Book Name:Jannati Zevar

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، البا ب الثالث، الفصل الاول فی زکاۃ الذھب والفضۃ، ج۱، ص۱۷۸)

زیورات کی زکوٰۃ : ۔حدیث شریف میں ہے کہ دو عورتیں حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت مبارکہ میں حاضر ہوئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم ان زیوروں کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ عورتوں نے عرض کیا کہ جی نہیں ! تو آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ کیا تم اسے پسند کرتی ہو کہ اﷲ  تَعَالٰی تمہیں آگ کے کنگن پہنائے عورتوں نے کہا نہیں تو ارشاد فرمایا کہ تم ان زیوروں کی زکوٰۃ ادا کرو۔      (سنن ترمذی، کتاب الزکاۃ، باب ماجاء فی زکاۃ الحلی، رقم۲۳۷، ج۲، ص۱۳۲)

مسئلہ : ۔سونا چاندی جب کہ بقدر نصاب ہوں تو ان کی زکوٰۃ چالیسواں حصہ نکالنی فرض ہے خواہ سونے چاندی کے ٹکڑے ہوں یا سکے یا زیورات یا سونے چاندی کی بنی ہوئی چیزیں مثلاً برتن‘ گھڑی‘ سرمہ دانی‘ سلائی وغیرہ غرض جو کچھ ہو سب کی زکوٰۃ نکالنی فرض ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، البا ب الثالث، الفصل الاول فی زکاۃ الذھب والفضۃ، ج۱، ص۱۷۸)

مسئلہ : ۔جن زیورات کی مالک عورت ہو خواہ وہ مَیکا سے لائی ہو یا اس کے شوہر نے اس کو زیورات دے کر ان کا مالک بنادیا ہو تو ان کی زکوٰۃ ادا کرنا عورت پر فرض ہے اور جب زیورات کا مالک مرد ہو یعنی عورت کو صرف پہننے کے لئے دیا ہے مالک نہیں بنایا ہے تو ان زیورات کی زکوٰۃ مرد کے ذمہ ہے عورت پر نہیں ۔  (الفتاوی الرضویۃ، (الجدیدۃ)ج۱۰، ص۱۳۲)

مسئلہ : ۔اگر کسی کے پاس سونا چاندی یا ان دونوں کے زیورات ہوں اور سونا چاندی میں سے کوئی بھی بقدر نصاب نہیں تو چاہئے کہ سونے کی قیمت کی چاندی یا چاندی کی قیمت کا سونا فرض کرکے دونوں کو ملائیں پھر اگر ملانے پر بھی  بقدر نصاب نہ ہو تو زکوٰۃ نہیں اور اگر سونے کی قیمت کی چاندی چاندی میں ملائیں تو بقدر نصاب ہو جاتا ہے اور چاندی کی قیمت کا سونا سونے میں ملائیں تو بقدر نصاب نہیں تو واجب ہے کہ جس صورت میں نصاب پورا ہو جاتا ہے وہ کریں ۔   (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، البا ب الثالث، الفصل الاول فی زکاۃ الذھب والفضۃ، ج۱، ص۱۷۹)

مسئلہ : ۔تجارتی مال کی قیمت لگائی جائے پھر اس سے اگر سونے یا چاندی کا نصاب پورا ہو تو اس کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جائے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، البا ب الثالث، الفصل الاول فی زکاۃ الذھب والفضۃ، ج۱، ص۱۷۹)

مسئلہ : ۔اگر سونا چاندی نہ ہو نہ مال تجارت ہو بلکہ صرف نوٹ اور روپے پیسے ہوں کہ کم سے کم اتنے روپے پیسے یا نوٹ ہوں کہ بازار میں ان سے ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی خریدی جاسکتی ہے تو وہ شخص صاحب نصاب ہے اس کو نوٹ اور روپے پیسوں کی زکوٰۃ‘ چالیسواں حصہ نکالنا فرض ہے۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، البا ب الثالث، الفصل الاول فی زکاۃ الذھب والفضۃ، ج۱، ص۱۷۹)

