Book Name:Jannati Zevar

اگر دوسرے کی طرف سے قربانی کرے تو مِنِّیْ کے بجائے مِنْکہہ کراس کانام لے۔ (بہار شریعت، ج۳، ح۱۵، ص۱۵)

مسئلہ : ۔قربانی کے گوشت کے تین حصے کرے ایک حصہ صدقہ کر دے ایک حصہ احباب میں تقسیم کردے اور ایک حصہ اپنے خرچ کے لیے رکھ لے۔ (ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ، ج۹، ص۵۴۲)

مسئلہ : ۔قربانی کا گوشت کافر کو ہر گز نہ دے کہ یہاں کے کفار حربی ہیں ۔ (بہار شریعت، ج۳، ح۱۵، ص۱۴۴)

مسئلہ : ۔چمڑا‘ جھول‘ رسی وغیرہ سب کو صدقہ کر دے چمڑے کو خود اپنے کام میں بھی لا سکتا ہے مثلاً ڈول مصلیٰ جا نماز بچھونا بنا سکتا ہے۔(درمختار، کتاب الاضحیۃ، ج۹، ص۵۴۳)

مسئلہ : ۔آج کل لوگ عموماً قربانی کی کھال دینی مدارس میں دیا کرتے ہیں یہ جائز ہے اگر مدرسہ میں دینے کی نیت سے کھال بیچ کر قیمت مدرسہ میں دے دیں تو یہ بھی جائز ہے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الاضحیۃ، الباب السادس، ج۵، ص۳۰۱)

عقیقہ کا بیان

     بچہ پیدا ہونے کے شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اسے ’’عقیقہ‘‘ کہتے ہیں ۔ (بہار شریعت، ج۳، ح۱۵، ص۱۵۳)

مسئلہ : ۔جن جانوروں کو قربانی میں ذبح کیا جاتا ہے انہی جانوروں کو عقیقہ میں بھی ذبح کر سکتے ہیں ۔ (بہار شریعت، ج۳، ح۱۵، ص۱۵۵)   

مسئلہ : ۔لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی کے عقیقہ میں ایک بکری ذبح کرنا بہتر ہے اگر گائے بھینس عقیقہ میں ذبح کرے تو دو حصہ لڑکے کی طرف سے اور ایک حصہ لڑکی کی طرف سے ذبح کرنے کی نیت کرے اور اگر چاہے تو پوری گائے یا بھینس لڑکے یا لڑکی کے عقیقہ میں ذبح کر دے۔ (بہار شریعت، ج۳، ح۱۵، ص۱۵۴)

مسئلہ : ۔گائے بھینس میں قربانی کے وقت کچھ حصہ قربانی کی نیت سے اور کچھ حصہ عقیقہ کی نیت سے رکھ کر ذبح کرے تو ایک ہی جانور میں قربانی اور عقیقہ دونوں ہو جائیں گے اور ایسا کرنا جائز ہے۔ (بہار شریعت، ج۳، ح۱۵، ص۱۵۵)

مسئلہ : ۔عقیقہ کے لئے بچے کی پیدائش کا ساتواں دن بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کر سکیں تو جب چاہیں کریں سنت ادا ہو جائے گی۔(الفتاوی الرضویۃ، ج۲۰، ص۵۸۶)

مسئلہ : ۔عقیقہ کا گوشت بچے کے ماں باپ‘ دادا دادی‘ نانا نانی وغیرہ سب کھا سکتے ہیں اور جاہلوں میں جو یہ مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت یہ لوگ نہیں کھا سکتے یہ بات بالکل غلط ہے۔

 (الفتاوی الرضویۃ، ج۲۰، ص۵۹۰)

مسئلہ : ۔عقیقہ کے جانور کو ذبح کرتے وقت لڑکا ہو تو یہ دعا پڑھیں ۔

اَللّٰھُمَّ ھٰذِہٖ عَقِیْقَۃُ فُلَانِ بْنِ فُلانٍ دَمُھَابِدَمِہٖ وَلَحْمُھَا بِلَحْمِہٖ وَعَظْمُھَا بِعَظْمِہٖ وَجِلْدُھَا بِجِلْدِہٖ وَشَعْرُھَا بِشَعْرِہٖ ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا فِدَآئً لَّہٗ مِنَ النَّا رِ۔بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔

        دعا میں فُلانِ بْنِ فُلَانٍ کی جگہ بچے اور اس کے باپ کا نام لے اور اگر لڑکی ہو تو یہ دعا اس طرح پڑھے

اَللّٰھُمَّ ھٰذِہٖ عَقِیْقَۃُ فُلَانَۃِ بِنْتِ فُلَانٍ دَمُھَابِدَمِھَا وَلَحْمُھَا بِلَحْمِھَا وَ عَظْمُھَا بِعَظْمِھَا وَجِلْدُھَا بِجِلْدِھَا وَ شَعْرُھَا بِشَعْرِھَا اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا فِدَائً لَھَا مِنَ النَّارِ ط   

        دعا میں فُلَا نۃ بِنْتِ فُلَانٍ کی جگہ لڑکی اور اس کے باپ کا نام لے اور اگر دعا یاد نہ ہو تو بغیر دعا پڑھے دل میں یہ خیال کر کے فلاں لڑکے یا فلانی لڑکی کا عقیقہ ہے بِسْمِ اﷲ  اَللّٰہُ اَکْبَرْ پڑھ کر ذبح کر دے عقیقہ ہو جائے گا عقیقہ کے لئے دعا کا پڑھنا ضروری نہیں ۔ (الفتاوی الرضویۃ(الجدیدۃج۲۰، ص۵۸۵)

گہن کی نماز

        سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ اور چاند گہن کی نماز مستحب ہے سورج گہن کی نماز جماعت سے مستحب ہے اور تنہا تنہا بھی ہو سکتی ہے اگر جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا جمعہ کی تمام شرطیں اس کے لئے شرط ہیں وہی شخص اس کی جماعت قائم کر سکتا ہے جو جمعہ کی جماعت قائم کر سکتا ہو اگر وہ نہ ہو تو لوگ تنہا تنہا پڑھیں چاہے گھر میں پڑھیں یا مسجد میں ۔

                   (ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، باب الکسوف، ج۳، ص۷۷۔۷۸)

مسئلہ : ۔گہن کی نماز نفل کی طرح دو رکعت لمبی لمبی سورتوں کے ساتھ پڑھیں پھر اس وقت تک دعا مانگتے رہیں کہ گہن ختم ہو جائے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، باب الکسوف، ج۳، ص۷۸)

مسئلہ : ۔گہن کی نماز میں نہ اذان ہے نہ اقامت‘ نہ بلند آواز سے قرأ ت۔ (الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، باب الکسوف، ج۳، ص۷۸)

میت کے متعلقات

        جب موت کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو سنت یہ ہے کہ داہنی کروٹ پر لٹا کر قبلہ کی طرف منہ کر دیں اور یہ بھی جائز ہے کہ چت لٹائیں اور قبلہ کو پاؤں کردیں مگراس صورت میں سر کو کچھ اونچا کردیں تاکہ قبلہ کی طرف منہ ہو جائے اور اگر قبلہ کو منہ کرنے میں اس کو تکلیف ہوتی ہو تو جس حالت پر ہے چھوڑ دیں ۔