Book Name:Jannati Zevar

کرلینا۔ پانی پر چلنا۔ ہواؤں میں اڑنا۔ دور دور کی چیزوں کو دیکھ لینا۔      (شرح العقائدالنسفی، مبحث کرامات الاولیاء حق ، ص۱۴۵۔۱۴۷)

مفصل بیان کے لئے پڑھو ہماری کتاب ’’کرامات صحابہ‘‘ علیھم الرضوان۔

عقیدہ : ۴اولیائے کرام کو دورو نزدیک سے پکارنا جائز اور سلف صالحین کا طریقہ ہے۔

عقیدہ : ۵اولیائے کرام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور ان کا علم اور ان کا دیکھنا ان کا سننا دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی ہوتا ہے۔

عقیدہ : ۶اولیائے کرام کے مزارات پر حاضری مسلمانوں کے لئے باعث سعادت و برکت ہے اور ان کی نیاز وفاتحہ اور ایصال ثواب مستحب اور خیر و برکت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اولیائے کرام کا عرس کرنا یعنی لوگوں کا ان کے مزاروں پر جمع ہو کر قرآن خوانی و فاتحہ خوانی و نعت خوانی و وعظ و ایصال ثواب یہ سب اچھے اور ثواب کے کام ہیں ۔ ہاں البتہ عرسوں میں جو خلاف شریعت کام ہونے لگے ہیں ۔ مثلاً قبروں کو سجدہ کرنا‘ عورتوں کا بے پردہ ہو کر مردوں کے مجمع میں گھومتے پھرنا‘ عورتوں کاننگے سر مزاروں کے پاس جھومنا‘ چلانا اور سر پٹک پٹک کر کھیلنا کودنا۔ اور مردوں کا تماشا دیکھنا‘ باجا بجانا‘ ناچ کرانا یہ سب خرافات ہر حالت میں مذموم و ممنوع ہیں ۔ اور ہر جگہ ممنوع ہیں اور بزرگوں کے مزاروں کے پاس اور زیادہ مذموم ہیں لیکن ان خرافات و ممنوعات کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بزرگوں کا عرس حرام ہے جو حرام اور ممنوع کام ہیں ان کو روکنا لازم ہے۔ ناک پر اگر مکھی بیٹھ گئی ہے تو مکھی کو اڑا دینا چاہیے ناک کاٹ کر نہیں پھینک دینا چاہیے۔ اسی طرح اگر جاہلوں اور فاسقوں نے عرس میں کچھ حرام کام اور ممنوع کاموں کو شامل کردیا ہے تو ان حرام و ممنوع کاموں کو روکا جائے عرس ہی کو حرام نہیں کہہ دیا جائے گا۔

پیری مریدی : ۔علماء اور مشائخ سے مرید ہونااور ان کے ہاتھوں پر توبہ کر کے نیک اعمال کرنے کا عہد کرنا جائز اور ثواب کا کام ہے مگر مرید ہونے سے پہلے پیر کے بارے میں خوب اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیں ورنہ اگر پیر بدعقیدہ اور بد مذہب ہو ا تو ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ آج کل بہت سے ایمان کے ڈاکو پیروں کے لباس میں پھرتے رہتے ہیں ۔ لہٰذا مرید بننے میں بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یوں تو پیر بننے کے لئے بہت سی شرطوں کی ضرورت ہے مگر کم سے کم چار شرطوں کا پیر میں ہونا تو بے حد ضروری ہے۔ اول سنی صحیح العقیدہ ہو‘ دوم اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضرورت کے مسائل کتابوں سے نکال سکے۔ سوم فاسق معلن نہ ہو۔ چہارم اس کا سلسلہ اور شجرہ طریقت رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتک متصل ہو ورنہ اوپر سے فیض نہ ہوگا۔   

        لہٰذا خوب سمجھ لو اور یاد رکھو کہ بد مذہب مثلاً رافضی، خارجی، وہابی وغیرہ سے مرید ہونا حرام اور گناہ ہے اسی طرح بالکل ہی جاہل جو حلال و حرام اور فرض و واجب اور ضروریات دین کا علم نہ رکھتا ہو اس سے مرید ہونا بھی ناجائز ہے۔ یوں ہی نماز و روزہ چھوڑنے والا۔ داڑھی منڈانے والا یا حد شریعت سے کم داڑھی رکھنے والا یا گناہ کبیرہ اور خلاف شریعت اعمال کرنے والا بھی پیر بنانے کے لائق نہیں ۔ اور ایسے فاسق سے مرید ہونا بھی درست نہیں بلکہ گناہ ہے۔ ایسے ہی وہ شخص جس کا سلسلہ اور شجرہ بیعت درمیان میں کہیں سے بھی کٹا ہوا ہو۔ مثلاً اس کو خود ہی خلافت و اجازت کسی بزرگ سے نہ حاصل ہو یا اس کے شجرہ کے پیروں میں سے کوئی بلا خلافت و اجازت والا ہو‘ یا گمراہ ہو تو ایسے شخص سے بیعت ہونا بھی درست نہیں ہے۔   

