Book Name:Jannati Zevar

علاوہ دوسرے تمام اذکار و وظائف پڑھنا جائز و درست بلکہ مستحب ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس، ج۱، ص۳۸)

معذور کا بیان : ۔جس شخص کو کوئی ایسی بیماری ہوجیسے پیشاب کے قطرے ٹپکنے یا دست آنے۔ یا استحاضہ کا خون آنے کے امراض کہ ایک نماز کا پورا وقت گزر گیا۔ اور وہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہ کر سکا۔ تو ایسے شخص کو شریعت میں معذور کہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لئے شریعت کا یہ حکم ہے کہ جب کسی نماز کا وقت آجائے تو معذور لوگ وضو کریں اور اسی وضو سے جتنی نمازیں چاہیں پڑھتے رہیں ۔ اس درمیان میں اگر چہ بار بار قطرہ وغیرہ آتا ہے۔ مگر ان لوگوں کا وضو اس وقت تک نہیں ٹوٹے گا جب تک کہ اس نماز کا وقت باقی رہے۔ اور جیسے ہی نماز کا وقت ختم ہو گیا ان لوگوں کا وضو ٹوٹ جائے گا اور دوسری نماز کے لئے پھر دوسرا وضو کرنا پڑے گا۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب السادس، ومما یتصل بذلک احکام المعذور، ج۱، ص۴۰۔۴۱)   

مسئلہ : ۔جب کوئی شخص شریعت میں معذور مان لیا گیا تو جب تک ہر نماز کے وقت ایک بار بھی اس کا عذر پایا جاتا رہے گا وہ معذور ہی رہے گا جب اس کو اتنی شفا حاصل ہو جائے کہ ایک نماز کا پورا وقت گزر جائے اور اس کو ایک مرتبہ بھی قطرہ وغیرہ نہ آئے تو اب یہ شخص معذور نہیں مانا جائے گا۔  (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب السادس، ومما یتصل بذلک احکام المعذور، ج۱، ص۴۱)

مسئلہ : ۔معذور کا وضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب سے معذور ہے لیکن اگر کوئی وضو توڑنے والی دوسری چیز پائی گئی تو اس کا وضو جاتا رہے گا۔ جیسے کسی کو قطرے کا مرض ہے اور وہ معذور مان لیا گیا۔ تو نماز کے پورے وقت میں قطرہ آنے سے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ لیکن ہوا نکلنے سے اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ (بہار شریعت، ج۱، ح۲، ص۹۴)

مسئلہ : ۔اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے میں قطرہ آجاتا ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں قطرہ نہیں آتا تو اس پر فرض ہے کہ نماز بیٹھ کر پڑھا کرے اور وہ معذور نہیں شمار کیا جائے گا ۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب السادس، ومما یتصل بذلک احکام المعذور، ج۱، ص۴۱)

نماز کے وقتوں کا بیان

        دن رات میں کل پانچ نمازیں فرض ہیں ۔ فجر‘ ظہر‘ عصر‘ مغرب‘ عشاء ان پانچوں نمازوں کا اﷲ   تَعَالٰی کی طرف سے وقت مقرر ہے۔اورجس نماز کا جو وقت مقرر ہے اس نماز کو وقت میں پڑھنا فرض ہے ۔ وقت نکل جانے کے بعد نماز قضا ہوجاتی ہے ۔

        اب ہم نمازوں کے وقتوں کا بیان کرتے ہیں کہ کس نماز کا وقت کب سے شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہو جاتا ہے۔

فجر کا وقت : ۔صبح صادق سے شروع ہو کر سورج نکلنے تک ہے اس درمیان جب چاہیں فجر کی نماز پڑھ لیں ۔ لیکن مستحب یہ ہے کہ فجر کی نماز اتنا اجالا ہو جانے کے بعد پڑھیں کہ مسجد کے نمازی ایک دوسرے کو دیکھ کر پہچان لیں ۔ صبح صادق ایک روشنی ہے جو سورج نکلنے سے پہلے آسمان کے پوربی کناروں میں ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ یہ روشنی پورے آسمان پر پھیل جاتی ہے اور اجالا ہو جاتا ہے۔ صبح صادق کی روشنی ظاہر ہوتے ہی سحری کا وقت ختم نماز فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ صبح صادق جاڑوں میں تقریباً سوا گھنٹہ اور گرمیوں میں لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ سورج نکلنے سے پہلے ظاہر ہوتی ہے ۔     (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱، ص۵۱)

