Book Name:Jannati Zevar

نماز کے مکروہات

        نماز میں جو باتیں مکروہ ہیں وہ یہ ہیں کپڑے یا بدن یا داڑھی مونچھ سے کھیلنا‘ کپڑا سمیٹنا جیسے سجدہ میں جاتے وقت آگے یا پیچھے سے دامن یا چادر یا تہبند اٹھا لینا‘ کپڑا لٹکانا یعنی سر یا کندھے پر کپڑا چادر وغیرہ اس طرح ڈالنا کہ دونو ں کنارے لٹکے رہیں ‘ کسی ایک آستین کو آدھی کلائی سے چڑھانا‘ دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا‘ پیشاب پاخانہ معلوم ہوتے وقت یا غلبہ ریاح کے وقت نماز پڑھنا‘ مرد کا سر کے بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا‘ انگلیاں چٹخانا ادھر ادھر منہ پھیر کر دیکھنا‘ آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا‘ مرد کا سجدہ میں کلائیوں کو زمین پر بچھانا‘ التحیات میں یا دونوں سجدوں کے درمیان دونوں ہاتھوں کو ران پر رکھنے کی بجائے زمین پر رکھ کر بیٹھنا‘ کسی شخص کے منہ کے سامنے نماز پڑھنا‘ چادر میں اس طرح لپٹ کر نماز پڑھنا کہ بدن کا کوئی حصہ یہاں تک کہ ہاتھ بھی باہر نہ ہوں ‘ پگڑی اس طرح باندھنا کہ بیچ سر پر پگڑی کا کوئی حصہ نہ ہو‘ ناک اور منہ کو چھپا کر نماز پڑھنا‘ بے ضرورت کھنکھارنا‘ قصداً جماہی لینا اگر خود ہی جماہی آجائے تو حرج نہیں ‘ جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو اسے پہن کر نماز پڑھنا‘ تصویر کا نمازی کے سر پر یعنی چھت میں ہونا یا اوپر لٹکی ہوئی ہونا یا دائیں بائیں دیوار میں بنی یا لگی ہونا یا آگے پیچھے تصویر کا ہونا‘ جیب یا ہتھیلی میں تصویر چھپی ہوئی ہو تو نماز میں کراہت نہیں ۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلاۃ وما لایکرہ، ج۱، ص۱۰۵، ۱۰۸/الدرالمختار، کتا ب الصلاۃ، باب مایفسدالصلاۃ ویکرہ فیھا ، ج۲، ص۴۸۸۔۵۰۳، ۵۱۱)

        سجدہ گاہ سے کنکریاں اٹھانا مگر جب کہ پورے طور پر سجدہ نہ ہو سکتا ہو تو ایک بار ہٹا دینے کی اجازت ہے‘ نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا‘ نماز کے علاوہ بھی کمر پر ہاتھ نہ رکھنا چاہئے‘ کرتا چادر موجود ہوتے ہوئے صرف پاجامہ یا تہبند پہن کر نماز پڑھنا‘ الٹا کپڑا پہن کر نماز پڑھنا‘ نماز میں بلا عذر پالتی مار کر بیٹھنا‘ کپڑے کو حد سے زیادہ دراز کر کے نماز پڑھنا‘ مثلاً عمامہ کا شملہ اتنا لمبا رکھے کہ بیٹھنے میں دب جائے یا آستین اتنی لمبی رکھے کہ انگلیاں چھپ جائیں ‘ پاجامہ اور تہبند ٹخنے سے نیچے ہونا‘ نماز میں دائیں بائیں جھومنا‘ الٹا قرآن مجید پڑھنا‘ امام سے پہلے مقتدی کا رکوع و سجدہ میں جانا یا امام سے پہلے سر اٹھانا یہ تمام باتیں مکروہ تحریمی ہیں اگر نماز میں یہ مکروہات ہو جائیں تو اس نماز کو دہرا لینا چاہئے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلاۃ وما لایکرہ، ج۱، ص۱۰۶/الدرالمختار، کتا ب الصلاۃ، باب مایفسدالصلاۃ ئمایکرہ فیھا ، ج۲، ص۴۹۳، ۴۹۶)

مسئلہ : ۔نماز میں ٹوپی گر پڑی تو ایک ہاتھ سے اٹھا کر سر پر رکھ لینا بہتر ہے اور بار بار گر پڑتی ہو تو نہ اٹھانا اچھا ہے۔

