Book Name:Jannati Zevar

اور جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلوٰۃ، با ب صلوٰۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۷ / والفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوٰۃ، الباب الحادی والعشرون ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۶۳)

مسئلہ : ۔جو بچہ مردہ پیدا ہوا اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔(الفتاوی الھندیۃ، ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الخامس فی الصلوٰۃ علی المیت، ج۱، ص۱۶۳)

نماز جنازہ کی ترکیب

        نماز جنازہ فرض کفایہ ہے یعنی اگر کچھ لوگوں نے نماز جنازہ پڑھ لی تو سب بری الذمہ ہوگئے اورا گر کسی نے بھی نہیں پڑھی تو سب گنہگار ہوئے جو نماز جنازہ کے فرض ہونے کا انکار کرے وہ کافر ہے۔  (الفتاوی الھندیۃ، ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الخامس فی الصلوٰۃ علی المیت، ج۱، ص۱۶۲)

مسئلہ : ۔نماز جنازہ کے لئے جماعت شرط نہیں ایک شخص بھی پڑھ لے تو فرض ادا ہوگیا۔(الفتاوی الھندیۃ، ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الخامس فی الصلوٰۃ علی المیت، ج۱، ص۱۶۲)   

مسئلہ : ۔نماز جنازہ اس طرح پڑھیں کہ پہلے یوں نیت کرے نیت کی میں نے نماز جنازہ کی چار تکبیروں کے ساتھ‘ اﷲ  تَعَالٰی کے لئے اور دعا اس میت کے لئے‘ منہ میرا کعبہ شریف کی طرف‘ (مقتدی اتنا اور کہے) پیچھے اس امام کے۔ پھر کانوں تک دونوں ہاتھ اٹھا کر اﷲ اکبر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھ لے پھر یہ ثنا پڑھے۔

سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِ کَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَجَلَّ  ثَنَائُ کَ وَ لَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ

        پھر بغیر ہاتھ اٹھائے اﷲ اکبر کہے اور درود ابراہیمی پڑھے جو پنج وقتہ نمازوں میں پڑھے جاتے ہیں پھر بغیر ہاتھ اٹھائے اﷲ  اکبر کہے اور بالغ کا جنازہ ہو تو یہ دعا پڑھے

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَ مَیِّتِنَا وَشَاھِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِ نَاوَکَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَ اُنْثَانَا اَللّٰھُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَانِ۔

        اس کے بعدچوتھی تکبیر کہے پھر بغیر کوئی دعا پڑھے ہاتھ چھوڑ کر سلام پھیر دے اور اگر نابالغ لڑکے کا جنازہ ہو تو تیسری تکبیر کے بعد یہ دعا پڑھے

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ لَنَافَرَطًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرً ا وَّ اجْعَلْہُ لَنَا شَا فِعًا وَّ مُشَفَّعاً

اور اگر نابالغ لڑکی کا جنازہ ہو تو یہ دعا پڑھے

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا لَنَا فَرَطًا وَّ اجْعَلْھَا لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْھَا لَنَاشَافِعَۃً وَّ مُشَفَّعَۃً۔

          (الدرالمختار، کتاب الصلٰوۃ، باب صلٰوۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۲۸۔۱۳۴)

مسئلہ : ۔میت کو ایسے قبرستان میں دفن کرنا بہتر ہے جہاں نیک لوگوں کی قبریں ہوں ۔

(الفتاوی الھندیۃ، ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل السادس فی القبر والدفن والنقل من مکان الی آخر، ج۱، ص۱۶۶)

مسئلہ : ۔مستحب یہ ہے کہ دفن کے بعد قبر کے پاس سورئہ بقرہ کا اول و آخر پڑھیں سرہانے الٓـمٓ سے مُفْلِحُوْنَ تک اور پائـنتی اٰمَنَ الرَّسُوْلُ سے ختم سورت تک پڑھیں ۔

(ردالمحتار، کتاب الصلٰوۃ، مطلب فی زیارۃ القبور، ج۳، ص۱۷۹)

قبر پر تلقین

مسئلہ : ۔دفن کے بعد مردہ کو تلقین کرنا اہل سنت کے نزدیک جائز ہے۔ (الجوہرۃ النیرۃ، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ص۱۳۰)

         یہ جو بعض کتابوں میں ہے کہ تلقین نہ کی جائے یہ معتزلہ کا مذہب ہے انہوں نے ہماری کتابوں میں یہ اضافہ کر دیا ہے (شامی) حدیث میں ہے حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اس کی مٹی دے چکو تو تم میں سے ایک شخص قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر میت اور اس کی ماں کا نام لے کر یوں کہے یا فلان بن فلانہ وہ سنے گا اور جواب نہ دے گا پھر کہے یا فلان بن فلانہ وہ سیدھا ہوکر بیٹھ جائے گا پھر کہے یا فلان بن فلانہ وہ کہے گا ہمیں ارشاد کر اﷲ  تَعَالٰی تجھ پر رحم فرمائے مگر تمہیں اس کے کہنے کی خبر نہیں ہوتی پھر کہے :

        اُذْْکُرْمَا خَرَجْتَ مِنَ الدُّ نْیَا شَھَادَۃَ اَنْ لَّا ٓاِلٰـہَ اِلَّا اللّٰـہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم) وَاَ نَّکَ رَضِیْتَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّ بِمُحَمَّدٍ (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم) نَبِـیًّا وَّ بِالْقُرْاٰنِ اِمَامًا ط

        نکیرین ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے چلو ہم اس کے پاس کیا بیٹھیں جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے اس پر کسی نے حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کی کہ اگر اس کی ماں کا نام معلوم نہ ہو فرمایا حوا کی طرف نسبت کرے۔(ردالمحتار، کتاب الصلٰوۃ، مطلب فی التلقین بعد الموت، ج۳، ص۹۴/ والمعجم الکبیر،رقم۷۹۷۹، ج۸، ص۲۴۹)

مسئلہ : ۔قبر پر پھول ڈالنا بہتر ہے کہ جب تک تر رہیں گے تسبیح کریں گے اور میت کا دل بہلے گا۔(الفتاوی القاضی خان، کتاب الصلٰوۃ، باب بیان ان النقل من بلد الی بلد مکروہ، ج اولین، ص۹۴)

مسئلہ : ۔قبر پر سے تر گھاس نوچنا نہ چاہئے کہ اس کی تسبیح سے رحمت اترتی ہے اور میت کو انس ہوتا ہے اور نوچنے میں میت کا حق ضائع کرنا ہے۔

 (الفتاوی القاضی خان، کتاب الصلٰوۃ، باب بیان ان النقل من بلد الی بلد مکروہ، ج اولین، ص۹۴)