Book Name:Jannati Zevar

سوال)پھر چار رکعت فرض کی نیت کیسے کرے؟

جواب)نیت کی میں نے چار رکعت نماز فرض عشاء کی اﷲ  تَعَالٰی کے لئے (مقتدی اتنا             اور کہے پیچھے اس امام کے) منہ میرا طرف کعبہ شریف کے اﷲ اکبر۔

سوال)پھر دو رکعت سنت موکدہ کی نیت کس طرح کی جائے گی؟   

جواب)نیت کی میں نے دو رکعت نماز سنت عشاء کی اﷲ  تَعَالٰی کے لئے سنت

            رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی منہ میرا طرف کعبہ شریف کے اﷲ اکبر۔

سوال) پھر دو رکعت نفل کی نیت کس طرح کی جائے؟

جواب) نیت کی میں نے دو رکعت نماز نفل اﷲ  تَعَالٰی کے لئے منہ میرا طرف کعبہ             شریف کے اﷲ اکبر۔

سوال)پھر وتر کی نیت کس طرح کی جائے؟

جواب)نیت کی میں نے تین رکعت نماز واجب وتر کی، اﷲ   تَعَالٰی کے لیے منہ میرا             طرف کعبہ شریف کے اﷲ  اکبر۔

سوال)پھر دو رکعت نفل کی نیت کس طرح کرے؟

جواب)نیت کی میں نے دو رکعت نماز نفل اﷲ  تَعَالٰی کے لئے منہ میرا طرف کعبہ       شریف کے اﷲ اکبر۔

سوال)اگر نیت کے الفاظ بھول کر کچھ کے کچھ زبان سے نکل گئے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟

جواب)نیت دل کے پکے ارادے کو کہتے ہیں یعنی نیت میں زبان کا اعتبار نہیں تو اگر            دل میں مثلاً ظہر کا پکا ارادہ کیا اور زبان سے ظہر کی جگہ عصر کا لفظ نکل گیا۔ تو ظہر            کی نماز ہو جائے گی۔

سوال)قضا نماز کی نیت کس طرح کرنی چاہئے؟

جواب)جس روز اور جس وقت کی نماز قضا ہو اس روز اور اس وقت کی نیت قضا                ضروری ہے مثلاً اگر جمعہ کے روز فجر کی نماز قضا ہو گئی تو اس طرح نیت                                 کرے کہ نیت کی میں نے دو رکعت نماز قضا جمعہ کے روز کی فرض فجر کی      اﷲ  تَعَالٰی کے  لئے‘ منہ میرا طرف کعبہ شریف کے اﷲ اکبر۔

سوال)اگرکئی سال کی نمازیں قضا ہوں تو نیت کیسے کرے؟

جواب)ایسی صورت میں جو نماز مثلاً ظہر کی قضا پڑھنی ہے تو اس طرح نیت کرے کہ            نیت کی میں نے چار رکعت نماز قضا جو میرے ذمہ باقی ہے ان میں سے پہلے             فرض ظہر کی‘ اﷲ  تَعَالٰی کے لئے منہ میرا طرف کعبہ شریف کے اﷲ اکبر۔

    اسی طریقہ پر دوسری قضانمازوں کی نیتوں کو قیاس کر لینا چاہئے۔

سوال)پانچ وقت کی نمازوں میں کل کتنی رکعت قضا پڑھی جائے گی؟

جواب)بیس رکعت‘ دو رکعت فجر‘ چار رکعت ظہر‘ چار رکعت عصر‘ تین رکعت مغرب‘    چار رکعت عشائ‘ تین رکعت وتر‘ خلاصہ یہ ہے کہ فرض اور وتر کی قضا ہے‘ سنتوں اور نفلوں کی قضا نہیں ہے۔

