Book Name:Jannati Zevar

      خلاصہ یہ ہے کہ بغیر شدید ضرورت کے بھیک مانگنا اور لوگوں سے سوال کرنا جائز نہیں ہے۔

صدقہ کرنے کی فضیلت

        زکوٰۃ و عشر و صدقہ فطر یہ تینوں تو واجب ہیں (جامع الترمذی، کتاب التفسیر، باب (ت : ۹۵)رقم۳۳۸۰، ج۵، ص۲۴۲)

 جو ان تینوں کو نہ ادا کرے گا سخت گنہ گار ہو گا ان تینوں کے علاوہ صدقہ دینے اور خدا کی راہ میں خیرات کرنے کا بھی بہت بڑا ثواب ہے اور دنیا و آخرت میں اس کے بڑے بڑے فوائد و منافع ہیں ۔ چنانچہ اس کے بارے میں ہم یہاں چند حدیثیں لکھتے ہیں ان کو غور سے پڑھو اور اپنے پیارے رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ان مقدس فرمانوں پر عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت کو سنوار لو۔

حد یث (۱) : ۔حضرت انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا بیان ہے کہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جب اﷲ  تَعَالٰی نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ ہلنے لگی تو اﷲ  تَعَالٰی نے پہاڑوں کو  پیدا کیا اور زمین کو پہاڑوں کے سہارے پر ٹھہرا دیا یہ دیکھ کر فرشتوں کو پہاڑوں کی طاقت پر بڑا تعجب ہوا اور  انہوں نے عرض کیا کہ اے پروردگار! کیا تیری مخلوق میں پہاڑوں سے بھی بڑھ کر طاقتور کوئی چیز ہے؟ تو اﷲ  تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا کہ ہاں لوہا تو فرشتوں نے کہا تیری مخلوق میں لوہے سے بھی بڑھ کر طاقتور کوئی چیز ہے؟ تو فرمایا ہاں آگ تو فرشتوں نے پوچھا کہ آگ سے بھی بڑھ کر کوئی طاقت والی چیز تیری مخلوق میں ہے؟ تو خدا نے فرمایا ہاں پانی۔ پھر فرشتوں نے سوال کیا کہ کیا تیری مخلوق میں پانی سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے تو ارشاد ہوا ہاں ہوا۔ یہ سن کر فرشتوں نے دریافت کیا کہ کیا تیری مخلوق میں ہوا سے بھی بڑھ کر طاقت رکھنے والی چیز ہے؟ تو اﷲ  تَعَالٰی نے فرمایا ہاں ابن آدم‘ اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ دے اور بائیں ہاتھ سے چھپائے۔

 (مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، الفصل الثانی، رقم۱۹۲۳، ج۱، ص۵۳۰)

مطلب یہ ہے کہ اس قدر چھپا کر صدقہ دے کہ داہنے ہاتھ سے صدقہ دے اور بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو۔ یہ صدقہ پہاڑ‘ لوہا‘ آگ‘ ہوا پانی تمام چیزوں سے بڑھ کر طاقتور ہے۔

حدیث (۲) : ۔صدقہ اس طرح گناہوں کو بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔(مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب فی فضل الصوم، رقم ۵۰۸۲، ج۳، ص۴۱۹)

حدیث (۳) : ۔ہر مسلمان کو صدقہ کرنا چاہئے تو لوگوں نے کہا یا رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! جو شخص صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز نہ پائے تو کیا کرے؟ تو ارشاد فرمایا کہ اس کو چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ سے کوئی کام کرکے کچھ کمائے پھر خود بھی اس سے نفع اٹھائے اور صدقہ بھی دے تو لوگوں نے عرض کیا کہ اگر وہ کمانے کی طاقت نہ رکھتا ہو؟ تو آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ وہ کسی حاجت مند کی کسی طرح مدد کردے اس پر لوگوں نے کہا کہ اگر وہ یہ بھی نہ کرے؟ تو آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ اس کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم دیتا رہے۔ یہ سن کر لوگوں نے کہا کہ اگر وہ یہ بھی نہ کرے تو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ وہ خود برائی کرنے سے رک جائے یہ اس کے لئے صدقہ ہے۔

 (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب کل معروف صدقۃ، رقم ۶۰۲۲، ج۴، ص۱۰۵)

حدیث (۴) : ۔حضرت انس رضی اﷲ  عنہ راوی ہیں کہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ صدقہ خدا کے غضب کو بجھا دیتا ہے اور بری موت کو رفع کر دیتا ہے۔   

(مشکاۃالمصابیح، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، الفصل الثانی، رقم ۱۹۰۹، ج۱، ص۵۲۷)

حدیث (۵) : ۔حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ ایک زنا کار عورت ایک کتے کے پاس سے گزری جو ایک کنوئیں کے پاس پیاس سے زبان نکالے ہوئے تھا اور قریب تھا کہ پیاس اس کتے کو مار ڈالے تو اس عورت نے اپنے چمڑے کا موزہ نکالا اور اسکو اپنی اوڑھنی میں باندھ کر اس کنوئیں سے پانی بھرا اور اس کتے کو پلادیا (تواتنا ہی صدقہ کرنے سے) اس کی مغفرت ہوگئی ۔

(صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق ، باب اذا وقع الذباب فی شراب احدکم فلیغمسہ، رقم ۳۳۲۱، ج۲، ص۴۰۹)

حدیث (۶) : ۔حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میری ماں کی وفات ہوگئی تو اس کی طرف سے کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ’’پانی‘‘ تو حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے ایک کنواں کھدوا دیا اور یہ کہا کہ یہ سعد کی ماں کے لئے ہے۔  (مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، الفصل الثانی، رقم ۱۹۱۲، ج۱، ص۵۲۷)

حدیث (۷) : ۔حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جو کسی مسلمان ننگے بدن والے کو کپڑا پہنائے گا تو اﷲ  تَعَالٰی اس کو جنت کا ہرا لباس پہنائے گا اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے گا تو اﷲ  تَعَالٰی اس کو جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا تو اﷲ  تَعَالٰی اس کو جنت کا شربت خاص پلائے گا جس پر مہر لگی ہوگی۔

   (سنن الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ ، باب ۱۸(ت۸۳) رقم ۲۴۵۷، ج۴، ص۲۰۴)

حدیث (۸) : ۔حضرت ابن عباس رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو کسی مسلمان کو کپڑا پہنائے گا تو جب تک اس کے بدن پر اس کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی



Total Pages: 188

Go To