Book Name:Jannati Zevar

اور حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نافرمانی اﷲ  تَعَالٰی کی نافرمانی ہے۔ (المعجم الاوسط ، من اسمہ ابراہیم ، رقم ۲۴۰۱، ج۲، ص۳۲)

 تمام جہان کو اﷲ  تَعَالٰی نے حضور کے زیر تصرف کردیا ہے۔ اورآسمان وزمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مقدس ہاتھوں میں دے کر آپ کو اپنی تمام نعمتوں اور عطاؤں کا قاسم بنادیا ہے۔(صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، باب اثبات حوض نبینا صلی اللہ  علیہ وسلم وصفاتہ ، رقم ۲۲۹۶، ص۱۲۵۸/ المواہب اللدنیۃ ، الفصل الثانی ، اعطی مفاتیح الخزائن ، ج۲، ص۶۳۹)

 چنانچہ ہر قسم کی عطائیں حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں ۔(صحیح البخاری، کتاب العلم ، باب من یرد اللہ  بہ خیرا یفقھہ فی الدین ، رقم ۷۱، ج۱، ص۴۲)

 سُبحٰنَ اللہ !   ؎     رب ہے معطی‘ یہ ہیں قاسم

              رزق اس کا ہے کھلاتے یہ ہیں

        عقیدہ : ۱۹حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے کسی قول وفعل و عمل و حالت کو جو حقارت کی نظر سے دیکھے یا آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شان میں کوئی ادنیٰ سی گستاخی یا توہین و بے ادبی کرے یا آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو جھٹلائے یا آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے کلام میں شک کرے۔

(حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین ، پ ۱۸ النور : ۶۳، ج۴، ص۱۴۲۱/الشفاء بتعریف حقوق المصطفی صلی اللہ  علیہ وسلم ، الجزء الثانی ، فصل فی بیان ماھو من المقالات کفر، ص۲۴۶)

یا آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں کوئی عیب نکالے۔ یا آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی کسی سنت کو برا سمجھے یا مذاق اڑائے وہ اسلام سے خارج اور کافر ہے۔  

(البحرالرائق ، کتاب السیر ، با ب احکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۳۔۲۰۴/ الفتاوی الھندیہ ، کتاب السیر ، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفرانواع ، ج۲، ص۲۶۳۔۲۶۴)

صحابی

        ہمارے حضور نبی اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو جن خوش نصیب مسلمانوں نے ایمان کی حالت میں دیکھا اور ایمان ہی پر ان کا خاتمہ ہوا۔ ان بزرگوں کو صحابی کہتے ہیں ۔

(فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ  علیہ وسلم ، باب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ  علیہ وسلم ومن صحب النبی صلی اللہ  علیہ وسلم...الخ، ج۸، ص۳۔۴  )

        ان حضرات کا درجہ ساری امت میں سب سے زیادہ بلند ہے اور اﷲ  تَعَالٰی نے ان شمع نبوت کے پروانوں کو بڑی بڑی بزرگیاں عطافرمائی ہیں ۔ یہاں تک کہ بڑے سے بڑے درجہ کے اولیاء بھی کسی کم سے کم درجے کے صحابی کے مرتبوں تک نہیں پہنچ سکتے۔      (بہارشریعت، ج۱، ح۱، ص۷۴)

             ان صحابہ علیھم الرضوان میں درجات و مراتب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر چار صحابی ہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بعد ان کے جانشین ہوئے اور دین اسلام کی جڑوں کو مضبوط کیا۔ اسی لئے یہ خلیفۂ اول کہلاتے ہیں نبیوں کے بعد تمام امتوں میں یہ سب سے افضل و اعلیٰ ہیں ۔ ان کے بعد حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا درجہ ہے۔ یہ ہمارے رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دوسرے خلیفہ ہیں ۔ ان کے بعد حضرت عثمان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا درجہ ہے۔ یہ ہمارے پیغمبر حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے تیسرے خلیفہ ہیں ۔           (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ ، باب فی التفضیل ، رقم ۴۶۲۸، ج۴، ص۲۷۳)

 ان کے بعد حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کا مرتبہ ہے۔ یہ ہمارے نبی صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے چوتھے خلیفہ ہیں ۔

(المواہب اللدنیۃ ، المقصد السابع فی وجوب صحبتہ صلی اللہ  علیہ وسلم ، الفصل الثالث، عثمان وعلی ، ج۳، ص۳۸۹)   

 عقیدہ : ۔حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نسبت اور تعلق کی وجہ سے تمام صحابہ کرام علیھم الرضوان کا ادب و احترام اور ان بزرگوں کے ساتھ محبت و عقیدت تمام مسلمانوں پر فرض ہے اسی طرح حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی آل و اولاد اور بیویاں اور اہل بیت اور آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے خاندان والے اور تمام وہ چیزیں جن کو آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے نسبت  و تعلق ہو سب لائق تعظیم اور واجب الاحترام ہیں ۔ (المواہب اللدنیۃ، المقصد السابع فی وجوب ص



Total Pages: 188

Go To