Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔بہو داماد اور سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ یا زوجہ کی اولاد جو دوسرے شوہر سے ہوں یا شوہر کی اولا جو دوسری بیوی سے ہوں اور دوسرے رشتہ داروں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں ۔

 (ردالمحتار، کتاب الزکوۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۴)

مسئلہ : ۔مالدار کی بیوی اگر وہ مالک نصاب نہیں ہے تو اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں ۔          (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، ج۱، ص۱۸۹)

مسئلہ : ۔تندرست اور طاقت ور آدمی اگر وہ مالک نصاب نہیں ہے تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے مگر اس کو سوال کرنا اور بھیک مانگنا جائز نہیں ۔

          (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، ج۱، ص۱۸۹)

مسئلہ : ۔زکوٰۃ ادا کرنے میں یہ ضروری ہے کہ جسے دیں اس کو مالک بنا دیں اس لئے اگر زکوٰۃ کی رقم سے کھانا پکا کر غریبوں کو بطور دعوت کے کھلا دیا تو زکوٰۃ ادا نہ ہوئی کیونکہ یہ اباحت ہوئی تملیک نہیں ہوئی ہاں اگر کھانا پکا کر فقیروں کو کھانا دے دے اور ان کو اس کھانے کا مالک بنادے کہ وہ چاہیں اس کو کھائیں یا کسی کو دے دیں یا بیچ ڈالیں تو زکوٰۃ ادا ہوگئی۔  

(الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الزکاۃ، باب المصرف ، ج۳، ص۳۴۱)

مسئلہ : ۔زکوٰۃ کا مال مسجد یا مدرسہ یا مہمان خانہ کی عمارت میں لگانا یا میت کے کفن و دفن میں لگانا یا کنواں بنوا دینا یا کتابیں خرید کر کسی مدرسہ میں وقف کر دینا اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی جب تک کسی ایسے آدمی کو مالِ زکوٰۃ کا مالک نہ بنادیں جو زکوٰۃ لینے کا اہل ہے اس وقت تک زکوٰۃ ادا نہیں ہوسکتی۔ (الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الزکاۃ، باب المصرف ، ج۳، ص۳۴۱۔۳۴۲)

مسئلہ : ۔فقیر زکوٰۃ کے مال کا مالک ہو جانے کے بعد خود اپنی طرف سے اگر مسجد و مدرسہ کی عمارت میں لگا دے یا میت کے کفن ودفن میں صرف کردے تو جائز ہے۔         

 (الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۳)

قابل توجہ تنبیہ : ۔آج کل عام طور پر دینی مدارس میں یہ چلن ہے کہ عطیات اور صدقات و خیرات و چرم قربانی اور زکوٰۃ کی سب رقمیں متولی یا ناظم کے پاس جمع کی جاتی ہیں اور ناظم و متولی ان سب رقموں کو ملا کر رکھتے ہیں اور اسی رقم میں سے طلبہ کا مطبخ بھی چلاتے ہیں اور مدرسین و ملازمین کی تنخواہیں بھی دیتے ہیں اور واعظین و ممتحنین کا نذرانہ بھی دیتے ہیں اور مسجد و مدرسہ کی عمارت بھی بنواتے ہیں اور اپنے مصارف میں بھی لاتے ہیں یاد رکھو کہ اس طرح نہ تو زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہوتی ہے نہ ان کاموں میں زکوٰۃ کی رقموں کو لگانا جائز ہے اور یہ متولیوں اور ناظموں کی بہت بڑی خیانت ہے کہ وہ لوگوں کی زکوٰۃ کے مالوں کو صحیح مصرف میں صرف نہیں کرتے اور گنہ گار ہوتے ہیں لہٰذا علماء کرام پر شرعاً واجب ہے کہ متولیوں اور ناظموں کو یہ مسئلہ بتادیں کہ مدارس میں جتنی رقمیں زکوٰۃ کی آتی ہیں پہلے ان رقموں کا حیلہ شرعیہ کر لینا ضروری ہے تاکہ زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا  ہو جائے اور پھر ان رقموں کو مدرسہ کی جس مد میں چاہیں خرچ کر سکیں ۔

