Book Name:Jannati Zevar

        نماز وتر تین رکعتیں ایک سلام سے ہیں دو رکعت پر بیٹھے اور صرف التحیات پڑھ کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے اور تیسری رکعت میں بھی الحمد اور سورہ پڑھے پھر دونوں ہاتھ کان کی لو تک اٹھائے اور اﷲ اکبر کہہ کر پھر ہاتھ باندھ لے اور دعائے قنوت پڑھے جب دعائے قنوت پڑھ چکے تو اﷲ اکبر کہہ کر رکوع کرے اور باقی نماز پوری کرے دعائے قنوت یہ ہے۔

دعائے قنوت  اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ وَ نَشْکُرُکَ وَلَانَکْفُرُکَ وَ نَخْلَعُ وَ نَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ ط اَللَّھُمَّ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَ نَسْجُدُ وَ اِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ وَ نَرْ جُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقُٗ ط

مسئلہ : ۔جو دعائے قنوت نہ پڑھ سکے تو وہ یہ پڑھے اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ہ اور جس سے یہ بھی نہ ہو سکے تو تین مرتبہ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ پڑھ لے اس کی وتر ادا ہو جائے گی۔             (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ ، الباب الثامن فی صلاۃ الوتر، ج۱، ص۱۱۱)

مسئلہ : ۔دعائے قنوت وتر میں پڑھنا واجب ہے اگر بھول کر دعائے قنوت چھوڑ دے تو سجدئہ سہو کرنا ضروری ہے اور اگر قصداً چھوڑ دیا تو وتر کو دہرانا پڑے گا۔

 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ ، الباب الثامن فی صلاۃ الوتر، ج۱، ص۱۱۱)

مسئلہ : ۔دعائے قنوت ہر شخص چاہے امام ہو یا مقتدی یا اکیلا ہمیشہ پڑھے ادا ہو یا قضا رمضان ہو یا دوسرے دنوں میں ۔               (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ ، الباب الثامن فی صلاۃ الوتر، ج۱، ص۱۱۱)

مسئلہ : ۔وتر کے سوا کسی اور نماز میں دعائے قنوت نہ پڑھے ہاں البتہ اگر مسلمانوں پر کوئی بڑا حادثہ واقع ہو تو فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھ سکتے ہیں اس کو قنوت نازلہ کہتے ہیں ۔     (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الوتروالنوافل، ج۲، ص۵۴۱)

سجدۂ سہو کا بیان

        جو نماز میں چیزیں واجب ہیں اگر ان میں سے کوئی واجب بھول سے چھوٹ جائے تو اس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سجدئہ سہو واجب ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ نماز کے آخر میں التحیات پڑھنے کے بعد داہنی طرف سلام پھیرنے کے بعد دومرتبہ سجدہ کرے اور پھر التحیات اور درود شریف اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیر دے۔

          (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۱۔۶۵۳)

مسئلہ : ۔اگر قصداً کسی واجب کو چھوڑ دیا تو سجدئہ سہو کافی نہیں بلکہ نماز کو دہرانا واجب ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۵)

مسئلہ : ۔جو باتیں نماز میں فرض ہیں اگر ان میں سے کوئی بات چھوٹ گئی تو نماز ہوگی ہی نہیں اور سجدئہ سہو سے بھی یہ کمی پوری نہیں ہو سکتی بلکہ پھر سے اس نماز کو پڑھنا ضروری ہے۔

مسئلہ : ۔ایک نماز میں اگر بھول سے کئی واجب چھوٹ گئے تو ایک مرتبہ وہی دو سجدے سہو کے سب کے لئے کافی ہیں چند بار سجدئہ سہو کی ضرورت نہیں ۔

 (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۵)

مسئلہ : ۔پہلے قعدہ میں التحیات پڑھنے کے بعد تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہونے میں اتنی دیر لگا دی کہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ پڑھ سکے تو سجدئہ سہو واجب ہے چاہے کچھ پڑھے یا خاموش رہے دونوں صورتوں میں سجدئہ سہو واجب ہے اس لئے دھیان رکھو کہ پہلے قعدہ میں التحیات ختم ہوتے ہی فوراً تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔  (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۵۷)

