Book Name:Jannati Zevar

(۱)حجامت بنوانا (۲)ناخن کٹوانا (۳)غسل کرنا (۴)مسواک کرنا  (۵)اچھے کپڑے پہننا نئے ہوں یا پرانے (۶)انگوٹھی پہننا (۷)خوشبو لگانا (۸)صبح کی نماز محلّہ کی مسجد میں پڑھنا(۹)عید گاہ جلد چلے جانا (۱۰)نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا (۱۱)عیدگاہ کو پیدل جانا(۱۲)دوسرے راستہ سے واپس آنا (۱۳)عید گاہ کو جانے سے پہلے چند کھجوریں کھا لینا تین پانچ سات یا کم زیادہ مگر طاق ہوں کھجوریں نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز کھا لے(۱۴)خوشی ظاہر کرنا (۱۵)صدقہ و خیرات کرنا(۱۶)عیدگاہ کو اطمینان اور وقار کے ساتھ جانا (۱۷)آپس میں ایک دوسرے کو مبارکباد دینا۔   

          (الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الصلاۃ ، باب العیدین، ج۳، ص۵۴)

نماز عیدین کا طریقہ

        پہلے اس طرح نیت کرے کہ نیت کی میں نے دو رکعت نماز عید الفطر یا عیدالاضحی کی چھ تکبیروں کے ساتھ اﷲ  تَعَالٰی کے لئے (مقتدی اتنا اور کہے پیچھے اس امام کے) منہ میرا طرف کعبہ شریف کے ۔پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اﷲ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے اور ثنا پڑھے پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ چھوڑ دے پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ چھوڑ دے پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اﷲ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے خلاصہ یہ ہے کہ آغاز نماز کی پہلی تکبیر کے بعد بھی ہاتھ باندھ لے اور چوتھی تکبیر کے بعد بھی ہاتھ باندھ لے اور دوسری اور تیسری کے بعد ہاتھ چھوڑ دے چوتھی تکبیر کے بعد امام آہستہ سے اعوذباﷲ وبسم اﷲ  پڑھ کر بلند آواز سے الحمداور کوئی سورہ پڑھے اور رکوع و سجدہ سے فارغ ہو کر دوسری رکعت میں الحمد اور کوئی سورہ پڑھے پھر تین بار کانوں تک ہاتھ اٹھا کر ہر بار اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ چھوڑ دے اور چوتھی بار بلا ہاتھ اٹھائے تکبیر کہتا ہوا رکوع میں جائے اور باقی نماز دوسری نمازوں کی طرح پوری کرے سلام پھیرنے کے بعد امام دو خطبے پڑھے پھر دعا مانگے پہلے خطبے کو شروع کرنے سے پہلے امام نو بار اور دوسرے کے پہلے سات بار اور منبر سے اترنے کے پہلے چودہ بار اﷲ اکبر آہستہ سے کہے کہ یہ سنت ہے۔

          (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ ، باب العیدین، ج۳، ص۶۱۔۶۶، ۶۸)

مسئلہ : ۔اگر کسی عذر مثلاً سخت بارش ہو رہی ہے یا ابر کی وجہ سے چاند نہیں دیکھا گیا اور زوال کے بعد چاند ہونے کی شہادت ملی اور عید کی نماز نہ ہو سکی تو دوسرے دن عید کی نماز پڑھی جائے اور اگر دوسرے دن بھی نہ ہو سکی تو تیسرے دن عید الفطر کی نماز نہیں ہوسکتی۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب : امر الخلیفۃ لایبقی بعد موتہ، ج۳، ص۶۲)

مسئلہ : ۔عید الاضحی (بقر عید) تمام احکام میں عید الفطر کی طرح ہے صرف چند باتوں میں فرق ہے عید ا لفطر میں نماز عید سے پہلے کچھ کھا لینا مستحب ہے اور عیدالاضحی میں مستحب یہ ہے کہ نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے اور یہ فرق بھی ہے کہ عید الفطر کی نماز عذر کی وجہ سے دوسرے دن پڑھی جاسکتی ہے اور تیسرے دن نہیں پڑھی جاسکتی ہے مگر عیدالاضحی کی عذر کی وجہ سے بارھویں تک یعنی تیسرے دن بھی بلا کراہت پڑھی جاسکتی ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ ، باب العیدین، ج۳، ص۶۰۔۶۸)

مسئلہ : ۔نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرھویں کی عصر تک پانچوں وقت کی ہر نماز کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو ایک بار بلند آواز سے تکبیر کہنا واجب اور تین بار کہنا افضل ہے اس کو تکبیر تشریق کہتے ہیں اور وہ یہ ہے اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ  وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔ (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ ، باب العیدین، ج۳، ص۷۱۔۷۴)

مسئلہ : ۔قربانی کرنی ہو تو مستحب یہ ہے کہ پہلی ذوالحجہ سے دسویں ذوالحجہ تک بال یا ناخن نہ کٹائے۔   (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ ، باب العیدین، ج۳، ص۷۱۔۷۵)

قربانی کا بیان

مسئلہ : ۔ہر مالک نصاب مردو عورت پر ہر سال قربانی واجب ہے یہ ایک مالی عبادت ہے خاص جانور کو خاص دن میں اﷲ  کے لئے ثواب کی نیت سے ذبح کرنا اس کا نام قربانی ہے۔

 (ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ ، ج۹، ص۵۱۹، ۵۲۲، ۵۲۳)

مسئلہ : ۔مالک نصاب وہ شخص ہے جو ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونایا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کے سامان تجارت یا کسی سامان یا روپیوں نوٹوں پیسوں کا مالک ہو اور مملوکہ چیزیں حاجت اصلیہ سے زائد ہوں ۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الاضحیۃ، الباب الاول فی تفسیر ھا ورکنھا، ج۵، ص۲۹۲)

مسئلہ : ۔مالک نصاب پر ہر سال اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے ۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الاضحیۃ، الباب الاول، ج۵، ص۲۹۲)

اگر دوسرے کی طرف سے بھی کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے دوسری قربانی کا انتظام کرے۔

مسئلہ : ۔قربانی کا جانور موٹا تازہ اچھا اور بے عیب ہونا ضروری ہے اگر تھوڑا سا عیب ہوتو قربانی مکروہ ہوگی اور اگر زیادہ عیب ہے تو قربانی ہوگی ہی نہیں ۔ (ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ، ج۹، ص۵۳۶

Total Pages: 188

Go To