مسئلہ : ۔حیلہ شرعیہ کا طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقموں کو الگ کر کے کسی طالب علم کو جو غریب ہو دے دیں اور ان رقموں کا اس طالب علم کو مالک بنا دیا جائے اور پھر وہ طالب علم اپنی طرف سے وہ رقم مدرسہ میں اپنی خوشی سے دے دے اس طرح کر لینے سے زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور پھر وہ رقم مدرسہ کی ہر مد میں خرچ کی جاسکے گی۔(الفتاوی الرضویۃ(الجدیدۃج۱۰، ص۲۶۹)

مسئلہ : ۔زکوٰۃ و صدقات میں افضل یہ ہے کہ پہلے اپنے بھائیوں ‘ بہنوں ‘ چچاؤں ‘ پھوپھیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر اپنے ماموؤں اور خالاؤں کو پھر ان کی اولاد کو پھر دوسرے رشتہ داروں کو پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے شہر اور گاؤں والوں کو دیں اور علم دین حاصل کرنے والے طالب علموں کو بھی دینا افضل ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، ج۱، ص۱۹۰)

صدقہ فطر کا بیان

مسئلہ : ۔ہر مالکِ نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ایک ایک صاع صدقہ فطر دینا واجب ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۷)

مسئلہ : ۔صدقہ فطر کی مقدار یہ ہے کہ گیہوں اور گیہوں کا آٹا آدھا صاع اور جو یا جو کا آٹایا کھجور ایک صاع دیں ۔         (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۱)

مسئلہ : ۔اعلیٰ درجے کی تحقیق اور احتیاط یہ ہے کہ صاع کا وزن چاندی کے پرانے روپے سے تین سو اکیاون روپے بھر اور آدھا صاع کا وزن ایک سو پچھتّر روپے اٹھنی بھر اوپر ہے۔

 (الفتاوی الرضویۃ(الجدیدۃج۱، ص۵۹۵)

اور نئے وزن سے ایک صاع کا وزن چار کلو اور تقریباً چورانوے گرام ہوتا ہے اور آدھے صاع کا وزن دو کلو اور تقریباً سینتالیس گرام ہوتا ہے۔

مسئلہ : ۔صدقہ فطر دینے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں لہٰذا اگر بیماری یا سفر کی وجہ سے یا معاذاﷲ  بلا عذر اپنی شرارت سے روزہ نہ رکھا جب بھی صدقہ فطر دینا واجب ہے۔

(الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر ، ج۳، ص۳۶۷)

سوال کسے حلال ہے اور کسے نہیں ؟

        آج کل یہ ایک عام بلا پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اوروں کو کھلائیں مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے۔ محنت مشقت سے جان چراتے ہیں اور ناجائز طور پر بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے تو سوال کرنا اور بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے۔ گھر میں ہزاروں روپے ہیں کھیتی باڑی بھی ہے مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے۔ ان سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ تو ہمارا پیشہ ہے واہ صاحب واہ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں حالانکہ ایسے لوگوں کو سوال کرنا اور بھیک مانگنا بالکل حرام ہے حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص بغیر حاجت کے سوال کرتا ہے گویا وہ آگ کا انگارا کھاتا ہے۔   (مجمع الزاوائد، کتاب الزکاۃ، باب ماجاء فی السوال، رقم ۴۵۲۶، ج۳، ص۲۵۸)

        ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرے حالانکہ اس کو نہ فاقہ ہوا ہے نہ اس کے اتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں رکھتا تو قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت نہ ہو گا اور حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا جس پر فاقہ نہیں گزرا اور نہ اتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں اور سوال کا دروازہ کھولے اﷲ  تَعَالٰی اس پر فاقہ کا دروازہ کھول دے گا ایسی جگہ سے جو اس کے خیال میں بھی نہیں ۔(کنزالعمال، کتاب الزکاۃ، الفصل الثانی فی ذم السؤال،