نماز فاسد کرنے والی چیزیں

        نماز میں بولنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے چاہے جان بوجھ کر بولے یا بھول کر بولے‘ زیادہ بولے یا ایک ہی بات بولے‘ اپنی خوشی سے بولے یا کسی کے مجبور کرنے سے بولے بہر صورت نماز ٹوٹ جائے گی اسی طرح زبان سے کسی کو سلام کرے‘ عمداً ہو یا سہواً‘ نمازجاتی رہے گی یوں ہی سلام کا جواب دینا بھی نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔ کسی کو چھینک کے جواب میں یرحمک اﷲ  کہا یا خوشی کی خبر سن کر الحمد لِلّٰہ کہا یا بری خبر سن کر اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ   کہا تو ان صورتوں میں نماز ٹوٹ جائے گی لیکن اگر خود نماز پڑھنے والے کو چھینک آئی تو حکم ہے کہ وہ چپ رہے لیکن اس نے الحمدﷲ کہہ دیا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی نماز پڑھنے والے نے اپنے امام کے غیر کو لقمہ دے دیا تو اس کی نماز فاسد ہوئی اور اگر اس نے لقمہ لے لیا تو اس کی بھی نماز جاتی رہے گی اور غلط لقمہ دینے سے لقمہ لینے والے کی نماز جاتی رہتی ہے اَللّٰہُ اَکْبَرْ کے الف کو کھینچ کر آللّٰہُ اَکْبَرْ کہنا یا آکْبَرْکہنا یا اَکْبَارکہنا نماز کو فاسد کر دیتا ہے اسی طرح نَسْتَعِینُ کو الف کے ساتھ نَسْتَاعِیْنُ پڑھے اور اَنْعَمْتَ کے ت کو پیش یا زیر یعنی اَنْعَمْتِ یا اَنْعَمْتُ پڑھنے سے بھی نماز جاتی رہتی ہے آہ‘ اوہ‘ اف‘ تف‘ درد یا مصیبت کی وجہ سے کہے یا آواز کے ساتھ روئے اور کچھ حروف پیدا ہوئے تو ان سب صورتوں میں نماز ٹوٹ جائے گی اگر مریض کی زبان سے حالت نماز میں بے اختیار آہ یا اوہ یا ہائے نکل گیا تو نماز نہیں ہوگی اسی طرح چھینک کھانسی یا جمائی اور ڈکار میں جتنے حروف مجبوراًزبان سے نکل جاتے ہیں معاف ہیں اور ان سے نماز نہیں ٹوٹتی دانتوں کے اندر کوئی کھانے کی چیز اٹکی ہوئی تھی نماز پڑھتے ہوئے زبان چلا کر اس کو نکال لیا اور نگل گیا اگر وہ چیز چنے کی مقدار سے کم ہے تو نماز مکروہ ہوگئی اور اگر چنے کے برابر ہے تو نماز ٹوٹ جائے گی نماز پڑھتے ہوئے زور سے قہقہہ لگا کر ہنس دیا تو نماز بھی ٹوٹ گئی اور وضو بھی ٹوٹ گیا پھر سے وضو کرکے نئے سرے سے نماز پڑھے عورت نماز پڑھ رہی تھی بچے نے اس کی چھاتی چوسی اگر دودھ نکل آیا تو نمازجاتی رہی نماز میں کرتا یا  پاجامہ پہنا یا تہبند باندھا یا دونوں ہاتھ سے کمر بند باندھا تو نماز ٹوٹ گئی ایک رکن میں تین بار بدن کھجلانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تین مرتبہ کھجلانے کا یہ مطلب ہے کہ ایک مرتبہ کھجلایا پھر ہاتھ ہٹا لیا ، پھر کھجلایاپھر ہٹالیا، پھر کھجلایا، یہ تین مرتبہ ہوگیا اور اگر ایک مرتبہ ہاتھ رکھ کر چند مرتبہ ہاتھ کو ہلا کر کھجلایا مگر ہاتھ نہیں ہٹایا اور باربار کھجلاتا رہا تو یہ ایک ہی مرتبہ کھجانا کہا جائے گا۔  (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃوما کرہ فیھا، ج۱، ص۹۸، ۱۰۴)

        نمازی کے آگے سے گزرنا نماز کو فاسد نہیں کرتا خواہ گزرنے والا مرد ہو یا عورت لیکن نمازی کے آگے سے گزرنے والا سخت گنہگار ہوتا ہے حدیث میں ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے؟ تو وہ زمین میں دھنس جانے کو گزرنے سے بہتر جانتا۔(المؤطالامام مالک ، کتاب قصرالصلاۃ فی السفر، باب التشدید فی ان یمراحد۔۔۔الخ، رقم۳۷۱، ج۱، ص۱۵۴)

 ایک دوسری حدیث میں ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر جانتا کہ اس میں کتنا بڑا گناہ ہے تو چالیس سال تک کھڑے رہنے کو گزرنے سے بہتر جانتا راوی کا بیان ہے کہ میں نہیں جانتا کہ حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے چالیس دن کہایا چالیس مہینہ یا چالیس برس۔        (ترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی کراہیۃ المرور، رقم۳۳۶، ج