Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔مجلس بدلنے کی بہت سی صورتیں ہیں مثلاً کبھی تو جگہ بدلنے سے مجلس بدل جاتی ہے جیسے مدرسہ ایک مجلس ہے اور مسجد ایک مجلس ہے اور کبھی ایک ہی جگہ میں کام بدل جانے سے مجلس بدل جاتی ہے جیسے ایک ہی جگہ بیٹھ کر سبق پڑھایا تو یہ مجلس درس ہوئی پھر اسی جگہ بیٹھے بیٹھے لوگوں نے کھانا شروع کر دیا تو یہ مجلس بدل گئی کہ پہلے مجلس درس تھی اب مجلس طعام ہوگئی کسی گھر میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں چلے جانے‘ کمرے سے صحن میں چلے جانے سے مجلس بدل جاتی ہے کسی بڑے ہال میں ایک کونے سے دوسرے کونے میں چلے جانے سے مجلس بدل جاتی ہے وغیرہ وغیرہ مجلس کے بدل جانے کی بہت سی صورتیں ہیں ۔  (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۱۲، ۷۱۶/الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشرفی سجود التلاوۃ، ج۱، ص۱۳۴)

قرأت کا بیان

        قرأت یعنی قرآن شریف پڑھنے میں اتنی آواز ہونی چاہئے کہ اگر بہرا نہ ہو اور شور و غل نہ ہو تو خود اپنی آواز سن سکے اگر اتنی آواز بھی نہ ہوئی تو قرأت نہیں ہوئی اور نماز نہ ہوگی۔ (الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ، فصل فی القرأۃ، ج۲، ص۳۰۸، ۳۰۹)

مسئلہ : ۔فجر میں اور مغرب و عشاء کی پہلی دو    رکعتوں میں اور جمعہ و عیدین و تراویح اور رمضان کی وتر میں امام پر جہر کے ساتھ قرأت کرنا واجب ہے اور مغرب کی تیسری رکعت میں اور عشاء کی تیسری اور چوتھی رکعت میں ظہر و عصر کی سب رکعتوں میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔        (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، فصل فی القرأۃ، ج۲، ص۳۰۴، ۳۰۶)

مسئلہ : ۔جہر کے یہ معنی ہیں کہ اتنی زور سے پڑھے کہ کم سے کم صف میں قریب کے لوگ سن سکیں اور آہستہ پڑھنے کے یہ معنی ہیں کہ کم سے کم خود سن سکے۔

(الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، فصل فی القرأۃ، ج۲، ص۳۰۸)

مسئلہ : ۔جہری نمازوں میں اکیلے کو اختیار ہے چاہے زور سے پڑھے چاہے آہستہ مگر زور سے پڑھنا افضل ہے۔  (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، فصل فی القرأۃ، ج۲، ص۳۰۶)

مسئلہ : ۔قرآن شریف الٹا پڑھنا مکروہ تحریمی ہے مثلاً یہ کہ پہلی رکعت میں قُلْ ھُوَاﷲ  اور دوسری رکعت میں تَبَّتْ یَدَا پڑھنا۔ (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، فصل فی القرأۃ، ج۲، ص۳۳۰)

مسئلہ : ۔درمیان میں ایک چھوٹی سورت چھوڑ کر پڑھنا مکروہ ہے جیسے پہلی رکعت میں قُلْ ھُوَ اﷲ  پڑھی اور دوسری رکعت میں قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھی اور درمیان میں صرف ایک سورئہ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقْ چھوڑ دی لیکن ہاں اگر درمیان کی سورہ پہلے سے بڑی ہو تو درمیان میں ایک سورہ چھوڑ کر پڑھ سکتا ہے جیسے وَالتِّیْنِکے بعد اِنَّااَنْزَلْنَا پڑھنے میں حرج نہیں اور اذاجاء کے بعد قُلْ ھُوَاﷲ  پڑھنا نہیں چاہئے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، فصل فی القرأۃ، ج۲، ص۳۲۹، ۳۳۰)

مسئلہ : ۔جمعہ و عیدین میں پہلی رکعت میں سورئہ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورئہ منافقون یا پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلٰی اور دوسری رکعت میں ھل اتاک حدیث الغاشیۃ پڑھنا سنت ہے۔  (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب السنۃ تکون سنۃ عین وسنۃ کفایۃ، ج۲، ص۳۲۴)

نماز کے باہر تلاوت کا بیان : ۔مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رو اچھے کپڑے پہن کر صحیح صحیح حروف ادا کر کے اچھی آواز سے قرآن شریف پڑھے لیکن گانے کے لہجہ میں نہیں کہ گا کر قرآن پڑھنا جائز نہیں تلاوت کے شروع میں اعوذباﷲ  پڑھنا مستحب ہے اور سورہ کے شروع میں بسم اﷲ  پڑھنا سنت ہے درمیان تلاوت میں کوئی دنیاوی کلام یا کام کرے تو اعوذباﷲ  و بسم اﷲ  پھر پڑھ لے۔

              (غنیۃ المستملی، فصل فی سجودالسھو، القرأۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۵)

مسئلہ : ۔غسل خانہ اور نجاست کی جگہوں میں قرآن شریف پڑھنا ناجائز ہے۔   (غنیۃ المستملی، فصل فی سجودالسھو، القرأۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۶)

مسئلہ : ۔جب قرآن شریف بلند آواز سے پڑھا جائے تو حاضرین پر سننا فرض ہے جب کہ وہ مجمع سننے کی غرض سے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہے اگر چہ اور لوگ اپنے اپنے کام میں ہوں ۔

  (غنیۃ المستملی، فصل فی سجودالقرأۃ خارج الصلاۃ، ص۴۹۷/فتاوی رضویۃ، ج۲۳، ص۳۵۲)

مسئلہ : ۔سب لوگ مجمع میں زور سے قرآن شریف پڑھیں یہ ناجائز ہے اکثر عرس و فاتحہ کے موقعوں پر سب لوگ زور زور سے تلاوت کرتے ہیں یہ ناجائز ہے اگر چند آدمی پڑھنے والے ہوں تو سب لوگ آہستہ پڑھیں ۔  (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الرابع فی الصلوۃوالتسبیح وقرأۃ القرآن۔۔۔إلخ، ج۵، ص۳۱۷)

مسئلہ : ۔بازاروں اور کارخانوں میں جہاں لوگ کام میں لگے ہوں زور سے قرآن شریف پڑھنا ناجائز ہے کیونکہ لوگ اگر نہ سنیں تو گناہ پڑھنے والے پر ہوگا۔

 (ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، فصل فی القرأۃ، ص۳۲۹)

مسئلہ : ۔قرآن شریف بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے جب کہ نمازی یا بیمار یا سونے والے کو تکلیف نہ پہنچے۔(غنیۃ المتملی، فصل فی سجود السھو