Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔ناپاک کپڑا پہن کر یا کوئی بھی ناپاک چیز لے کر مسجد میں جانا منع ہے یوں ہی ناپاک تیل مسجد میں جلانا یا ناپاک گارا مسجد میں لگانا منع ہے۔

          (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃوما یکرہ فیھا ، ج۲، ص۵۱۷)

مسئلہ : ۔وضو کے بعد بدن کا پانی مسجد میں جھاڑنا‘ مسجد میں تھوکنا یا ناک صاف کرنا ناجائز ہے۔   (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، فصل کرہ غلق باب المسجد، ج۱، ص۱۱۰)

مسئلہ : ۔   مسجد میں ان آداب کا خیال رکھے (۱)جب مسجد میں داخل ہو تو سلام کرے بشرطیکہ جو لوگ وہاں موجود ہوں ذکر و درس میں مشغول نہ ہوں اوراگر نماز میں ہوں یا مسجد میں کوئی نہ ہو تو یوں کہے اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِاﷲ الصَّالِحِیْنَ(۲)وقت مکروہ نہ ہو تو دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرے (۳)خرید و فروخت نہ کرے(۴)ننگی تلوار مسجد میں نہ لے جائے(۵)گمی ہوئی چیز مسجد میں نہ ڈھونڈھے (۶)ذکر کے سوا آواز بلند نہ کرے(۷)دنیا کی باتیں نہ کرے (۸)لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے (۹)جگہ کے متعلق کسی سے جھگڑا نہ کرے بلکہ جہاں خالی جگہ پائے وہاں نماز پڑھ لے اوراس طرح نہ بیٹھے کہ جگہ میں دوسروں کے لئے تنگی ہو(۱۰)کسی نمازی کے آگے سے نہ گزرے(۱۱)مسجد میں تھوک کھنکار یا کوئی گندی یا گھناؤنی چیز نہ ڈالے(۱۲)انگلیاں نہ چٹخائے(۱۳)نجاست اور بچوں اور پاگلوں سے مسجد کو بچائے(۱۴)ذکر الٰہی کی کثرت کرے۔       (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس فی آداب المسجد...إلخ، ج۵، ص۳۲۱)

مسئلہ : ۔کچا لہسن پیاز یا مولی کھا کر جب تک منہ میں بدبو باقی رہے مسجد میں جانا جائز نہیں یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جس میں بدبو ہے کہ اس سے مسجد کو بچایا جائے اور اس کو بغیر دور کئے ہوئے مسجد میں نہ جایا جائے۔ (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب فی الغرس فی المسجد، ج۲، ص۵۲۵)

مسئلہ : ۔مسجد کی صفائی کے لئے چمگادڑوں اور کبوتروں اور چڑیوں کے گھونسلوں کو نوچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔          (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃوما یکرہ فیھا، ج۲، ص۵۲۸)

مسئلہ : ۔اپنے محلّہ کی مسجد میں نماز پڑھنا اگرچہ جماعت کم ہو جامع مسجد سے افضل ہے بلکہ اگر محلّہ کی مسجد میں جماعت نہ ہوئی تو تنہا جائے اور اذان و اقامت کہہ کر اکیلے نماز پڑھے یہ جامع مسجد کی جماعت سے افضل ہے۔ (صغیری ، فصل فی احکام المسجد ، ص۳۰۲)   

سنتوں اور نفلوں کا بیان

        سنت کی دو قسمیں ہیں ایک سنت مؤکدہ اور دوسری سنت غیر مؤکدہ۔

مسئلہ : ۔سنت مؤکدہ یہ ہیں دو رکعت فجر کی سنت فرض نماز سے پہلے‘ چار رکعت ظہر کی سنت فرض نماز سے پہلے اور دو رکعت بعد میں ‘ مغرب کے بعد دو رکعت سنت‘ عشاء کے بعد دو رکعت سنت‘ جمعہ سے پہلے چار رکعت سنت اور جمعہ کے بعد چار رکعت سنت۔ یہ سب سنتیں مؤکدہ ہیں یعنی ان کو پڑھنے کی تاکید ہوئی ہے بلا عذر ایک مرتبہ بھی ترک کرے تو ملامت کے قابل ہے اور اس کی عادت ڈالے تو فاسق جہنم کے لائق ہے اور اس کے لئے شفاعت سے محروم ہو جانے کا ڈر ہے ان مؤکدہ سنتوں کو ’’سُنَنُ الْہُدیٰ‘‘ بھی کہتے ہیں ۔

   (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب فی السنن والنوافل، ج۲، ص۵۴۵)

مسئلہ : ۔سنت غیر موکدہ یہ ہیں چار رکعت عصر سے پہلے‘ چار رکعت عشاء سے پہلے‘ اسی طرح عشاء کے بعد دو رکعت کی بجائے چار رکعت اور جمعہ کی فرض نماز ادا کرنے کے بعد بجائے چار رکعت سنت کے چھ رکعت۔ سنت مغرب کے بعد چھ رکعت ’’صلوۃ الاوابین‘‘ اور دو رکعت تحیۃ المسجد دو رکعت تحیۃ الوضوء اگر مکروہ وقت نہ ہو‘ دو رکعت نماز اشراق‘ کم سے کم دو رکعت نماز چاشت اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت‘ کم سے کم دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعت نماز تہجد‘ صلوۃ التسبیح‘ نماز استخارہ ‘نماز حاجت وغیرہ ان سنتوں کو اگر پڑھے تو بہت زیادہ ثواب ہے اور اگر نہ پڑھے تو کوئی گناہ نہیں ہے ان سنتوں کو ’’سنن الزوائد‘‘ اور کبھی ’’سنت مستحبہ‘‘ کہتے ہیں ۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع فی النوافل، ج۱، ص۱۱۲/ الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب الوتروالنوافل مطلب فی السنن والنوافل، ج۲، ص ۵۴۶، ۵۴۷)

مسئلہ : ۔قیام کی قدرت ہونے کے باوجود نفل نماز بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے لیکن جب قدرت ہو تو نفل کو بھی کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے اور دوگنا ثواب ملتا ہے۔

 ( الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب الوتروالنوافل، مطلب مبحث المسائل الستۃ عشریۃ، ج۲، ۵۸۴)

نماز تحیۃ الوضوء

مسئلہ : ۔مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور ظاہر و باطن کے ساتھ متوجہ ہو کر دو رکعت (نماز تحیۃ الوضوء) پڑھے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔     (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء ، رقم ۲۳۴، ص۱۴۴)

نماز اشراق

        ترمذی شریف میں ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جو شخص فجر کی نماز جماعت سے پڑھ کر ذکر الٰہی کرتار ہے یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے پھر دو رکعت (نماز اشراق) پڑھے تو اسے پورے ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب ملے گا۔(جامع الترمذی، کتاب السفر، باب ذکر ما یستحب من الجلوس فی المسجد بعد صلاۃ الصبح حتی تطلع الشمس، ج۲، رقم۵۸۶، ص۱۰۰)   

 نماز چاشت

        چاشت کی نماز کم سے کم دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہے حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰ



Total Pages: 188

Go To