Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔اگر چند مہینے یا چند برسوں کی قضا نمازوں کو پڑھے تو نیت کرنے میں جو نماز پڑھنی ہے اس کا نام لے اور اس طرح نیت کرے مثلاً نیت کی میں نے‘ دو رکعت نماز فجر کی‘ جو میرے ذمہ باقی ہیں ان میں سے پہلی فجر کی‘ اﷲ  تَعَالٰی کے لئے‘ منہ میرا طرف کعبہ شریف کے اﷲ اکبر اس طریقہ پر دوسری قضا نمازوں کی نیتوں کو سمجھ لیناچاہئے۔

(ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب اذا اسلم المرتد ھل تعود حسناتہ ام لا ، ج۲، ص۶۵۰)

مسئلہ : ۔جو رکعتیں ادا میں سورہ ملا کرپڑھی جاتی ہیں وہ قضا میں بھی سورہ ملا کر پڑھی جائیں گی اور جو رکعتیں ادا میں بغیر سورہ ملائے پڑھی جاتی ہیں قضا میں بھی بغیر سورہ ملائے پڑھی جائیں گی۔

          (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر، ج۱، ص۱۲۱)

مسئلہ : ۔مسافرت کی حالت میں جب کہ قصر کرتا تھا اس وقت کی چھٹی ہوئی نمازوں کو اگر وطن میں بھی قضا کرے گا جب بھی دو ہی رکعت پڑھے گا اور جو نمازیں مسافر نہ ہونے کے زمانے میں قضا ہوئی ہیں اگر سفر میں بھی ان کی قضا پڑھے گا تو چار ہی رکعت پڑھے گا۔ (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب اذا اسلم المرتد ھل تعود حسناتہ ام لا ، ج۲، ص۶۵۰)

جمعہ کا بیان

        جمعہ فرض ہے اور اس کا فرض ہونا ظہر سے زیادہ مؤکدہ ہے اس کا منکر کافر ہے (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۵)

 حدیث شریف میں ہے کہ جس نے تین جمعے برابر چھوڑ دیے اس نے اسلام کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا وہ منافق ہے۔ (مجمع الزوائد، کتاب الصلاۃ، باب فیمن ترک الجمعۃ، رقم ۳۱۷۷۔۳۱۷۸، ج۲، ص۴۲۲)

اور اﷲ  سے بے تعلق ہے ۔   

مسئلہ : ۔جمعہ فرض ہونے کے لئے مندرجہ ذیل گیارہ شرطیں ہیں : ۔

(۱)شہر میں مقیم ہونا لہذا مسافر پر جمعہ فرض نہیں (۲)آزاد ہونا لہذا  غلام پر جمعہ فرض نہیں (۳)تندرستی یعنی ایسے مریض پر جمعہ فرض نہیں جو جامع مسجد تک نہیں جاسکتا (۴)مرد ہونا یعنی عورت پر جمعہ فرض نہیں (۵)عاقل ہونا یعنی پاگل پر جمعہ فرض نہیں (۶)بالغ ہونا یعنی بچے پر جمعہ فرض نہیں (۷)انکھیارا ہونا لہٰذا اندھے پر جمعہ فرض نہیں (۸)چلنے کی قدرت رکھنے والا ہو یعنی اپاہج اور لنجے پر جمعہ فرض نہیں (۹)قید میں نہ ہونا لہٰذا جیل خانہ کے قیدیوں پر جمعہ فرض نہیں (۱۰)حاکم یا ظالم وغیرہ کا خوف نہ ہونا (۱۱)بارش کا آندھی کا اس قدر زیادہ نہ ہونا جس سے نقصان کا قوی اندیشہ ہو۔

(الدرالمختار وردالمحتار ، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مطلب فی شروط وجوب الجمعۃ، ج۳، ص۳۰، ۳۳)

مسئلہ : ۔جن لوگوں پر جمعہ فرض نہیں مثلاً مسافر اور اندھے وغیرہ اگر یہ لوگ جمعہ پڑھیں تو ان کی نماز جمعہ صحیح ہوگی یعنی ظہر کی نماز ان لوگوں کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گی۔

