Book Name:Jannati Zevar

کہتے ہوں ان لفظوں سے تثویب کہنا مستحب ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلوۃ، الباب الثانی، الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ وکیفیتھا، ج۱، ص۵۶)

اقامت : ۔اقامت اذان ہی کے مثل ہے۔ مگر چند باتوں میں فرق ہے۔ اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر کہے جاتے ہیں ۔ اور اقامت کے کلمات کو جلد جلد کہیں ۔ درمیان میں سکتہ نہ کریں ۔ اقامت میں حَیَّ عَلَی الْفَلَا حِ کے بعد دو مرتبہ قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ  بھی کہیں ۔ اذان میں آواز بلند کرنے کا حکم ہے۔ مگر اقامت میں آواز بس اتنی ہی اونچی ہو کہ سب حاضرین مسجد تک آواز پہنچ جائے۔ اقامت میں کانوں کے اندر انگلیاں نہیں ڈالی جائیں گی۔ اذان مسجد کے باہر پڑھنے کا حکم ہے اور اقامت مسجد کے اندر پڑھی جائے گی۔  (الدرالمختار، کتاب الصلوٰۃ، مطلب فی اول من بنی المنائر، ج۲، ص۶۸)

مسئلہ : ۔اگر امام نے اقامت کہی قَدْقَامَتِ الصَّلوٰۃُ کے وقت آگے بڑھ کر مصلّٰی پر چلا جائے۔    (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، باب الثانی، الفصل الثانی، ج۱، ص۵۷)

مسئلہ : ۔اقامت میں بھی حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ ط اور حَیَّ عَلَی الْفَلَا حِ ط کے وقت داہنے بائیں منہ پھیرے۔   (الدرالمختار، کتاب الصلوٰۃ، باب الاذان، ج۲، ص۶۶)

مسئلہ : ۔اقامت ہوتے وقت کوئی شخص آیا تو اسے کھڑے ہو کر انتظار کرنا مکروہ ہے بلکہ اس کو چاہئے کہ بیٹھ جائے اور جب حَیَّ عَلَی الْفَلَا حِ کہا جائے تو اس وقت کھڑا ہو۔ یوں ہی جو لوگ مسجد میں موجود ہیں وہ بھی اقامت کے وقت بیٹھے رہیں ۔ جب حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ مکبر کہے اس وقت سب لوگ کھڑے ہوں ۔ یہی امام کے لئے بھی ہے۔

(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلوۃ، الباب الثانی، الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ وکیفیتھا، ج۱، ص۵۷)

        آج کل اکثر جگہ یہ غلط رواج ہے کہ۔ اقامت کے وقت بلکہ اقامت سے پہلے ہی لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ بلکہ اکثر جگہ تو یہ ہے کہ جب تک امام کھڑا نہ ہو جائے اس وقت تک اقامت نہیں کہی جاتی۔ یہ طریقہ خلاف سنت ہے۔ اس بارے میں بہت سے رسالے اور فتاویٰ بھی چھاپے گئے مگر ضد اور ہٹ دھرمی کا کیا علاج؟ خدا وند کریم مسلمانوں کو سنت پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔

مسئلہ : ۔اقامت کا جواب دینا مستحب ہے۔ اقامت کا جواب بھی اذان ہی کے جواب کی طرح ہے۔ اتنا فرق ہے کہ اقامت میں قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ کے جواب میں اَقَامَھَااﷲ  وَاَدَا مَھَا مَادَامَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرضُ کہے۔ (الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلوۃ، الباب الثانی، الفصل الثانی ، ج۱، ص۵۷)

استقبال قبلہ کے چند مسائل

        پوری نماز میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نماز کی شرط اور ضروری حکم ہے۔ لیکن چند صورتوں میں اگر قبلہ کی طرف منہ نہ کرے پھر بھی نماز جائز ہے۔ مثلاً

مسئلہ : ۔جو شخص دریا میں کسی تختہ پر بہا جا رہا ہو اور اسے صحیح اندیشہ ہو کہ منہ پھیرنے سے ڈوب جائے گا اس طرح کی مجبوری سے وہ قبلہ کی طرف منہ نہیں کر سکتا۔ تو اس کو چاہئے کہ وہ جس رخ بھی نماز پڑھ سکتا ہے پڑھ لے۔ اس کی نماز ہو جائے گی۔ اور بعد میں اس نماز کو دہرانے کی بھی ضرورت نہیں ۔         (الفتاوی الھندیۃ ، الباب الثالث، الفصل الثالث فی استقبال القبلۃ، ج۱، ص۶۳)

