Book Name:Jannati Zevar

کرسکتے کیونکہ تیمم ایسی زمین سے کرنا جائز ہے جس پر کبھی بھی نجاست نہ پڑی ہو۔ (الدرالمختار، کتاب الطہارۃ ، باب الانجاس، ج۱، ص۵۶۳)

مسئلہ : ۔ناپاک مٹی سے برتن بنائے تو جب تک کچے ہیں ناپاک ہیں ۔ بعد پختہ کر لینے کے  پاک ہوگئے۔ (الدرالمختار، کتاب الطہارۃ ، باب الانجاس، ج۱، ص۵۷۱)

مسئلہ : ۔جو چیز سوکھنے یا رگڑنے سے پاک ہوگئی اس کے بعد بھیگ گئی تو ناپاک نہ ہوگی۔ مثلاً زمین پر پیشاب پڑ گیا پھر زمین سوکھ گئی اور نجاست کا اثر زائل ہوگیا اور وہ زمین پاک ہوگئی۔ اب اگر وہ زمین بھیگ گئی تو ناپاک نہیں ہوگی۔ یوں ہی اگر چھری خون لگنے سے ناپاک ہوگئی اور چھری کو زمین پر خوب رگڑ رگڑ کر خون کا اثر زائل کر دیا تو چھری پاک ہوگئی اب اگر وہ چھری بھیگ گئی تو ناپاک نہیں ہوگی۔ (بہارشریعت، ج۱، ح۲، ص۱۰۷)

مسئلہ : ۔جو زمین گوبر سے لیپی گئی اگر چہ سوکھ گئی ہو اس پر نماز جائز نہیں ۔ ہاں اگر وہ سوکھ گئی اور اس پر کوئی موٹا کپڑا بچھایا تو اس کپڑے پر نماز پڑھ سکتے ہیں اگرچہ کپڑے میں تری ہو مگر اتنی تری نہ ہو کہ زمین بھیگ کر اس کو تر کر دے کہ اس صورت میں یہ کپڑا نجس ہو جائے گا اور نماز نہ ہوگی۔ (بہار شریعت، ج۱، ح۲، ص۱۰۹)

حیض و نفاس و جنابت کا بیان

        بالغہ عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادت کے طور پر نکلتا ہے اور بیماری او ربچہ پیدا ہونے کے سبب سے نہ ہو اس کو حیض کہتے ہیں ۔ اور جو خون بیماری کی وجہ سے آئے۔ اس کو استحاضہ کہتے ہیں ۔اور بچہ ہونے کے بعد جو خون آتا ہے وہ نفاس کہلاتا ہے۔      (نورالایضاح، کتاب الطہارت، باب الحیض والنفاس۔۔۔إلخ، ص۴۱)

مسئلہ : ۔حیض کی مدت کم سے کم تین دن اور تین راتیں یعنی پورے بہتر گھنٹے ہے جو خون اس سے کم مدت میں بند ہو گیا وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے اور حیض کی مدت زیادہ سے زیادہ دس دن اور دس راتیں ہیں اگر دس دن اور دس رات سے زیادہ خون آیا تو اگر یہ حیض پہلی مرتبہ اسے آیا ہے تو دس دن تک حیض مانا جائے گا اس کے بعد استحاضہ ہے اور اگر پہلے اس عورت کو حیض آچکے ہیں اور اس کی عادت دس دن سے کم تھی تو عادت سے جتنا زیادہ ہوا وہ استحاضہ ہے مثال کے طور پر یہ سمجھو کہ اس کو ہر مہینے میں پانچ دن حیض آنے کی عادت تھی اب کی مرتبہ دس دن آیا تو دس دن حیض ہے اور اگر بارہ دن خون آیا تو عادت والے پانچ دن حیض کے مانے جائیں گے اور سات دن استحاضہ کے اور اگر ایک حالت مقرر نہ تھی بلکہ کبھی چار دن کبھی پانچ دن حیض آیا کرتا تھا تو پچھلی مرتبہ جتنے دن حیض کے تھے وہی اب بھی حیض کے مانے جائیں گے۔ اور باقی استحاضہ مانا جائے گا۔(الدرالمختار، کتاب الطہارۃ ، باب فی الحیض، ج۱، ص۵۲۳)

