Book Name:Jannati Zevar

(۱۱)اسلام میں شک کرنا اور یہ کہنا کہ معلوم نہیں میں مسلمان ہوں یا کافر یا اپنے اسلام پر افسوس کرنا مثلاً یہ کہنا کہ میں مسلمان ہوگیا یہ اچھا نہیں ہوا کاش میں ہندو ہوتا یا عیسائی ہوتا تو بہت اچھا ہوتا تو کفار کے دین کو اچھا بتانا یا کسی کفر کی بات کو اچھا سمجھنا یا کسی کو کفر کی بات سکھانا یا یہ کہنا کہ نہ میں ہندو ہوں نہ مسلمان‘ میں تو انسان ہوں یا یہ کہنا کہ میں نہ مسجد سے تعلق رکھتا ہوں نہ مندر سے یا یہ کہنا کہ مسجد اور مندر دونوں ڈھونگ ہیں میں کسی کو نہیں مانتا یا یہ کہنا کہ کعبہ تو معمولی پتھروں کا ایک پرانا گھر ہے اس میں کیا دھرا ہے کہ میں اس کی تعظیم کروں یا یہ کہنا کہ نماز پڑھنا بے کار آدمیوں کا کام ہے۔ ہم کو نماز کی کہاں فرصت ہے؟ یایہ کہنا کہ روزہ وہ رکھے جس کو کھانا نہ ملے یا یہ کہنا کہ جب خدا نے کھانے کو دیا ہے تو روزہ رکھ کر بھو کے کیوں مریں ؟ یا اذان کی آواز سن کر یہ کہنا کہ کیا خواہ مخواہ کا شور مچا رکھا ہے یا یہ کہنا کہ نماز پڑھنے کا کچھ نتیجہ نہیں بہت پڑھ لی کیا فائدہ ہوا؟ یا یہ کہنا کہ نماز پڑھنا نہ پڑھنا دونوں برابر ہیں یا یہ کہنا کہ میں تو صرف رمضان میں نماز پڑھتا ہوں ۔ باقی دنوں میں نہ کبھی پڑھی نہ پڑھوں گا۔ یا یہ کہنا کہ نماز مجھے موافق نہیں آتی۔ میں جب نماز پڑھتا ہوں تو کوئی نہ کوئی نقصان ضرور اٹھاتا ہوں یا یہ کہنا کہ زکوٰۃ خدائی ٹیکس ہے جو ملا لوگوں نے مالداروں پر لگا رکھا ہے۔ یایہ کہنا کہ حج تو ایک تفریحی سفر ہے۔ یا بلیک مارکیٹ کا دھندا ہے۔ میں ایسا کام کیوں کروں ؟ وغیرہ وغیرہ اس قسم کی تمام بکواسیں کھلا ہوا کفر ہیں ۔ ان سب بولیوں سے آدمی کافر ہو جائے گا۔

(۱۲)یہ کہنا کہ رام و رحیم دونوں ایک ہی ہیں اور وید و قرآن میں کچھ فرق نہیں یا یہ کہنا کہ مسجد اور مندر دونوں خدا کے گھر ہیں ۔ دونوں جگہ خداملتا ہے‘ کفر ہے۔

(۱۳)بت یا چاند سورج کو سجدہ کرنا۔     (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۳)

 یا زنار (جنیو) باندھنا یا سر پر چٹیا رکھنا یا قشقہ لگانا (الفتاوی الھندیۃ، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، مطلب موجبات الکفر انواع، ج۲، ص۲۷۶، ۲۷۷)

یا ہولی دیوالی پوجنا یا رام لیلا ، جنم اشٹمی ، رام نومی وغیرہ کے جلوسوں اور میلوں میں کفر کی شان و شوکت بڑھانے یا کافروں کو خوش کرنے کے لئے شریک ہونا‘ یا ان کفری تہواروں کی تعظیم کرنا یا کوئی چیز ان تہواروں کے دن مشرکین کے گھر بطور تحفہ اور ہدیہ کے بھیجنا جب کہ مقصود اس دن کی تعظیم ہو تو یہ کفر ہے۔   

(۱۴)جو شخص یہ کہہ دے کہ میں شریعت کو نہیں مانتا  (فتاوی رضویہ(جدید)، ج۱۴، ص۶۹۱)

 یا شریعت کا کوئی حکم یا فتویٰ سن کر یہ کہہ دے کہ یہ سب ہوائی باتیں ہیں ۔ یا یہ کہہ دے کہ شریعت کے حکم اور فتویٰ کو چولھے بھاڑ میں ڈال دو یا کہہ دے کہ میں شرع و رع کو نہیں جانتا

 (مجمع الانھر، کتاب السیروالجھاد، باب ثم ان الفاظ الکفرانواع، ج۲، ص۵۱۰)

یا یہ کہہ دے کہ ہم شریعت پر عمل نہیں کریں گے ہم تو برادری کی رسموں کی پابندی کریں گے۔     (الفتاوی الھندیۃ، کتاب السیر، الباب التاسع فی أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۷۲)