مسئلہ : ۔بیمار میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ قبلہ کی طرف منہ کر سکے اور وہاں دوسرا ایسا کوئی آدمی بھی نہیں ہے جو کعبہ کی طرف اس کا منہ کر دے تو اس مجبوری کی حالت میں جس طرف بھی منہ کر کے نماز پڑھ لے گا اس کی نماز ہوجائے گی اور اس نماز کو بعدمیں دہرانے کی بھی ضرورت نہیں ۔       (الفتاوی الھندیۃ ، الباب الثالث، الفصل الثالث فی استقبال القبلۃ، ج۱، ص۶۳)

مسئلہ : ۔چلتی ہوئی کشتی میں اگر نماز پڑھے تو تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز شروع کردے اور جیسے جیسے کشتی گھومتی جائے خود بھی قبلہ کی طرف منہ پھیرتا رہے اگرچہ فرض نماز ہو یا نفل۔ (غنیۃ المستملی، فروع فی شرح الطحاوی، ص۲۲۵)

مسئلہ : ۔اگر یہ نہ معلوم ہو کہ قبلہ کدھر ہے اور وہاں کوئی بتانے والا بھی نہ ہو تو نمازی کو چاہئے کہ اپنے دل میں سوچے اور جدھر قبلہ ہونے پر دل جم جائے اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے۔ اس کے حق میں وہی قبلہ ہے۔           (الفتاوی الھندیۃ ، الباب الثالث، الفصل الثالث فی استقبال القبلۃ، ج۱، ص۶۴)

مسئلہ : ۔جس طرف دل جم گیا تھا ادھر منہ کر کے نماز پڑھ رہا تھا پھر نماز کے درمیان ہی میں اس کی یہ رائے بدل گئی کہ قبلہ دوسری طرف ہے یا اس کو اپنی غلطی معلوم ہوگئی تو اس پر فرض ہے کہ فوراً ہی اس طرف گھوم جائے اور پہلے جتنی رکعتیں پڑھ چکا ہے اس میں کوئی خرابی نہیں آئے گی اسی طرح اگر نماز میں اس کو چاروں طرف بھی گھومنا پڑا پھر بھی اس کی نماز ہو جائے گی۔ اور اگر رائے بدلتے ہی یا غلطی ظاہر ہوتے ہی دوسری طرف نہیں گھوما۔ اور تین مرتبہ سبحان اﷲ  کہنے کے برابر دیر لگادی تو اس کی نماز نہ ہوگی۔

 (ردالمحتار مع الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، مطلب مسائل التحری فی القبلۃ، ج۲، ص۱۴۴)

مسئلہ : ۔نمازی نے اگر بلا عذر قصداً جان بوجھ کر قبلہ سے سینہ پھیر دیا تو اگرچہ فوراً ہی اس نے قبلہ کی طرف سینہ پھرا لیا پھر بھی اس کی نماز ٹوٹ گئی اور وہ پھر سے نماز پڑھے۔

 (صغیری شرح منیۃ المصلی، شرائط الصلاۃ، الشرط الرابع، ص۱۲۵)

اور اگر نماز میں بلا قصد و ارادہ قبلہ سے سینہ پھر گیا اور فوراً ہی اس نے قبلہ کی طرف سینہ کر لیا تو اس کی نماز ہوگئی۔ (البحرالرائق، کتاب الصلوۃ، باب شروط الصلوۃ، ج۱، ص۴۹۷)

مسئلہ : ۔اگر صرف منہ قبلہ سے پھیر لیا اور سینہ قبلہ سے نہیں پھرا تو اس پر واجب ہے کہ فوراً ہی وہ قبلہ کی طرف منہ کرے اس کی نماز ہو جائے گی مگر بلا عذر ایک سیکنڈ کیلئے بھی قبلہ سے چہرہ پھیر لینا مکروہ ہے۔ (صغیری شرح منیۃ المصلی، شرائط الصلاۃ، الشرط الرابع، ص۱۲۶)

مسئلہ : ۔اگر نمازی نے قبلہ سے سینہ پھیرا نہ چہرہ پھیرا بلکہ صرف آنکھوں کو پھرا پھراکر ادھر ادھر دیکھ لیا تو اس کی نماز ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔ (