلاف ہو جیسے بازاروں میں سڑکوں پر چلتے پھرتے کھانا پینا۔

مستور : ۔سے یہ مراد ہے کہ جس کا ظاہر حال شرع کے مطابق ہو مگر باطن کا حال معلوم نہیں ۔(ردالمحتار مع الدرالمختار، کتاب الصوم، مبحث فی یوم شک ، ج۳، ص۴۰۶)

مسئلہ : ۔جس عادل شخص نے چاند دیکھا ہے اس پر واجب ہے کہ اسی رات میں شہادت دے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۷)   

مسئلہ : ۔گاؤں میں چاند دیکھا اور وہاں کوئی حاکم یا قاضی نہیں جس کے سامنے گواہی دے تو گاؤں والوں کو جمع کرکے ان کے سامنے چاند دیکھنے کی گواہی دے اگر یہ گواہی دینے والا عادل ہے لوگوں پر روزہ رکھنا لازم ہے۔           (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۷)

مطلع اگر صاف ہو : ۔تو جب تک بہت سے لوگ شہادت نہ دیں



Total Pages: 188

Go To