Book Name:Jannati Zevar

میت کے نہلانے کا طریقہ

        میت کو غسل دینا فرض کفایہ ہے بعض لوگوں نے نہلا دیا تو سب اس ذمہ داری سے بری ہوگئے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الثانی فی الغسل، ج۱، ص۱۵۸)

مسئلہ : ۔نہلانے کا طریقہ یہ ہے کہ جس تخت پر نہلانے کا ارادہ ہو اس کو تین یا پانچ یا سات مرتبہ دھونی دیں پھر اس پر میت کو لٹا کر ناف سے گھٹنوں تک کسی پاک کپڑے سے چھپادیں پھر نہلانے والا اپنے ہاتھ میں کپڑا لپیٹ کر پہلے استنجا کرائے پھر نماز جیسا وضو کرائے مگر میت کے وضو میں پہلے گٹوں تک ہاتھ دھونا اور کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا نہیں ہے ہا ں کوئی کپڑا بھگو کر دانتوں اور مسوڑھوں اور نتھنوں پر پھرا دیں پھر سر اور داڑھی کے بال ہوں تو گل خیر و یا پاک صابون سے دھوئیں ورنہ خالی پانی بھی کافی ہے پھر بائیں کروٹ پر لٹا کر سر سے پاؤں تک بیری کے پتوں کا جوش دیا ہوا پانی بہائیں کہ تخت تک پانی پہنچ جائے پھر دا    ہنی کروٹ پر لٹا کر اسی طرح پانی بہائیں اگر بیری کے پتوں کا ابالا ہوا پانی نہ ہو تو سادہ نیم گرم پانی کافی ہے پھر ٹیک لگا کر بٹھائیں اور نرمی سے پیٹ سہلائیں اگر کچھ نکلے تو دھو ڈالیں اور غسل کو دہرانے کی ضرورت نہیں پھر آخر میں سر سے پاؤں تک کافور کا پانی بہائیں پھر اس کے بدن کوکسی پاک کپڑے سے آہستہ آہستہ پونچھ کر سکھائیں ۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الثانی فی الغسل، ج۱، ص۱۵۸)

مسئلہ : ۔مرد کو مرد نہلائے اور عورت کو عورت اور چھوٹا لڑکا ہو تو اسے عورت بھی نہلا سکتی ہے اور چھوٹی لڑکی ہو تو مرد بھی اس کو غسل دے سکتا ہے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الثانی فی الغسل، ج۱، ص۱۶۰)

مسئلہ : ۔عورت مر جائے تو شوہر نہ اسے نہلا سکتا ہے نہ چھو سکتا ہے ہاں دیکھنے کی ممانعت نہیں ۔(ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب القرأۃ عذر المیت ، ج۳، ص۱۰۵)

        عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازے کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ منہ دیکھ سکتا ہے یہ بالکل غلط ہے صرف نہلانے اور اس کے بدن کو بلا کپڑا حائل ہونے کے ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔

مسئلہ : ۔ایسی جگہ انتقال ہوا کہ وہاں نہلانے کے لئے پانی نہیں ملتا تو میت کو تیمم کرائیں اور نماز جنازہ پڑھ کر دفن کر دیں ہاں اگر دفن سے پہلے پانی مل جائے تو غسل دے کر دوبارہ نماز جنازہ پڑھیں ۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الثانی فی الغسل، ج۱، ص۱۶۰)

کفن کا بیان

       میت کو کفن دینا فرض کفایہ ہے کفن کے تین درجے ہیں : ۔

(۱)کفن ضرورت (۲)کفن کفایت (۳)کفن سنت۔ مرد کے لئے کفن سنت تین کپڑے ہیں چادر تہبند کرتا مگر تہبند سر سے پاؤں تک لمبا ہونا چاہئے اور عورت کے لئے کفن سنت پانچ کپڑے ہیں چادر‘ تہبند ‘ کرتا‘ اوڑھنی‘ سینہ بند اور کفن کفایت مرد کے لئے دو کپڑے ہیں چادر‘ تہبند اور عورت کے لئے تین کپڑے چادر‘ تہبند‘ اوڑھنی یا چادر‘ کرتا‘ اوڑھنی اور کفن ضرورت عورت مرد دونوں کے لئے یہ ہے کہ جو میسر آجائے اور کم سے کم اتنا تو ہو کہ سارا بدن ڈھک جائے۔           (الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۱۳۔۱۱۶)

