Book Name:Jannati Zevar

تمام انسانوں اور جنوں کو مرنے کے بعد اسی عالم میں رہنا ہوتا ہے۔ اس عالم برزخ میں اپنے اپنے اعمال کے اعتبار سے کسی کو آرام ملتا ہے اور کسی کو تکلیف۔          (بہارشریعت، ج۱، ح۱، ص۲۴)

عقیدہ : ۱مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق بدن کے ساتھ باقی رہتا ہے۔ اگر چہ روح بدن سے جدا ہوگئی ہے مگر بندے پر جو آلام یا صدمہ گزرے گا روح ضرور اس کو محسوس کرے گی اور متاثر ہوگی۔ جس طرح دنیاوی زندگی میں بدن پر جو راحت اور تکلیف پڑتی ہے اس کی لذت اور تکلیف روح کو پہنچتی ہے۔ اسی طرح عالم برزخ میں بھی جو انعام یا عذاب بدن پر واقع ہوتا ہے۔ اس کی لذت اور تکلیف روح کو پہنچتی ہے۔ (شرح العقائد النسفیۃ، مبحث عذاب القبر، ص۱۰۱)

عقیدہ : ۲مرنے کے بعد مسلمانوں کی روحیں ان کے درجات کے اعتبار سے مختلف مقامات میں رہتی ہیں ۔ بعض کی قبر پر‘ بعض کی زمزم شریف کے کنویں میں ‘ بعض کی آسمان و زمین کے درمیان‘ بعض کی آسمانوں میں ‘بعض کی عرش کے نیچے قندیلوں میں ‘ بعض کی اعلیٰ علیّین میں مگر روحیں کہیں بھی ہوں اپنے جسموں سے بدستور ان کو تعلق رہتا ہے جو کوئی اِن کی قبر پر آئے اس کو وہ دیکھتے پہچانتے اور اس کی باتوں کو سنتے ہیں ۔ (شرح الصدور، باب مقر الأرواح، ص۲۳۵۔۲۳۸/الفتاوی الرضویۃ الجدیدۃ، ج۹، ص۶۵۸)

        اسی طرح کافروں کی روحیں بعض ان کے مرگھٹ یا قبر پر رہتی ہیں ‘ بعض کی یمن کے ایک نالہ برہوت میں ‘ بعض کی ساتوں زمین کے نیچے‘ بعض کی ’’سجین‘‘ میں ۔لیکن روحیں کہیں بھی ہوں ان کے جسموں سے ان روحوں کا تعلق برقرار رہتا ہے چنانچہ جو ان کے مرگھٹ پر گزرے یا ان کی قبر پر آئے اس کو دیکھتے پہچانتے اور اس کی باتوں کو سنتے ہیں ۔

 (شرح الصدور، باب مقر الارواح، ص۲۳۶۔۲۳۷/الفتاوی الرضویۃ الجدیدۃ، ج۹، ص۶۵۸)

عقیدہ : ۳یہ خیال کہ مرنے کے بعد روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے خواہ وہ کسی آدمی کا بدن ہو یا کسی جانور کا جس کو فلا سفر ’’تناسخ ‘‘اور ہندو ’’آواگون‘‘ کہتے ہیں یہ خیال بالکل ہی باطل اور اس کا ماننا کفر ہے۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۴ / النبراس، باب والبعث حق، ص۲۱۳)

عقیدہ : ۴جب آدمی مرجاتا ہے تو اگر گاڑا جائے تو گاڑنے کے بعد اور اگر نہ گاڑا جائے تو وہ جہاں بھی ہو اور جس حال میں بھی ہو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جن میں سے ایک کا نام ’’منکر‘‘اور دوسرے کا نام ’’نکیر‘‘ ہے یہ دونوں فرشتے مردہ سے سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور حضرت محمد رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بارے میں پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہیں ؟ اگر مردہ ایماندار ہو تو ٹھیک ٹھیک جواب دیتا ہے کہ میرا رب اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  ہے۔ میرا دین اسلام ہے اور حضرت محمد صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  کے رسول ہیں ۔

