Book Name:Jannati Zevar

اگر اس سے وضو کرلیا تو وضو ہو جائے گا اور گنہگار ہو گا۔ یہاں سے معلمین کو سبق لینا چاہئے کہ وہ اکثر نا بالغ بچوں سے پانی بھروا کر اپنے کام میں لایا کرتے ہیں ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ نابالغ کا ہبہ صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح کسی بالغ کا بھرا ہوا پانی بھی بغیر اس کی اجازت کے خرچ کرنا حرام ہے۔ (بہار شریعت، ج۱، ح۲، ص۵۰/فتاوی رضویہ، ج۲، ص۴۹۴)

جانوروں کے جوٹھے کا بیان

        آدمی اور جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کا جوٹھا پاک ہے جیسے بھیڑ‘ بکری‘گائے‘ بھینس‘ کبوتر‘ فاختہ وغیرہ۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ، ج۱، ص۲۳)

   جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا جیسے سور‘ کتا‘ شیر‘ چیتا‘ بھیڑیا‘ گیدڑ‘ ہاتھی بندر اور تمام شکاری چوپائے ان سبھوں کا جھوٹا ناپاک ہے۔

 (درمختار مع ردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب فی السؤر، ج۱، ص۴۲۵)

    گھروں اور بلوں میں رہنے والے جانور مثلاً بلی‘ نیولا‘ چوہا‘ سانپ‘ چھپکلی اور شکاری پرندے جیسے چیل‘ کوا ‘ شکرا‘ باز وغیرہ اور وہ مرغی جو ادھر ادھر پھرتی اور نجاستوں پر منہ ڈالتی ہو اور گائے بھینس جو غلیظ کھاتی ہو ان سب کا جھوٹا مکروہ ہے۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ، ج۱، ص۲۳.۲۴)

        گدھے اور خچر کا جھوٹا مشکوک ہے یعنی اس کے قابل وضو ہونے میں شک ہے لہٰذا اس سے وضو اور غسل نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر گدھے خچر کے جھوٹے کے سوا کوئی دوسرا پانی موجود ہی نہ ہو اور نماز کا وقت آگیا تو چاہئے کہ اسی پانی سے وضو کرے اور پھر تیمم کر کے نماز پڑھ لے اگر صرف وضو کیا اور تیمم نہیں کیا۔ یا صرف تیمم کیا اور وضو نہیں کیا تو نماز نہ ہوگی گھوڑے کا جھوٹا پاک ہے۔ اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ، ج۱، ص۲۳۔۲۴)

مسئلہ : ۔جس جانور کا جھوٹا ناپاک ہے اس کا پسینہ اور لعاب بھی ناپاک ہے اور جس جانور کا جھوٹا مکروہ ہے اس کا پسینہ اور لعاب بھی مکروہ ہے اور جس کا جھوٹا پاک ہے اس کا پسینہ اور لعاب بھی پاک ہے۔   (ردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب ست تورث النسیان، ج۱، ص۴۳۲)

مسئلہ : ۔گدھے اور خچر کا پسینہ اگر کپڑے میں لگ جائے تو کپڑا پاک ہے چاہے کتنا ہی زیادہ لگا ہو۔(ردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب ست تورث النسیان، ج۱، ص۴۳۳)

مسئلہ : ۔پانی میں رہنے والے تمام جانوروں کا جھوٹا پاک ہے خواہ ان کی پیدائش پانی میں ہو جیسے مچھلی وغیرہ یا خشکی میں ہو جیسے کچھوا‘ کیکڑا وغیرہ۔  (بہارشریعت، ج۱، ح۲، ص۹۹)

مسئلہ : ۔کسی کے منہ سے اتنا خون نکلا کہ تھوک میں سرخی آگئی اور اس نے فوراً پانی پیا تو یہ جھوٹا پانی اور برتن دونوں ناپاک ہو گئے۔ یوں ہی کسی نے شراب پی کر فوراً پانی پیا۔ تو اس کا جھوٹا پانی نجس ہو گیا اور برتن بھی ناپاک ہوگیا۔ (بہارشریعت، ج۱، ح۲، ص۵۵)

مسئلہ : ۔شرابی کی مونچھیں اگر بڑی ہوں کہ شراب مونچھوں میں لگی ہو تو جب تک وہ مونچھوں کو پاک نہ کرے جو پانی پئے گا وہ پانی اور برتن دونوں ناپاک ہو جائیں گے۔

    (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی، ج۱، ص۲۳)

کنوئیں کے مسائل

        کنوئیں میں کسی آدمی یا جانور کا پاخانہ، پیشاب یا مرغی یا بطخ کی بیٹ یا خون یا تاڑی شراب وغیرہ کسی نجاست کا ایک قطرہ بھی گر پڑے یا کوئی بھی ناپاک چیز کنوئیں میں پڑ جائے تو کنواں ناپاک ہو جائے گا اس کا کل پانی نکالا جائے گا۔              (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر، ج۱، ص۴۰۷۔۴۰۹)

مسئلہ : ۔اگر کنوئیں میں آدمی، گائے، بھینس، بکری یا اتنا ہی بڑا کوئی جانور گر کر مر جائے یا چھوٹے سے چھوٹا بہنے والے خون والا جانور کنوئیں میں مر کر پھول پھٹ جائے یا ایسا جانور جس کا جھوٹا ناپاک ہے کنوئیں میں گر پڑے اگرچہ زندہ نکل آئے جیسے سور، کتا تو ان سب صورتوں میں کنواں ناپاک ہو جائے گا اور کل پانی نکالا جائے گا۔

(الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر، ج۱، ص۴۰۷۔۴۱۰ والفتاوی القاضی خان ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی مایقع فی البئر، ج۱، ص۵)

مسئلہ : ۔ اگر بلی یا مرغی یا اتنا ہی جانور کنویں میں گر کر مر جائے اورپھولنے پھٹنے سے پہلے نکال لیا جائے تو چالیس ڈول پانی نکالنا واجب اورساٹھ ڈول پانی نکال دینا مستحب ہے اتنا پانی نکال دینے سے کنواں پاک ہوجائے گا۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث، الفصل الاول، النوع الثالث ماء الآبار، ج۱، ص۱۹)

مسئلہ : ۔اگر چوہا، چھپکلی، گرگٹ یا ان کے برابریا ان سے چھوٹا جانور کنوئیں میں گر کر مرجائے ا ور پھولنے پھٹنے سے پہلے نکال لیا جائے تو بیس ڈول پانی نکالنا واجب اور تیس ڈول پانی نکال دینا مستحب ہے اس کے بعد کنواں پاک ہو جائے گا۔            (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر، ج۱، ص۴۱۱)   

مسئلہ : ۔جن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے جیسے بکری‘ گائے‘ بھینس وغیرہ ان میں سے اگر کوئی کنوئیں میں گر پڑے اور زندہ نکل آئے اور ان کے جسم پر کسی نجاست کا لگا ہونا معلوم نہ ہو تو کنواں پاک ہے لیکن احتیاطاً بیس ڈول پانی نکال ڈالیں ۔       (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الطہارۃ،