Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔اگر وضو کرنے کی حالت میں کسی عضو کے دھونے میں شک ہوا اور یہ زندگی کا پہلا واقعہ ہے تو اس عضو کو دھو لے اور اگر اس قسم کا شک پڑا کرتا ہے تو اس کی طرف کوئی توجہ نہ کرے۔ یوں ہی اگر وضو پورا ہو جانے کے بعد شک پڑ جائے تو اس کا کچھ خیال نہ کرے۔(الدرالمختار، کتاب الطہارۃ، مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف...الخ، ج۱، ص۳۰۹۔۳۱۰)

مسئلہ : ۔جو باوضو تھا اب اسے شک ہے کہ وضو ہے یا ٹوٹ گیا تو اس کو وضو کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہاں وضو کرلینا بہتر ہے جبکہ یہ شبہ بطور وسوسہ نہ ہوا کرتا ہو اور اگر وسوسہ سے ایسا شبہ ہو جایا کرتا ہو تو اس شبہ کو ہر گز نہ مانے۔ اس صورت میں احتیاط سمجھ کر وضو کرنا احتیاط نہیں بلکہ وسوسہ کی اطاعت ہے۔            (الدرالمختار، کتاب الطہارۃ، مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف...الخ، ج۱، ص۳۰۹۔۳۱۰)

مسئلہ : ۔اگر بے وضو تھا۔ اب اسے شک ہے کہ میں نے وضو کیا یا نہیں تو وہ یقیناً بلا وضو ہے۔اس کو وضو کرنا ضروری ہے۔   ( الدرالمختار، کتاب الطہارۃ، مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف...الخ، ، ج۱، ص۳۱۰)

مسئلہ : ۔یہ یاد ہے کہ وضو میں کوئی عضو دھونے سے رہ گیا مگر معلوم نہیں کہ وہ کونسا عضو تھا تو بایاں پاؤں دھولے۔ (ردالمحتار، کتاب الطہارۃ، باب ارکان الوضوء اربعۃ، ج۱، ص۳۱۰)

   

مسئلہ : ۔شیر خوار بچے نے قے کی اور دودھ ڈال دیا اگر وہ منہ بھر قے ہے نجس ہے درہم سے زیادہ جگہ میں جس چیز کو لگ جائے ناپاک کردے گا لیکن اگر یہ دودھ معدہ سے نہیں آیا بلکہ سینہ تک پہنچ کر پلٹ آیا ہے تو پاک ہے۔           (ردالمحتار مع درمختار، کتاب الطہارۃ، مطلب نواقض الوضوئ، ج۱، ص۲۹۰)

مسئلہ : ۔سوتے میں جو رال منہ سے گرے اگر چہ پیٹ سے آئے‘ اگر چہ وہ بدبودار ہو پاک ہے۔            (درمختار، کتاب الطہارۃ، مطلب نواقض الوضو ء، ج۱، ص۲۹۰)

مسئلہ : ۔مُردے کے منہ سے جو پانی بہے ناپاک ہے۔  (درمختار، کتاب الطہارۃ، مطلب نواقض الوضوئ، ج۱، ص۲۹۰))

مسئلہ : ۔منہ سے اتنا خون نکلا کہ تھوک سرخ ہوگیا۔ اگر لوٹے یا کٹورے کو منہ لگا کر کلی کو پانی لیا۔ تو لوٹا‘ کٹورا اور کل پانی نجس ہو جائے گا چلو سے پانی لے کر کلی کرے اور پھر ہاتھ دھو کر کلی کے لئے پانی لے۔            (درمختاروردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب نواقض الوضوئ، ج۱، ص۲۹۱)

غسل کے مسائل

        غسل میں تین چیزیں فرض ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک کو چھوڑ دیا یا ان میں سے کسی میں کوئی کمی کردی تو غسل نہیں ہوگا۔       

 (درمختاروردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب فی ابحاث الغسل ، ج۱، ص۳۱۱)

(۱)کلی : ۔کہ منہ کے پرزے پرزے میں پانی پہنچ جائے فرض ہے یعنی ہونٹ سے حلق کی جڑ تک پورے تالو‘ دانتوں کی جڑ‘ زبان کے نیچے‘ زبان کی کروٹیں غرض منہ کے اندر کے پرزے پرزے کے ذرے ذرے میں پانی پہنچ کر بہہ جائے۔ اکثر لوگ یہ جانتے ہیں کہ تھوڑا سا پانی منہ میں ڈال کر اگل دینے کو کلی کہتے ہیں ۔ یاد رکھو کہ غسل میں اس طرح کلی کر لینے سے غسل نہیں ہوگا بلکہ غسل میں فرض ہے کہ بھر منہ میں پانی لے کر خوب زیادہ منہ کو حرکت دے تاکہ منہ کے اندر ہر ہر حصہ میں پانی پہنچ جائے۔ اگر روزہ دار نہ ہو تو غسل کی کلی میں غرغرہ بھی کرے ہاں روزہ کی حالت میں غرغرہ نہ کرے کہ حلق کے اندر پانی چلے جانے کا خطرہ ہے۔     (درمختاروردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب فی ابحاث الغسل ، ج۱، ص۳۱۲)

