Book Name:Jannati Zevar

از :  حضرت علامَہ مفتی جَلال الدّین صاحبْ رحمۃ اللہ  تعالٰی علیہ

         علامۃ العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا الحاج عبد المصطفٰی صَاحب اعظمی مجددی قبلہ  مدظلُّہٗ العالی اپنے علمِی جاہ و جلال اور فضل و کمال کے اعتبار سے اکابر علماء اہلسنّت میں ایک خصوصی امتیاز کے ساتھ ممتاز ہیں ۔ آپ ایک مُسلَّمُ الثُّبوت، ماہر درسیات، سَاحرالبیان اور ایک خصوصی طرزِ تحریر کے موجد و کامیاب مصنّف ہونے کی بنا پر ملک وبیرونِ ملک ’’جامع الصفات‘‘ مشہور ہیں ۔ چند خاص خاص اور اہم موضوعات پر آپ کی چھوٹی بڑی پندرہ کتابیں طبع ہوکر عوام وخواص سے خراج تحسین حاصِل کر چکی ہیں ۔

        زیرِ نظر کتاب ’’جنتی زیور‘‘ آپ نے عوام اور خاص کر عورتوں کے لیے تصنیف فرمائی ہے جس کو میں بغور پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ضرورتِ زمَا نہ کے لحاظ سے یہ کتاب بہت ہی اہم، نہایت ہی انمول اور بے حد مفید ہے اور بحمدہٖ  تَعَالٰی صحیح و معتمد مسائل اور بہترین آداب و خصائص کے ساتھ ساتھ عبرت خیز نصیحتوں اور رقت انگیز واقعات کا لا جواب مجموعہ ہے۔

          مولیٰ  تَعَالٰی حضرت مصنّف قبلہ کو جزاء عطا فرمائے اور برادران اہلِسنّت وخواتینِ ملّت کو اس کتاب کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی توفیق بخشے اٰمِیْن بِجَاہِ حبیبہٖ سید المرسَلین  صلوات اﷲ   تَعَالٰی وسلامہ علیہم اجمعین

                           جَلال الدین احمَد امجَدی

                                خادم دار الافتاء فیض الرسول 

                                  براؤں شریف ضِلع بستی

                                   ۲۵ ۔ذی القعدہ  ۱۳۹۹ھ

بِسْمِ اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

سَبب تالیف

        مُسلمان عورتوں کی آزاد خیالی سے مُسلم معاشرہ کی تباہی و بدحالی دیکھ کر بَار بار دل کڑھتا اور جلتا تھا۔ اس لیے ایک مدّت سے یہ خیال تھا کہ مسلمان عورتوں کی صلاح و فلاح، اور ان کی بد اعتقادیوں اور بد اعمالیوں کی اصلاح کے لیے ایک کتاب لکھ دوں ۔ مگر افسوس کہ کثرتِ کار و ہجوم افکار کے میدانِ محشر میں اس طرف توجہ کی فرصت ہی نہیں ملی۔ یہاں تک کہ میرے مخلِص مرید مولوی اعجاز حسین صَاحب قادری مالک اعجاز بک ڈپو ہوڑہ نے بڑی دل سوزی کے ساتھ میرے نام ایک خط میں تحریر کیا کہ ایک ایسی کتاب کی بے حد ضرورت ہے جومسلمان عورتوں کی دینی ودنیاوی ضرورتوں کے متعلق ضروری معلومات کی جامع ہوتاکہ وہ مُسلمان بچیوں کے تعلیمی کورس میں داخِل ہو سکے اور مسلمان لڑکیوں کو جہیز میں دی جا سکے۔ اس کے بعد میری تصانیف کے دوسرے قدر دانوں نے بھی زبانی اور قلمی طور پر تقاضوں کا ایسا طومار باندھ دیا کہ میں احباب کے اس مطالبہ کو نظر انداز نہ کر سکا۔ حد ہوگئی کہ سب سے آخر میں ضِلع بستی کے سیٹھ الحاج ملا محمد حنیف یا ر علوی جن کا بمبئی کے عِلم دوست و دیندار سیٹھوں میں شمار ہے۔ انہوں نے براؤں شریف میں میرے روبرو بیٹھ کر برجستہ یہ کہدیا کہ آپ نے ہمارے لڑکوں کے ہاتھوں میں دینے کے لیے تو بہت سی کتابیں لکھ دی ہیں لیکن ہماری لڑکیوں کے ہاتھوں میں دینے کے لیے آپ نے اب تک کچھ بھی نہیں لکھا یہ سن کر مجھے بے حد تأسف ہوا اور میں نے یہ عزم کر لیا کہ اِنْ شَآءَ اﷲ   تَعَالٰی بہت جلد ایک ایسی کتاب لکھوں گا جو عورتوں اور مَردوں دونوں کی اصلاح کے لیے ذریعہ ہدایت اور مجھ گنہگار کے لیے سامانِ آخرت بن جائے۔ چنانچہ خداوند کریم کا بے شمار شکر ہے کہ صِرف چند ماہ کی قلیل مدّت میں قِسم قِسم کے گلہائے مضامیں کو چن چن کر مسَا ئل و خصائل کا ایک خوبصورت گلدستہ ’’جنتی زیور‘‘ کے نام سے ناظرین کی خدمت میں نذر کرتا ہوں یہ کتاب مندرجہ ذیل دس عنوانوں کا مجموعہ ہے۔

 (۱)معاملات     (۲)اخلاقیات        (۳)رسومات

(۴)ایمانیات      (۵)عبادات            (۶)اسلامیات

(۷)تذکرۂ صالحات      (۸)متفرق ہدایات

 (۹)عملیات              (۱۰)میلاد ونعت

اور بحمدہٖ  تَعَالٰی ہر عنوان کے تحت ضروری ہدایات اور اسلامی مسَائل و خصائل کا ایک حد تک کافی ذخیرہ جمع کر دیا ہے۔ اس لیے ناظرین سے اُمید کرتا ہوں کہ میری کوتاہیوں کی اصلاح فرمائیں گے اور اُمّتِ مسلّمہ کی صلاح و فلاح کے لیے اس کتاب کی اشاعت میں اپنی طاقت بھر ضرور حصّہ لیں گے۔ خداوند کریم میری اس حقیر قلمی خدمتِ دین کو شرفِ قبول سے سرفراز فرمائے (آمین)

        آخر میں حضرت گرامی مولانا الحاج مفتی جلال الدین صَاحب قبلہ امجدی مدرّس دار العلوم فیض الرسول براؤں شریف وعزیز القدر مولانا قدرت اللہ  صاحب رضوی مدرس دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف کا شکر گزار ہوں کہ ان دونوں صاحبان نے کتاب کی تصحیح میں حصّہ لے کر میرے بار کو ہلکا اور میرے قلب کو مطمئن کر دیا

فجزاھما اﷲ  تعالی احسن الجزاء وھوحسبی و نعم الوکیل وصلی اﷲ  تعالٰی علٰی خیرخلقہ محمّد واٰلہ وصحبہ اجمعین

                 عبدالمصطفٰے الاعظمی عفی عنہ

                              گھوسی ۷شوال  ۱۳۹۹ ھ     

انتِسَاب

میری اہلیَہ صَالحہ خاتون کے نام

      جو ۴۳ برس سے نہایت و فاداری کے ساتھ میری خدمت کررہی ہیں ، میرے بچوں کو پَالا ، میرا گھر سنبھَالااور مجھے علمی و دینی خدمتوں کے لیے خانگی



Total Pages: 188

Go To