        کفن پہنانے کا طریقہ یہ ہے کہ کفن کو تین بار یا پانچ بار یا سات بار دھونی دے کر پہلے چادر کو بچھائیں پھر اس کے اوپر تہبند پھر کرتا پھر میت کو اس پر لٹائیں اور کرتا پہنائیں اور داڑھی اور تمام بدن پر خوشبو لگائیں اور سجدہ کی جگہوں یعنی ماتھے‘ ناک‘ دونوں ہاتھ‘ گھٹنوں ‘قدموں پر کافور لگائیں پھر تہبند لپیٹیں پہلے بائیں طرف سے پھر دا   ہنی طرف سے پھر چادر لپیٹیں پہلے بائیں طرف سے پھر دا    ہنی طرف سے پھر سر اور پاؤں کی طرف باندھ  دیں تاکہ اڑنے اور بکھرنے کا اندیشہ نہ ہو عورت کو کفنی یعنی کرتا پہنا کے اس کے بال کے دو حصے کر کے کفنی کے اوپر سینہ پر ڈال دیں اور اوڑھنی آدھی پیٹھ کے نیچے سے بچھا کر سر پر لا کر منہ پر مثل نقاب کے ڈال دیں کہ اس کی لمبائی آدھی پیٹھ سے سینہ تک رہے اور چوڑائی ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک رہے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الثالث فی التکفین، ج۱، ص۱۶۱)

جنازہ لے چلنے کا بیان

        سنت یہ ہے کہ چار آدمی جنازہ اٹھائیں اور سنت یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے چاروں پایوں کو کندھا دے اور ہر بار دس دس قدم چلے اور پوری سنت یہ ہے کہ پہلے داہنے سرہانے کندھا دے پھر دا   ہنی پائنتی پھر بائیں سر ہانے پھر بائیں پائنتی اور دس دس قدم چلے تو کل چالیس قدم ہوئے حدیث شریف میں ہے کہ جو چالیس قدم جنازہ لے چلے اس کے چالیس گناہ کبیرہ مٹا دیے جائیں گے اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ جو جنازہ کے چاروں پایوں کو کندھا دے اﷲ  تَعَالٰی ضرور اس کی مغفرت فرمادے گا۔          (الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، باب فی صلوٰۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۵۸، ۱۵۹)

مسئلہ : ۔جنازہ لے چلنے میں سرہانا آگے ہونا چاہئے اور عورتوں کو جنازہ کے ساتھ جانا ممنوع و ناجائز ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الرابع فی حمل الجنازۃ، ج۱، ص۱۶۲)

مسئلہ : ۔میت اگر پڑوسی یا رشتہ دار یا نیک آدمی ہو تو اس کے جنازہ کے ساتھ جانا نفل نماز پڑھنے سے افضل ہے۔  

مسئلہ : ۔جنازہ کے ساتھ پیدل چلنا افضل ہے اور ساتھ چلنے والوں کو جنازہ کے پیچھے چلنا چاہئے داہنے بائیں نہ چلیں اور جنازہ کے آگے چلنا مکروہ ہے۔

(الفتاوی الھندیۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الرابع فی حمل الجنازۃ، ج۱، ص۱۶۲)

مسئلہ : ۔جنازہ کو تیزی کے ساتھ لے کر چلیں مگر اس طرح کہ میت کو جھٹکا نہ لگے۔(الفتاوی الھندیۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الرابع فی حمل الجنازۃ، ج۱، ص۱۶۲)

مسئلہ : ۔ہر مسلمان کی نماز جنازہ پڑھی جائے اگر چہ وہ کیسا ہی گنہ گار ہو مگر چند قسم کے لوگ ہیں کہ ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی مثلاً : ۔(۱)باغی جو امام برحق پر خروج کرے اور اسی بغاوت میں مارا جائے (۲)ڈاکو جو ڈاکہ زنی میں مارا گیا (۳)ماں باپ کا قاتل