Book Name:Jannati Zevar

(ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب فی رکعتی الاستخارۃ، ج۲، ص۵۶۹/صحیح بخاری ، کتاب التہجد، باب ماجاء فی التطوع مثنی مثنی، رقم۱۱۶۲، ج۱، ص۳۹۳بتغیرقلیل)

مسئلہ : ۔بہتر یہ ہے کہ کم سے کم سات مرتبہ استخارہ کرے اور پھر دیکھے جس بات پر دل جمے اسی میں بھلائی ہے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ استخارہ کرنے میں اگر خواب

کے اندر سپیدی یا سبزی دیکھے تو اچھا ہے اور اگر سیاہی یا سرخی دیکھے تو برا ہے۔

(ردالمحتار، کتاب الصلاۃ ، مطلب فی رکعتی الاستخارۃ، ج۲، ص۵۷۰/ کنزالعمال، کتاب الصلاۃ، صلاۃ الاستخارۃ من الاکمال، ج۸، رقم ۲۱۵۳۵، ص۳۳۶)

تراویح کا بیان

مسئلہ : ۔مرد و عورت سب کے لئے تراویح سنت مؤکدہ ہے اس کا چھوڑنا جائز نہیں عورتیں گھروں میں اکیلے اکیلے تراویح پڑھیں مسجدوں میں نہ جائیں ۔

(الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الوتروالنوافل، ج۲، ص۵۹۷)

مسئلہ : ۔تراویح بیس رکعتیں دس سلام سے پڑھی جائیں یعنی ہر دو رکعت پر سلام پھیرے اور ہر چار رکعت پر اتنی دیر بیٹھنا مستحب ہے جتنی دیر میں چار رکعتیں پڑھی ہیں اور اختیار ہے کہ اتنی دیر چاہے چپکا بیٹھا رہے چاہے کلمہ یا درود شریف پڑھتا رہے یا کوئی اور بھی دعا پڑھتا رہے عام طور سے یہ دعا پڑھی جاتی ہے سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَ الْمَلَکُوْتِ سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّۃِ وَالْعَظَمَۃِ وَالْھَیْبَۃِ وَالْقُدْرَۃِ وَاْلکِبْرِیَآء وَالْجَبَرُوْتِ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَنَامُ وَلَا یَمُوْتُ سُبُّوْحُٗ قُدُّوْسُٗ رَّبُّنَا وَرَبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔

(الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب الوتروالنوافل، مطلب مبحث صلاۃ التراویح، ج۲، ص۵۹۹، ۶۰۰)

مسئلہ : ۔مردوں کے لئے تراویح جماعت سے پڑھنا سنت کفایہ ہے یعنی اگر مسجد میں تراویح کی جماعت نہ ہوئی تو محلہ کے سب لوگ گنہگار ہوں گے اور اگر کچھ لوگوں نے مسجد میں جماعت سے تراویح پڑھ لی تو سب لوگ بری الذمہ ہوگئے۔   (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، ج۲، ص۵۹۸، ۵۹۹)

مسئلہ : ۔پورے مہینہ کی تراویح میں ایک بار قرآن مجید ختم کرنا سنت مؤکدہ ہے اور دوبار ختم کرنا افضل ہے اور تین بار ختم کرنا اس سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے بشرط یہ کہ مقتدیوں کو تکلیف نہ ہو مگر ایک بار ختم کرنے میں مقتدیوں کی تکلیف کا لحاظ نہیں کیا جائے گا۔       (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، ج۲، ص۶۰۱)

مسئلہ : ۔جس نے عشاء کی فرض نماز نہیں پڑھی وہ نہ تراویح پڑھ سکتا ہے نہ وتر جب تک فرض نہ ادا کرے۔

مسئلہ : ۔جس نے عشا ء کی فرض نماز تنہا پڑھی تراویح جماعت سے تو وہ وتر کو تنہا پڑھے(الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح ، ج۲، ص۶۰۳)

 وتر کو جماعت سے وہی پڑھے گا جس نے عشاء کے فرض کو جماعت کے ساتھ پڑھا ہو۔

مسئلہ : ۔جس کی تراویح کی کچھ رکعتیں چھوٹ گئی ہیں اور امام وتر پڑھانے کے لئے کھڑا  ہو جائے تو امام کے ساتھ وتر کی نماز جماعت سے پڑھ لے پھر اس کے بعد تراویح کی چھوٹی ہوئی رکعتوں کو ادا کرے بشرط یہ کہ عشاء کے فرض جماعت سے پڑھ چکا ہو اور اگر چھوٹی ہوئی تراویح کی رکعتوں کو ادا کرکے وتر تنہا پڑھے تو یہ بھی جائز ہے مگر پہلی صورت افضل ہے۔

  (درالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الوتروالنوافل، ج۲، ص۵۹۸)

مسئلہ : ۔اگر کسی وجہ سے تراویح میں ختم قرآن نہ ہو سکے تو سورتوں سے تراویح پڑھیں اور اس کے لئے بعضوں نے یہ طریقہ رکھا ہے کہ الم ترکیف سے آخر تک دوبار پڑھنے میں بیس رکعتیں ہو جائیں گی۔ (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مبحث صلاۃ التراویح، ج۲، ص۶۰۲)

مسئلہ : ۔بلا کسی عذر کے بیٹھ کر تراویح پڑھنا مکروہ ہے بلکہ بعض فقہا کے نزدیک تو ہوگی ہی نہیں (درمختار ج۱ص۴۷۵) ہاں اگر بیمار یا بہت زیادہ بوڑھا اور کمزور ہو تو بیٹھ کر تراویح پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں کیونکہ یہ بیٹھنا عذر کی وجہ سے ہے۔         (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الوتروالنوافل، ج۲، ص۶۰۳)

مسئلہ : ۔نابالغ کسی نماز میں امام نہیں بن سکتا     (الھدایۃ و فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج۱، ص۳۶۷، ۳۶۸)

اسی طرح نابالغ کے پیچھے بالغوں کی تراویح نہیں ہوگی صاحب ہدایہ وصاحب فتح القدیر نے اسی قول کو مختار بتایا ہے۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع فی النوافل، فصل فی التراویح، ج۱، ص۱۱۶، ۱۱۷)

نمازوں کی قضا کا بیان

مسئلہ : ۔کسی عبادت کو اس کے مقرر وقت پر ادا کرنے کو ادا کہتے ہیں اور وقت گزر جانے کے بعد عمل کرنے کو قضا کہتے ہیں ۔ (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب فی ان الامر یکون ۔۔۔الخ،