نماز پڑھنے کا طریقہ

        نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ وضو کرکے قبلہ کی طرف منہ کرے اور اس طرح کھڑا ہو کہ دونوں پیروں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ رہے اور دونوں ہاتھ کو دونوں کانوں تک اٹھائے کہ دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کی لو سے چھو جائیں باقی انگلیاں اپنے حال پر رہیں ۔ نہ بالکل ملی ہوئی نہ بہت پھیلی ہوئی۔ اس حال میں کہ کانو ں کی لو چھوتے ہوئے دونوں ہتھیلیاں قبلہ کی طرف ہوں ۔ اور نگاہ سجدہ کی جگہ پر ہو۔ پھر نیت کر کے اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لا کر ناف کے نیچے اس طرح باندھ لے کہ داہنی ہتھیلی کی گدی بائیں کلائی کے سرے پر پہنچوں کے پاس رہے اور بیچ کی تینوں انگلیاں بائیں کلائی کی پیٹھ پر اور انگوٹھا اور چھوٹی انگلی کلائی کے اغل بغل حلقہ کی صورت میں رہیں ۔ پھر ثناء پڑھے یعنی سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَ  تَعَالٰی جَدُّکَ وَ لَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ پھر اَعُوْذُ بِاﷲ  مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط پڑھے پھر  بِسْمِ اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط پڑھے پھر الحمد پوری پڑھے اور ختم پر آہستہ سے آمین کہے اس کے بعد کوئی سورہ یا تین آیتیں پڑھے۔ یا ایک لمبی آیت جو تین آیتوں کے برابر ہو پڑھے پھر  اﷲ اکبرکہتا ہوا رکوع میں جائے اور گھٹنوں کو ہاتھوں سے اس طرح پکڑے کہ ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر ہوں اور انگلیاں خوب پھیلی ہوں اور پیٹھ بچھی ہو اور سر پیٹھ کے برابر اونچا نیچا نہ ہواور نظر پیروں کی پشت پر ہواور کم سے کم تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہے پھر سَمِعَ اﷲ  لِمَنْ حَمِدَہُٗ کہتا ہوا سیدھاکھڑاہو جائے اور اکیلے نماز پڑھتا ہو تو اس کے بعد رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدَ بھی کہے اور دونوں ہاتھ لٹکائے رہے‘ ہاتھوں کو باندھے نہیں پھر اﷲ اکبر کہہ کر سجدہ میں جائے اس طرح کہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھے پھر ہاتھ پھر دونوں ہاتھوں کے درمیان سر رکھے۔ اس طرح پر کہ پہلے ناک زمین پر رکھے پھر ماتھا اور ناک کی ہڈی کو دبا کر زمین پر جمائے۔ اور نظر ناک کی طرف رہے اور بازوؤں کو کروٹوں سے اور پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھے۔ اور پاؤں کی سب انگلیوں کو قبلہ کی طرف رکھے۔ اس طرح کہ انگلیوں کا پیٹ زمین پر جما رہے اور ہتھیلیاں بچھی ہوں ۔ اور انگلیاں قبلہ کی طرف ہوں اور کم سے کم تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَ عْلٰی کہے پھر سر اٹھائے اس طرح کہ پہلے ماتھا پھر ناک پھر منہ پھر ہاتھ اور داہنا قدم کھڑا کرکے  اس کی انگلیاں قبلہ رخ کرے اور بایاں قدم بچھا کر اس پر خوب سیدھا بیٹھ جائے۔ اور ہتھیلیاں بچھا کر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھے۔ اس طور پر کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں قبلہ رخ ہوں اور انگلیوں کا سرا گھٹنوں کے پاس ہو۔ پھر ذرا ٹھہرکہ اﷲ اکبر کہتا ہو ا دوسرا سجدہ کرے۔ یہ سجدہ بھی پہلے کی طرح کرے۔ پھر سر اٹھائے اور دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑا ہوجائے اٹھتے وقت بلا عذر ہاتھ زمین پر نہ ٹیکے۔ یہ ایک رکعت پوری ہو گئی اب پھر بِسْمِ اﷲ  الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ کر الحمد پوری پڑھے



Total Pages: 188

Go To