(۲)ناک میں پانی چڑھانا : ۔غسل میں اس طرح ناک میں پانی چڑھانا فرض ہے کہ سانس اوپر کو کھینچ کر ناک کے نتھنوں میں جہاں تک نرم حصہ ہے اس کے اندر پانی چڑھائے کہ نتھنوں کے اندر ہر جگہ اور ہر طرف پانی پہنچ کر بہہ جائے اور ناک کے اندر کی کھال یا ایک بال بھی سوکھا نہ رہ جائے ورنہ غسل نہیں ہوگا۔          (درمختاروردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب فی ابحاث الغسل ، ج۱، ص۳۱۲)

(۳)تمام بدن پر پانی بہانا : ۔یعنی سر کے بالوں سے پاؤں کے تلوؤں تک بدن کے آگے پیچھے دائیں بائیں ‘ اوپر نیچے‘ ہر ہر ذرے ‘ہر ہر رونگٹے اور ہر ایک بال کے پورے پورے حصہ پر پانی بہانا غسل میں فرض ہے بعض لوگ سر پر پانی ڈال کر بدن پرادھر ادھر ہاتھ پھرا لیتے ہیں ۔ اور پانی بدن پر پوت لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ غسل ہو گیا۔ حالانکہ بدن کے بہت سے ایسے حصے ہیں کہ اگر احتیاط کے ساتھ غسل میں ان کا دھیان نہ رکھا جائے تو وہاں پانی نہیں پہنچتا۔ اور وہ سوکھا ہی رہ جاتا ہے۔ یاد رکھو کہ اس طرح نہانے سے غسل نہیں ہوگا اور آدمی نماز پڑھنے کے قابل نہیں ہوگا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ غسل کرتے وقت خاص طور پر ان چند جگہوں پر پانی پہنچانے کا دھیان رکھیں ۔ سر اور داڑھی مونچھ بھوؤں کے ایک ایک بال اور بدن کے ہر ہر رونگٹے کی جڑ سے نوک تک دھل جانے کا خیال رکھیں ۔ اسی طرح کان کا جو حصہ نظر آتا ہے اس کی گراریوں اور سوراخ۔ اسی طرح ٹھوڑی اور گلے کا جوڑ۔ پیٹ کی بلٹیں ۔ بغلیں ناف کے غار‘ ران اور پیڑو کا جوڑ‘ جنگاسا؛ دونوں سرینوں کے ملنے کی جگہ‘ ذکر اور خصیوں کے ملنے کی جگہ‘ خصیوں کے نیچے کی جگہ‘ عورت کے ڈھلکے ہو ئے پستان کے نیچے کا حصہ‘ عورت کی شرمگاہ کا ہر حصہ ان سب کو خیال سے پانی بہا بہا کر دھوئیں تاکہ ہر جگہ پانی پہنچ کر بہہ جائے۔(درمختاروردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب فی ابحاث الغسل ، ج۱، ص۳۱۲/ بہارشریعت، ج۱، ح۲، ص۳۵)

غسل کا طریقہ : ۔غسل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نیت یعنی دل میں نہانے کا ارادہ کرکے پہلے گٹوں تک دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے پھر استنجا کی جگہ کو دھوئے خواہ نجاست لگی ہو یا نہ ہو۔ پھر بدن پر اگر کہیں نجاست لگی ہو تو اس کو بھی دھوئے اس کے بعد وضو کرے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں خوب مبالغہ کرے۔ پھر ہاتھ سے پانی لے لے کر سارے بدن پر ہاتھ پھرا پھرا کر بدن کو ملے خصوصاً جاڑوں میں تاکہ بدن کا کوئی حصہ پانی بہنے سے نہ رہ جائے پھر داہنے کندھے پر تین بار پانی بہائے پھر تین بار بائیں کندھے پر پانی بہائے پھر سر پر اور پورے بدن پر تین بار پانی بہائے اور تمام بدن کے ہر ہر حصہ کو خوب مل مل کر دھوئے اور اچھی طرح دھیان رکھے کہ کہیں ذرہ برابر بدن کی کھال یا کوئی رونگٹا اور بال پانی بہنے سے نہ رہ جائے۔ (فتاوی رضویہ، ج۱، ص۴۴۸۔۴۵۰)

ضروری تنبیہ : ۔بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں کہ نجس تہبند باندھ کر غسل کرتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ نہانے میں ناپاک تہبند اور بدن سب پاک ہو جائے گا حالانکہ ایسا نہیں بلکہ پانی ڈال کر تہبند اور بدن پر ہاتھ پھیرنے سے تہبند کی نجاست اور زیادہ پھیلتی ہے اور سارے بدن بلکہ نہانے کے برتن تک کو نجس کر دیتی ہے اس لئے نہانے میں لازم ہے کہ پہلے بدن کو اور اس کپڑے کو جس کو پہن کر نہاتے ہیں دھو کر پاک کر لیں ورنہ غسل تو کیا ہوگا اس تر ہاتھ سے جن چیزوں کو چھوئیں گے وہ بھی ناپاک ہو جائیں گی۔ اور سارا بدن اور تہبند بھی



Total Pages: 188

Go To