 یا یہ کہہ دے کہ بسم اﷲ  اور سبحان اﷲ  روٹی کی جگہ کام نہ دے گا۔ ہمیں روٹی چاہیے بسم اﷲ  اور سُبْحٰنَ اللہِ نہیں چاہیے تو وہ شخص کافر ہو جائے گا۔

(۱۵)شراب پیتے وقت یا زنا کرتے وقت یا جوا کھیلتے وقت ’’بسم اﷲ ‘‘ کہنا کفر ہے۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفرانواع، ج۲، ص۲۷۳ )

(۱۶)مسلمان کو مسلمان جاننا اور کافر کو کافر جاننا ضروریات دین میں سے ہے۔ کسی مسلمان کو کافر کہنا یا کسی کافر کو مسلمان کہنا کفر ہے۔

(۱۷)جو کسی کافر کے لئے اس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا مانگے یا کسی مردہ کافر و مرتد کو مرحوم و مغفور کہے یا کسی مردہ ہندو کو        ’’  بیکنٹھ باشی ‘‘ کہے وہ خود کافر ہے۔

(۱۸)خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کہنا یا خدا کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کہنا۔(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب السیر ، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفر انواع، ج۲، ص۲۷۲)

 یا خدا کی فرض کی ہوئی چیزوں میں سے کسی چیز کا انکار کرنا یہ سب کفر ہیں ۔   

(۱۹)ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار کرنا مثلاً توحید‘ رسالت‘ قیامت‘ ملا ئکہ‘ جنت‘ دوزخ‘ آسمانی کتابیں ان میں سے کسی چیز کا بھی انکار کرنا کفر ہے۔ (المسامرۃ ، ص۳۴۲)

(۲۰)قرآن مجید کو ناقص بتانا اور یہ کہنا کہ اس میں سے کچھ آیتیں نکال دی گئی ہیں یا قرآن مجید کی کسی آیت کا انکار کرنا یا قرآن میں کوئی عیب بتانا قرآن مجید کی بے ادبی کرنا‘ یہ سب کفر ہیں ۔

        بہنو اور بھائیو! غور کرو یہ سب الفاظ اور ان کے علاوہ دوسرے بہت سے الفاظ ہیں جن کے بولنے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے لہٰذا بول چال میں خاص طور پر دھیان رکھو۔ زیادہ شیخی مت بگھا رو۔ اور اپنی زبان کو قابو میں رکھو۔ اور خبردار بے لگام بن کر قینچی کی طرح زبان چلا چلا کر جو منہ میں آئے اول فول نہ بکتے رہو۔ رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ اپنی زبان کی حفاظت کرو۔ اور اس کو قابو میں رکھو۔ کیونکہ بہت سی زبان سے نکلی ہوئی باتیں آدمی کو جہنم میں داخل کردیتی ہیں ۔ توبہ توبہ نعوذباﷲ  منہ اﷲ  تَعَالٰی مسلمان کو کفری کلاموں اور کفریات کے کاموں سے بچائے رکھے۔ ’’آمین‘‘۔

ولایت کا بیان

        ولایت دربار خداوندی میں ایک خاص قرب کا نام ہے جو اﷲ  تَعَالٰی اپنے فضل و کرم سے اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے۔

عقیدہ : ۱تمام امتوں کے اولیاء میں ہمارے رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کے اولیاء سب سے افضل ہیں ۔ اور اس امت کے اولیاء میں سب سے افضل و اعلیٰ حضرات خلفائے راشدین یعنی حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق و حضرت عثمان و حضرت علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمہیں اور ان میں جو خلافت کی ترتیب ہے وہی افضلیت کی بھی ترتیب ہے۔ یعنی سب سے افضل حضرت صدیق اکبر ہیں ۔ پھر فاروق اعظم۔ پھر عثمان غنی۔ پھر علی مرتضی!(رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم)  (شرح العقائد النسفی، مبحث افضل البشر بعد نبیناصلی اللہ  علیہ وسلم، ص۱۴۹۔۱۵۰)

عقیدہ : ۲اولیائے کرام حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سچے نائب ہیں ۔ اﷲ  تَعَالٰی نے اولیائے کرام کو بہت بڑی طاقت اور عالم میں ان کو تصرفات کے اختیارات عطافرمائے ہیں ۔ اور بہت سے غیب کے علوم ان پر منکشف ہوتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض اولیاء کو اﷲ  تَعَالٰی لوح محفوظ کے علوم پر بھی مطلع فرما دیتا ہے۔ لیکن اولیاء کو یہ سارے کمالات حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے واسطہ سے حاصل ہوتے ہیں ۔

عقیدہ : ۳اولیاء کی کرامت حق ہے۔ اس کا منکر گمراہ ہے۔ کرامت کی بہت سی قسمیں ہیں ۔ مثلاً مُردوں کو زندہ کرنا۔ اندھوں اور کوڑھیوں کو شفاء دینا‘ لمبی مسافتوں کو منٹ دو منٹ میں طے



Total Pages: 188

Go To