(النبراس، مبحث عذاب القبر وثوابہ، ص۲۰۶، ۲۱۰/سنن الترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی عذاب القبر، رقم ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۷)

پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھول دیتے ہیں ۔ جس سے ٹھنڈی ٹھنڈی جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں قبر میں آتی رہتی ہیں ۔ اور مردہ آرام و چین کے مزہ میں پڑ کر اپنی قبر میں سکھ کی نیند سو رہتا ہے اور اگر مردہ ایماندار نہ ہو تو سب سوالوں کے جواب میں یہی کہتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم ہے ۔ پھر اس کی قبر میں دوزخ کی طرف ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور جہنم کی گرم گرم ہوائیں اور بدبو قبر میں آتی رہتی ہیں ۔ اور مردہ طرح طرح کے سخت عذابوں میں گرفتار ہوکر تڑپتا اور بے قرار رہتا ہے فرشتے اس کو گرزوں سے مارتے ہیں اوراس کے برے اعمال سانپ بچھو بن کر اسے عذاب پہنچاتے رہتے ہیں ۔(مشکاۃ المصابیح ،  کتاب الجنائز ، باب ما یقال عند من حضرہ الموت ، الفصل الثالث، رقم ۱۶۳۰، ج۱، ص۴۵۸) 

عقیدہ : ۵مردہ بھی کلام کرتا ہے مگر اس کے کلام کو انسان اور جن کے سوا تمام مخلوقات، جانور وغیرہ سنتے ہیں ۔ اگر کوئی آدمی سن لے تو وہ بیہوش ہو جائے گا۔

 (صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب کلام المیت علی الجنا زۃ، رقم ۱۳۸۰، ج۱، ص۴۶۵)

عقیدہ : ۶ایمان دار اور نیکوں کی قبریں کسی کی ستر ستر ہاتھ چوڑی ہو جاتی ہیں ۔ (سنن الترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی عذاب القبر، رقم۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۷)

اور کسی کسی کی قبریں اتنی چوڑی ہو جاتی ہیں کہ جہاں تک اس کی نگاہ جاتی ہے۔(مشکاۃ المصابیح ، کتاب الجنائز ، باب ما یقال عند من حضرہ الموت، الفصل الثالث، رقم۱۶۳۰، ج۱، ص۴۵۸)

 اور کافروں اور بعض گنہگاروں کی قبر اس قدر زور سے دباتی ہے اور اس قدر تنگ ہو جاتی ہے کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی پسلیاں ادھر ہو جاتی ہیں ۔

(جامع الترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی عذاب القبر، رقم ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۷)

عقیدہ : ۷قبر میں جو کچھ عذاب و ثواب مردے کو دیا جاتا ہے اور جو کچھ اس پر گزرتی ہے وہ سب چیزیں مردہ کو معلوم ہوتی ہیں ۔ زندہ لوگوں کو اس کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ جیسے سوتا ہوا آدمی خواب میں آرام و تکلیف اور قسم قسم کے مناظر سب کچھ دیکھتا ہے ۔ لذت بھی پاتا ہے اور تکلیف بھی اٹھاتا ہے۔ مگر اس کے پاس ہی میں جاگتا ہوا آدمی ان سب باتوں سے بے خبر بیٹھا رہتا ہے۔   

قیامت کا بیان

        توحید و رسالت کی طرح قیامت پر بھی ایمان لانا ضروریاتِ دین میں سے ہے جو شخص قیامت کا انکار کرے وہ کھلا ہوا کافر ہے۔

(المعتقد المنتقدمع المعتمد المستند، من اقر بالجنۃ والناروالحشرلکن اولھا۔۔۔الخ، ص۱۸۰)

        ہر مسلمان کے لئے اس عقیدہ پر ایمان لانا فرض عین ہے کہ ایک دن یہ زمین آسمان بلکہ کل عالم اور سارا جہان فنا ہو جائے گا۔ اسی دن کا نام ’’قیامت‘‘ ہے۔

(پ