Book Name:Jannati Zevar

سو برس جینے کی تجھ کو آس  ہے

ہے کھڑی سر پر ترے تیری اجل

عمر گھٹتی ہے گناہوں میں تری

غارمیں گرتا ہے توجلدی سنبھل

                                                کفر کی باتیں

        اس زمانے میں جہالت کی وجہ سے کچھ مرد اور عورتیں اس قدر بے لگام ہیں کہ جو ان کے منہ میں آتا ہے بول دیا کرتے ہیں ۔ چنانچہ بعض کفر کے الفاظ بھی لوگوں کی زبانوں سے نکل جاتے ہیں ۔ اور لوگ کافر ہوجاتے ہیں ۔ اور ان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر انہیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ کافر ہو گئے۔ اور ان کا نکاح ٹوٹ گیا۔ اس لئے ہم یہاں چند کفر کی بولیوں کا ذکر کرتے ہیں ۔ تاکہ لوگوں کو ان کفریات کا علم ہو جائے اور لوگ ان باتوں کو بولنے سے ہمیشہ زبان روکے رہیں ۔ اور اگر خدا نخواستہ یہ کفر کے الفاظ ان کے منہ سے نکل گئے ہوں تو فوراً توبہ کر کے نئے سرے سے کلمہ پڑھ کر مسلمان بنیں اور دوبارہ نکاح کریں ۔

(۱)خدا کے لئے مکان اور جگہ ثابت کرنا کفر ہے بعض لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اوپر اﷲ  نیچے پنچ یا اوپر اﷲ  نیچے تم یہ کہنا کفر ہے ۔

(الفتاوٰی الھندیۃ ، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، مطلب موجبات الکفرانواع، ج۲، ص۲۵۹/ الفتاوی القاضی خان ، کتاب السیر، باب مایکون کفرًا من للمسلم، ج۴، ص۴۷۰)   

(۲)کسی سے کہا گناہ نہ کرو ورنہ خدا جہنم میں ڈال دے گا۔ اس نے کہا ’’میں جہنم سے نہیں ڈرتا‘‘ یا یہ کہا ’’مجھے خدا کے عذاب کی کوئی پروا نہیں ‘‘ یا ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا تو خدا سے نہیں ڈرتا؟ اس نے غصہ میں کہہ دیا کہ ’’میں خدا سے نہیں ڈرتا‘‘ یا یہ کہہ دیا کہ ’’خدا کہاں ہے‘‘ یہ سب کفر کی بولیاں ہیں ۔

(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب السیر ، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفر انواع، ج۲، ص۲۶۰۔۲۶۲)

 (۳)کسی سے کہا کہ اِنْ شَآءَ اﷲ  تم اس کام کو کرو گے اس نے کہہ دیا کہ ’’اجی میں بغیر اِنْ شَآءَ اﷲ  کے کروں گا۔‘‘ کافر ہوگیا۔

(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب السیر ، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفر انواع، ج۲، ص۲۶۱)

(۴)کسی مالدار کو دیکھ کر یہ کہہ دیا کہ ’’آخر یہ کیسا انصاف ہے کہ اس کو مالدار بنادیا مجھے غریب بنا دیا۔‘‘  یہ کہنا کفر ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ ، کتاب السیر ، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفر انواع، ج۲، ص۲۶۲)

(۵)اولاد وغیرہ کے مرنے پر رنج اور غصہ میں اس قسم کی بولیاں بولنے لگے کہ خدا کو بس میرا بیٹا ہی مارنے کے لئے ملا تھا۔ دنیا بھر میں مارنے کے لئے میرے بیٹے کے سوا خدا کو دوسرا کوئی ملتا ہی نہیں تھا۔ خدا کو ایسا ظلم نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  نے بہت برا کیا کہ میرے اکلوتے بیٹے کو مار کر میرا گھر بے چراغ کردیا۔ اس قسم کی بولیاں بول دینے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔

(۶)خدا کے کسی کام کو برا کہنا یا خدا کے کاموں میں عیب نکالنا یا خدا کامذاق اڑانا یا خدا کی بے ادبی کرنا یا خدا کی شان میں کوئی پھوہڑ لفظ بولنا یا خدا کو ایسے لفظوں سے یاد کرنا جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں ۔ یہ سب کفر کی باتیں ہیں ۔   

(۷)کسی نبی یا فرشتہ کی حقارت کرنا یا ان کی جناب میں گستاخی کرنا یا ان کو عیب لگانا یا ان کا مذاق اڑانا یا ان پر طعنہ مارنا یا ان کے کسی کام کو بے حیائی بتانا بے ادبی کے ساتھ ان کا نام لینا کفر ہے۔                                                                                                                            (البحر الرائق، کتاب السیر، باب احکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۳۔۲۰۵)

(۸) جو شخص حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو آخر نبی نہ مانے (الشفاء بتعریف حقوق المصطفی صلی اللہ  علیہ وسلم ، فصل فی بیان ما ھو من المقالات کفر ، ص۲۴۶۔۲۴۷)

یا حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی کسی چیز یا کسی بات کی توہین کرے یا حقیر جانے یا عیب لگائے یا آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقدس بال یا ناخن کی بے ادبی کرے یا آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لباس مبارک کو گندہ اور میلا بتائے یا حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی کسی سنت کی تحقیر کرے مثلاً داڑھی بڑھانا‘ مونچھیں کم کرنا‘

(البحر الرائق، کتاب السیر، باب احکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۴/الفتاوی التاتارخانیۃ ، کتاب احکام المرتدین، فصل فیما یعود الی الانبیاء علیہم السلام ، ج۵، ص۴۸۱۔۴۸۲/ الفتاوی الھندیۃ، کتاب السیر ، الباب التاسع فی احکام المرتدین ، مطلب موجبات الکفر انواع، ج۲، ص۲۶۳۔۲۶۵)

عمامہ کا شملہ لٹکانا۔    (مجمع الانھر، کتاب السیروالجھاد، باب ثم ان الفاظ الکفر انواع، ج۲، ص۵۱۰)

کھانے کے بعدانگلیوں کو چاٹ لینا یا حضور کی کسی سنت کا مذاق اڑائے یا اس کو برا سمجھے تو وہ کافر ہو جائے گا۔

(الفتاوی التاتارخانیۃ ، کتاب احکام المرتدین، فصل فیما یعود الی الانبیاء علیہم السلام ، ج۵، ص۴۸۲)

(۹)جو شخص کسی قاتل یا خونی ڈاکو کو دیکھ کر توہین کی نیت سے کہہ دے کہ‘ ملک الموت‘ آگئے تو وہ کافر ہو جائے گا۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفر انواع، ج۲، ص۲۶۶)

(۱۰)قرآن کی کسی آیت کے ساتھ مسخرہ پن کرنا کفر ہے۔ (البحرالرائق، کتاب السیر، باب احکام المرتدین، ج۵،

Total Pages: 188

Go To