مسئلہ : ۔کم سے کم نو برس کی عمر سے عورت کو حیض شروع ہوگا۔ اور حیض آنے کی انتہائی عمر پچپن سال ہے۔ اس عمر والی عورت کو آئسہ (حیض و اولاد سے نا امید ہونے والی) کہتے ہیں ۔ نو برس کی عمر سے پہلے جو خون آئے گا وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے یوں ہی پچپن برس کی عمر کے بعد جو آئے گا وہ بھی استحاضہ ہے۔ لیکن  اگر کسی عورت کو پچپن برس کی عمر کے بعد بھی خالص خون بالکل ایسے ہی رنگ کا آیا جیسا کہ حیض کے زمانے میں آیا کرتا تھا تو اس کو حیض مان لیا جائے گا۔ (الدرالمختار، کتاب الطہارۃ ، باب فی الحیض، ج۱، ص۵۲۴)

مسئلہ : ۔حمل والی عورت کو جو خون آیا وہ استحاضہ ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الطہارۃ ، باب فی الحیض، ج۱، ص۵۲۴)

مسئلہ : ۔دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پورے پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے یوں ہی نفاس اور حیض کے درمیان بھی پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے تو اگر نفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ خون آگیا تو یہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔  (الدرالمختار، کتاب الطہارۃ ، باب فی الحیض، ج۱، ص۵۲۴)

مسئلہ : ۔حیض کے چھ رنگ ہیں ۔ (۱)سیاہ (۲)سرخ(۳) سبز(۴)زرد (۵)گدلا (۶)مٹیالا‘ خالص سفید رنگ کی رطوبت حیض نہیں ۔ (ردالمحتار، کتاب الطہارۃ ، باب فی الحیض، ج۱، ص۵۳۰)

مسئلہ : ۔نفاس کی کم سے کم کوئی مدت مقرر نہیں ہے بچہ پیدا ہونے کے بعد آدھ گھنٹہ بعد بھی خون آیا تو وہ نفاس ہے اور نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن رات ہے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ ، الفصل الثانی فی النفاس ، ج۱، ص۳۷ وفتح القدیر، کتاب الطہارۃ، باب فصل فی النفاس، ج۱، ص۱۸۸۔۱۹۰)

مسئلہ : ۔کسی عورت کو چالیس دن سے زیادہ خون آیا تو اگر عورت کے پہلی ہی بار بچہ پیدا ہوا ہے۔ یا یہ یاد نہیں کہ اس سے پہلے بچہ پیدا ہونے میں کتنے دن خون آیا تھا تو چالیس دن رات نفاس ہے۔ باقی استحاضہ اور جو پہلی عادت معلوم ہو تو عادت کے دنوں میں نفاس ہے اور جو اس سے زیادہ ہے وہ استحاضہ ہے جیسے تیس دن نفاس کا خون آنے کی عادت تھی مگر اب کی مرتبہ پینتالیس دن خون آیا تو تیس دن نفاس کے مانے جائیں گے اور پندرہ دن استحاضہ کے ہوں گے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ ، الفصل الثانی فی النفاس ، ج۱، ص۳۷)

حیض و نفاس کے احکام : ۔حیض و نفاس کی حالت میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا حرام ہے۔ ان دونوں میں نمازیں معاف ہیں ان کی قضا بھی نہیں ۔ البتہ روزوں کی قضادوسرے دنوں میں رکھنا فرض ہے اور حیض و نفاس والی عورت کو قرآن مجید پڑھنا حرام ہے خواہ دیکھ کر پڑھے یا زبانی پڑھے۔ یوں ہی قرآن مجید کا چھونا بھی حرام ہے۔ ہاں اگر جزدان میں قرآن مجید ہو تو اس جزدان کو چھونے میں کوئی حرج نہیں ۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ ، الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱، ص۳۸)

مسئلہ : ۔قرآن مجید پڑھنے کے علاوہ دوسرے تمام و ظائف کلمہ شریف درود شریف وغیرہ حیض ونفاس کی حالت میں عورت بلا کراہت پڑھ سکتی ہے بلکہ مستحب ہے کہ نمازوں کے اوقات میں وضو کر کے اتنی دیر تک درود شریف اور دوسرے وظائف پڑھ لیا کرے جتنی دیر میں نماز پڑھ سکتی تھی تاکہ عادت باقی رہے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ ، الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، ج۱، ص۳۸)

مسئلہ : ۔حیض و نفاس کی حالت میں ہمبستری یعنی جماع حرام ہے۔ بلکہ اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن کو مرد اپنے کسی عضو سے نہ چھوئے کہ یہ بھی حرام ہے ہاں البتہ ناف سے اوپر اور گھٹنا کے نی



Total Pages: 188

Go To