(۱)جمعہ جائز ہونے کے لئے چھ شرطیں ہیں یعنی ان میں سے ایک بھی اگر نہیں پائی گئی تو جمعہ ادا ہوگا ہی نہیں ۔

پہلی شرط)جمعہ جائز ہونے کی پہلی شرط شہریا شہری ضروریات سے تعلق رکھنے  والی جگہ ہونا ہے شریعت میں شہر سے مراد وہ آبادی ہے کہ جس میں متعدد سڑکیں گلیاں اور بازار ہوں اور وہ ضلع یا تحصیل کا شہر یا قصبہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہیں اور اگر ضلع یا تحصیل نہ ہو تو ضلع یا تحصیل جیسی بستی ہو ۔جمعہ جائز ہونے کے لئے ایسی بستی کا ہونا شرط ہے لہٰذا چھوٹے چھوٹے گاؤں میں جمعہ نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ ان لوگوں کو روزانہ کی طرح ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنی چاہئے لیکن جن گاؤں میں پہلے سے جمعہ قائم ہے جمعہ کو بند نہیں کرنا چاہئے کہ عوام جس طرح بھی اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  ورسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا نام لیں غنیمت ہے لیکن ان لوگوں کو چار رکعت ظہر کی نماز پڑھنی ضروری ہے۔

دوسری شرط)دوسری شرط یہ ہے کہ بادشاہ اسلام یا اس کا نائب جمعہ قائم کرے اور اگر وہاں اسلامی حکومت نہ ہو تو سب سے بڑا سنی صحیح العقیدہ عالم دین اس شہر کا جمعہ قائم کرے کہ بغیر اس کی اجازت کے جمعہ قائم نہیں ہوسکتا اور اگر یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں وہ جمعہ قائم کرے ہر شخص کو یہ حق نہیں کہ جب چاہے جمعہ قائم کرے۔

تیسری شرط)ظہر کا وقت ہونا ہے لہٰذاوقت سے پہلے یا بعد میں جمعہ کی نماز پڑھی گئی تو جمعہ کی نماز نہیں ہوگی اور اگر جمعہ کی نماز پڑھتے پڑھتے عصر کا وقت شروع ہو گیا تو جمعہ باطل ہو گیا۔

چوتھی شرط)یہ ہے نماز جمعہ سے پہلے خطبہ ہو جائے خطبہ عربی زبان میں ہونا چاہئے عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں پورا خطبہ پڑھنا یا عربی کے ساتھ کسی دوسری زبان کو ملانا یہ خلاف سنت اور مکروہ ہے۔

پانچویں شرط)جمعہ جائز ہونے کی پانچویں شرط جماعت ہے جس کے لئے امام کے سوا کم سے کم تین مردوں کا ہونا ضروری ہے۔

چھٹی شرط)اذنِ عام ہونا ضروری ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد کا دروازہ کھول دیا جائے تاکہ جس مسلمان کا جی چاہے آئے کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو لہٰذا بند مکان میں جمعہ پڑھنا جائز نہیں ہوگا۔    (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ج۳، ص۶، ۲۹) 

نماز عید ین کا بیان

        عید و بقرعید کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ صرف انہیں لوگوں پر جن لوگوں پر جمعہ فرض ہے بلاوجہ عیدین کی نماز چھوڑنا سخت گناہ ہے۔

(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر فی صلاۃ العیدین ، ج۱، ص۱۵۰/ الجوہرۃ، النیرۃ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، ص۱۱۹)

مسئلہ : ۔عیدین کی نماز واجب ہونے اور جائز ہونے کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے لئے ہیں فرق اتنا ہے کہ جمعہ کا خطبہ شرط ہے اور عیدین کا خطبہ سنت ہے  دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ جمعہ کا خطبہ نماز جمعہ سے پہلے ہے اور عیدین کا خطبہ نماز عیدین کے بعد ہے اور ایک تیسرا فرق یہ بھی ہے کہ جمعہ کے لئے اذان و اقامت ہے اور عیدین کے لئے نہ اذان ہے نہ اقامت صرف دوبار اَلصَّلوٰۃُ جَامِعَۃٌ