مسئلہ : ۔سستی سے ننگے سر نماز پڑھنا یعنی ٹوپی سے بوجھ معلوم ہوتا ہے یا گرمی لگتی ہے اس وجہ سے ننگے سر نماز پڑھتا ہے تو یہ مکروہ تنزیہی ہے اور اگر نماز کو حقیر خیال کر کے ننگے سر پڑھے جیسے یہ خیال کرے کہ نماز کوئی ایسی شاندار چیز نہیں ہے جس کے لئے ٹوپی یا پگڑی کا اہتمام کیا جائے تو یہ کفر ہے اور اگر خدا کے دربار میں اپنی عاجزی اور انکساری ظاہر کرنے کے لئے ننگے سر نماز پڑھے تو اس نیت سے ننگے سر نماز پڑھنا مستحب ہوگا خلاصہ کلام یہ ہے کہ نیت پر دارومدار ہے۔ (الدرالمختاروردالمحتار، کتا ب الصلاۃ، باب مایفسدالصلاۃ ویکرہ فیھا ، مطلب فی الخشوع، ج۲، ص۴۹۱)

مسئلہ : ۔جلتی ہوئی آگ کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ ہے لیکن چراغ یا لالٹین کے سامنے نماز پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں ۔

   (الدرالمختاروردالمحتار، کتا ب الصلاۃ، باب مایفسدالصلاۃ ویکرہ فیھا ، مطلب الکلام علی اتخاذالمسبحۃ ، ج۲، ص۵۱۰)

مسئلہ : ۔بغیر عذر ہاتھ سے مکھی مچھر اڑانا مکروہ ہے۔(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع ، الفصل الثانی فیمایکرہ فی الصلاۃوما لایکرہ، ج۱، ص۱۰۹ )

مسئلہ : ۔دوڑتے ہوئے نماز کو جانا مکروہ ہے۔

مسئلہ : ۔نماز میں اٹھتے بیٹھتے آگے پیچھے پاؤں ہٹانا مکروہ ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الثانی، ج۱، ص۱۰۸)

نماز توڑدینے کے اعذار : ۔یعنی کن کن صورتوں میں نماز توڑ دینا جائز ہے۔

مسئلہ : ۔کوئی ڈوب رہا ہو یا آگ سے جل جائے گا یا اندھا کنوئیں میں گر پڑے گا۔ تو ان صورتوں میں نمازی پر واجب ہے کہ نماز توڑ کر ان لوگوں کو بچائے یوں ہی اگر کوئی کسی کو قتل کر رہا ہو اور وہ فریاد کر رہا ہو اور یہ اس کو بچانے کی قدرت رکھتا ہو تو اس پر واجب ہے کہ نماز توڑ کر اس کی مدد کے لئے دوڑ پڑے۔

(الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ ، باب ادراک الفریضۃ، ج۲، ص۶۰۹/ الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الثانی ومما یتصل بذالک مسائل، ج۱، ص۱۰۹)

مسئلہ : ۔پیشاب پاخانہ قابو سے باہر معلوم ہوا یا اپنے کپڑے پر اتنی کم نجاست دیکھی جتنی نجاست کے ہوتے ہوئے نماز ہوسکتی ہے یا نمازی کو کسی اجنبی عورت نے چھو دیا تو ان تینوں صورتوں میں نماز توڑ دینا مستحب ہے۔

مسئلہ : ۔سانپ وغیرہ مارنے کے لئے جب کہ کاٹ لینے کا صحیح ڈر ہو تو نماز توڑ دینا جائز ہے۔

(الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب ادراک الفریضۃ، ج۲، ص۶۰۸/ الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الثانی ومما یتصل بذالک مسائل، ج۱، ص۱۰۹)

مسئلہ : ۔اپنے یا کسی اور کے درہم کے نقصان کا ڈر ہو۔ جیسے دودھ ابل جائے گا یا گوشت ترکاری کے جل جانے کا ڈر ہو تو ان صورتوں میں نماز توڑ دینا جائز ہے اسی طرح ایک درہم کی کوئی چیز چور لے بھاگا تو نماز توڑ کر اس کے پکڑنے کی اجازت ہے۔

(الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب ادراک الفریضۃ، ج۲، ص۶۰۹/ الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الثانی ومما یتصل بذالک مسائل، ج۱، ص۱۰۹)

مسئلہ : ۔نماز پڑھ رہا تھا کہ ریل گاڑی چھوٹ گئی اور سامان ریل گاڑی میں ہے یا ریل گاڑی چھوٹ جانے سے نقصان ہو جائے گا تو نماز توڑ کر ریل گاڑی پر سوار ہو جانا جائز ہے۔

مسئلہ : ۔نفل نماز میں ہوا ور ماں باپ پکاریں اوران کو اس کا نماز میں ہونا معلوم نہ ہو تو نماز توڑدے اورجواب دے بعدمیں اس کی نماز قض



Total Pages: 188

Go To