(۵)عبادات

وہ سجدہ روح زمیں جس سے کانپ اٹھتی تھی

اسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب

مسائل کی چند اصطلاحیں

        یہ وہ اصطلاحی بولیاں ہیں کہ ان کو جان لینے سے اس کتاب کے سمجھنے میں مدد ملے گی اور مسائل کے سمجھنے میں ہر جگہ بہت ہی سہولت اور آسانی ہو جائے گی۔ اس لئے مسئلوں کو پڑھنے سے پہلے ان اصطلاحوں کو خوب سمجھ کر اچھی طرح یاد کرلو!

فرض : ۔وہ ہے جو شریعت کی یقینی دلیل سے ثابت ہو اس کا کرنا ضروری اور بلا کسی عذر کے اس کو چھوڑنے والا فاسق اور جہنمی اور اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ جیسے نماز و روزہ اور حج و زکوٰۃ وغیرہ۔

        پھر فرض کی دو قسمیں ہیں ایک فرض عین‘ دوسرے فرض کفایہ۔ فرض عین وہ ہے جس کا ادا کرنا ہر عاقل و بالغ مسلمان پر ضروری ہے جیسے نماز پنجگانہ وغیرہ۔ اور فرض کفایہ وہ ہے جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری نہیں بلکہ بعض لوگوں کے ادا کرلینے سے سب کی طرف سے ادا ہو جائے گا اور اگر کوئی بھی ادا نہ کرے تو سب گناہگار ہونگے جیسے نماز جنازہ وغیرہ(بہار شریعت، ج۱، ح ۲، ص۷)

واجب : ۔وہ ہے جو شریعت کی ظنی دلیل سے ثابت ہو اس کا کرنا ضروری ہے اور اس کو بلا کسی تاویل اور بغیر کسی عذر کے چھوڑ دینے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہے لیکن اس کا انکار کرنے والا کافر نہیں بلکہ گمراہ اور بد مذہب ہے۔ (بہار شریعت، ج۱، ح ۲، ص۸)

سنت موکدہ : ۔وہ ہے جس کو حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ہمیشہ کیا ہو۔ البتہ بیان جواز کے لئے کبھی چھوڑ بھی دیا ہو اس کو ادا کرنے میں بہت بڑا ثواب اور اس کو کبھی اتفاقیہ طور پر چھوڑ دینے سے اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  و رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا عتاب اور اس کو چھوڑ دینے کی عادت ڈالنے والے پر جہنم کا عذاب ہو گا۔ جیسے نماز فجر کی دو رکعت سنت‘ اور نماز ظہر کی چار رکعت فرض سے پہلے اور دو رکعت فرض کے بعد سنتیں ۔ اور نماز مغرب کی دو رکعت سنت اور نماز عشاء کی دو رکعت سنت‘ یہ نماز پنجگانہ کی بارہ رکعت سنتیں یہ سب سنت موکدہ ہیں ۔ (بہار شریعت، ج۱، ح ۲، ص۸)

سنت غیر موکدہ : ۔وہ ہے جس کو حضور نبی کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کیا ہو اور بغیر کسی عذر کے کبھی کبھی اس کو چھوڑ بھی دیا ہو۔ اس کو ادا کرنے والا ثواب پائے گا اوراس کو چھوڑ دینے والا عذاب کا مستحق نہیں ۔ جیسے عصر کے پہلے کی چار رکعت سنت اور عشاء سے پہلے کی چار رکعت سنت کہ یہ سب سنت غیر موکدہ ہیں ۔ سنت غیر موکدہ کو سنت زائدہ بھی کہتے ہیں ۔(بہار شریعت، ج۱، ح ۲، ص۸)

مستحب : ۔ہر وہ کام ہے جو شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہو اور اس کو چھوڑ دینا شریعت کی نظر میں برا بھی نہ ہو۔ خواہ اس کام کو رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کیا ہو یا اس کی ترغیب دی ہو۔ یا علماء صالحین نے اسے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا ہو۔ یہ سب مستحب ہیں ۔ مستحب کو کرنا ثواب اور اس کو چھوڑ دینے پر نہ کوئی عذاب ہے نہ کوئی عتاب۔ جیسے وضو کرنے میں قبلہ رو ہو کر بیٹھنا‘ نماز میں بحالت قیام سجدہ گاہ پر نظر رکھنا‘ خطبہ میں خلفاء راشدین وغیرہ کا ذکر‘ میلاد شریف‘ پیران کبار کے وظائف وغیرہ‘مستحب کو مندوب بھی کہتے ہیں ۔ (بہار شریعت، ج۱، ح ۲،



Total Pages: 188

Go To