مسئلہ : ۔اگر شروع سال میں پورا نصاب تھا اور آخر سال میں بھی نصاب پورا رہا درمیان میں کچھ دنوں مال گھٹ کر نصاب سے کم رہ گیا تو یہ کمی کچھ اثر نہ کرے گی بلکہ اس کو پورے مال کی زکوٰۃ دینی پڑے گی۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، البا ب الاول فی تفسیرھاوصفتھاوشرائطھا، ج۱، ص۱۷۵)

عُشر کا بیان

        زمین سے جو بھی پیداوار ہو گیہوں ‘ جو‘چنا‘ باجرا‘ دھان وغیرہ ہر قسم کے اناج‘ گنا‘ روئی ہر قسم کی ترکاریاں پھول پھل میوے سب میں عشر واجب ہے تھوڑی پیدا ہو یا زیادہ۔  

  (الفتاوی الخانیۃ(اولینکتاب الزکاۃ، فصل فی العشر، ج ۱، ص۱۳۲)

مسئلہ : ۔جو پیداوار بارش یا زمین کی نمی سے پیدا ہو اس میں دسواں حصہ واجب ہوتا ہے اور جو پیداوار چر سے ‘ ڈول‘ پمپنگ مشین یا ٹیوب ویل وغیرہ کے پانی سے یا خریدے ہوئے پانی سے پیدا ہو اس میں بیسواں حصہ واجب ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۲، ۳۱۶)

مسئلہ : ۔کھیتی کے اخراجات نکال کر عشر نہیں نکالا جائے گا بلکہ جو کچھ پیداوار ہوئی ہو ان سب کا عشر یا نصف عشر دینا واجب ہے گورنمنٹ کو مال گزاری دی جاتی ہے وہ بھی عشر کی رقم سے مجرا نہیں کی جائے گی پوری پیداوار کا عشر یا نصف عشر خدا کی راہ میں نکالنا پڑے گا۔ (الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب فی العشر، ج۳، ص۳۱۶۔۳۱۷)

مسئلہ : ۔زمین اگر بٹائی پردے کر کھیتی کرائی ہے تو زمین والے اور کھیتی کرنے والے دونوں کو جتنی جتنی پیداوار ملی ہے دونوں کو اپنے اپنے حصہ کی پیداوار کا دسواں یا بیسواں حصہ نکالنا واجب ہے۔ (الفتاوی الخانیۃ(اولینکتاب الزکاۃ، فصل فی العشر، ج ۱، ص۱۳۲)

زکوٰۃ کا مال کن کن لوگوں کو دیا جائے

    جن جن لوگوں کو عشر و زکوٰۃ کامال دینا جائز ہے وہ یہ لوگ ہیں : ۔

 (۱)فقیر یعنی وہ شخص کہ اس کے پاس کچھ مال ہے مگر نصاب کی مقدار سے کم ہے (۲)مسکین یعنی وہ شخص جس کے پاس کھانے کے لئے غلہ اور پہننے کے لئے کپڑا بھی نہ ہو (۳)قرض دار یعنی وہ شخص کہ جس کے ذمہ قرض ہو اور اس کے پاس قرض سے فاضل کوئی مال بقدر نصاب نہ ہو (۴)مسافر جس کے پاس سفر کی حالت میں مال نہ رہا ہو اس کو بقدر ضرورت زکوٰۃ کا مال دینا جائز ہے(۵)عامل یعنی جس کو بادشاہ اسلام نے زکوٰۃ و عشر وصول کرنے  کے لئے مقرر کیا ہو(۶)مکاتب غلام تاکہ وہ مال دے کر آزاد ہو جائے(۷)غریب مجاہد تاکہ وہ جہاد کا سامان کرے۔   



Total Pages: 188

Go To