ظہر کا وقت : ۔سورج ڈھلنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور ٹھیک دوپہر کیوقت کسی چیز کا جتنا سا یہ ہو تا ہے اس سایہ کے علاوہ اس چیز کا سایہ دوگنا ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ ظہر کے وقت میں مستحب یہ ہے کہ جاڑوں میں اول وقت اور گرمیوں میں دیر کر کے نماز ظہر پڑھیں ۔     (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱، ص۵۱)

فائدہ : ۔سورج ڈھلنے اور دوپہر کے سایہ کے علاوہ سایہ دوگنا ہونے کی پہچان یہ ہے کہ برابر زمین پر ایک ہموار لکڑی بالکل سیدھی گاڑ دیں کہ پورب پچھم یا اتر دکھن کو ذرا بھی جھکی نہ ہو۔ اب خیال رکھو کہ جتنا سورج اونچا ہوتا جائے اس لکڑی کا سایہ کم اور چھوٹا ہوتا جائے گا۔ جب سایہ کم ہونا رک جائے تو سمجھ لو کہ ٹھیک دوپہر ہو گئی اوراس وقت میں اس لکڑی کا جتنا بڑاسایہ ہو اس کو ناپ کر دھیان میں رکھو۔ اس کے بعد جوں ہی سایہ بڑھنے لگے تو سمجھ لو کہ سورج ڈھل گیا اور ظہر کا وقت شروع ہو گیا اور جب سایہ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑا ہوجائے کہ دوپہر والے سایہ کو نکال کر اس لکڑی کا سایہ اس لکڑی سے دوگنا بڑا ہو جائے تو سمجھ لو کہ ظہر کا وقت نکل گیا اور عصر کا وقت شروع ہو گیا۔  (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱، ص۵۱)

        جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا وقت ہے۔        (البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، ج۲، ص۲۵۶)

عصر کا وقت : ۔ظہر کا وقت ختم ہوتے ہی عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور سورج ڈوبنے تک رہتا ہے۔     (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱، ص۵۱)

جاڑوں میں عصر کا وقت تقریباً ڈیڑھ گھنٹے لمبا رہتا ہے اور گرمیوں میں قریب قریب دو گھنٹے (کچھ کم زیادہ مختلف تاریخوں میں ) رہتا ہے‘ عصر کی نماز میں ہمیشہ تاخیر مستحب ہے۔ لیکن نہ اتنی تاخیر کہ سورج کی ٹکیا میں زردی آجائے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الثانی، ج۱، ص۵۲)

مغرب کا وقت : ۔سورج ڈوبنے کے بعد سے مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور شفق غائب ہونے تک رہتا ہے۔      (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱، ص۵۱)

         شفق سے مراد وہ سپیدی ہے جو سورج ڈوبنے کی سرخی کے بعد پچھم میں صبح صادق کی سپیدی کی طرح اتر دکھن میں پھیلی رہتی ہے مغرب کے وقت کی لمبائی ہمارے دیار میں کم سے کم سوا گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹہ تقریباً ہوا کرتی ہے۔ اور ہر روز جتنا لمبا فجر کا وقت ہوتا ہے اتنا ہی لمبا مغرب کا وقت بھی ہوتا ہے۔ (شرح وقایہ، کتاب الصلوۃ، باب اوقات الصلوات الخمس، ج۱، ص۱۴۷) 

عشاء کا وقت : ۔شفق کی سپیدی غائب ہونے کے بعد سے صبح صادق کی سپیدی ظاہر ہونے تک ہے لیکن عشاء میں تہائی رات تک تاخیر کرنی مستحب ہے اور آدھی رات تک مباح ہے۔ اور آدھی رات کے بعد عشاء کی نماز پڑھنی مکروہ ہے۔ (البحرالرائق