Book Name:Jannati Zevar

عقیدہ : ۱۲اﷲ  تَعَالٰی کے ہر کام میں بے شمار حکمتیں ہیں خواہ ہم کو معلوم ہوں یانا معلوم ہوں ۔  (المسامرۃ بشرح المسایرۃ ، للہ تعالٰی فی کل فعل حکمۃ ، ص۲۱۵)

         اﷲ  تَعَالٰی کے کسی کام کو برا سمجھنا یا اس پر اعتراض کرنا یا ناراض ہونا یہ کفر کی بات ہے۔

        خبردار! خبردار! کبھی ہرگز ہرگز اﷲ  تَعَالٰی کے کسی کام پر نہ اعتراض کرو ، نہ ناراض رہو بلکہ یہی ایمان رکھو کہ اﷲ  تَعَالٰی جو کچھ کرتا ہے وہی اچھا ہے۔ خواہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے کیونکہ اﷲ  تَعَالٰی علیم و حکیم یعنی بہت زیادہ جاننے والا اور بہت زیادہ حکمتوں والا ہے اور وہ اپنے بندوں پر بہت زیادہ مہربان ہے۔

نبی و رسول

عقیدہ : ۱اﷲ  تَعَالٰی نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے بہت سے پیغمبروں کو دنیا میں بھیجا۔ یہ سب پیغمبر تمام گناہوں سے پاک ہیں ۔         (المسامرۃ بشرح المسایرۃ ، الکلام علی العصمۃ ، ص۲۲۷)

        اور اﷲ  تَعَالٰی کے بہت ہی نیک بندے ہیں ۔ اﷲ   تَعَالٰی کے سب پیغمبروں کا یہی کام ہے کہ وہ اﷲ  تَعَالٰی کے پیغام اور اس کے احکام کو بندوں تک پہنچاتے ہیں ۔

                                     (شرح العقائد النسفیۃ، کتاب مبحث النبوات، ص۱۴۰)

         اﷲ  تَعَالٰی نے ان پیغمبروں کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے ان کے ہاتھوں پر ایسی ایسی حیرت اور تعجب میں ڈالنے والی چیزیں ظاہر فرمائیں جو بہت ہی مشکل اور عادت کے خلاف ہیں جو دوسرے لوگ نہیں کرسکتے۔ ان چیزوں کو ’’معجزہ‘‘ کہتے ہیں ۔ (شرح العقائد النسفیۃ ، والنوع الثانی خبر الرسول المؤید بالمعجزۃ ، ص۱۷، مبحث النبوات ، ص۱۳۵)

        جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا کہ وہ اژدہا بن کر فرعون کے سامنے جادوگروں کے سانپوں کو نگل گیا۔(روح البیان، طٰہٰ : ۷۰، ج۵، ص۴۰۵)   

 اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا۔ (پ۳، اٰل عمران : ۴۹)

 اور ہمارے حضور   صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا چاند کو دو ٹکڑے کردینا۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الرابع فی المعجزات ، الفصل الاول فی معجزاتہ صلی اللہ  علیہ وسلم ، ج۲، ص۵۲۳)

ڈوبے ہوئے سورج کو واپس لوٹادینا۔   (المواہب اللدنیۃ المقصد الرابع فی معجزاتہ صلی اللہ  علیہ وسلم ، ج۲، ص۵۲۸۔۵۲۹)

 کنکریوں سے اپنا کلمہ پڑھوالینا۔ (الخصائص الکبری، با ب التسبیح الحصی والطعام، ج۲، ص۱۲۵)

 انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری کردینا۔ (صحیح البخاری، کتاب المناقب ، باب علامات النبوۃ فی الاسلام ، رقم ۳۵۷۶، ج۲، ص۴۹۳)

یہ سب معجزات ہیں ۔ ان پیغمبروں کو نبی کہتے ہیں ۔ اور ان نبیوں میں سے جو خداوند  تَعَالٰی کی طرف سے کوئی نئی آسمانی کتاب اور نئی شریعت لے کر آئے وہ ’’رسول‘‘ کہلاتے ہیں ۔

(النبراس، تعریف الرسول صلی اللہ  علیہ وسلم ، ص۵۴/ المسامرۃ بشرح المسایرۃ ، الکلام علی العصمۃ ، ص۲۳۱)

نبی سب مرد تھے‘ نہ کوئی جن نبی ہوا‘ نہ کوئی عورت۔(پ۱۴، النحل : ۴۳/ تفسیر بیضاوی مع حاشیۃ محی الدین شیخ زادہ ، ج۵، ص۲۷۴)

 نبی سب انسانوں  سے زیادہ عقلمند ہوتے ہیں اور بے عیب بھی۔                            (المسامرۃبشرح المسایرہ، شروط النبوۃ، ص۲۲۶)

عقیدہ : ۲سب سے پہلے پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں ۔

  (شرح العقائد النسفیۃ ، اول الانبیاء آدم علیہ السلام واخرھم محمد علیہ السلام ، ص۱۳۶)

اور باقی تمام نبی و رسول ان دونوں کے درمیان ہوئے۔ ان پیغمبروں میں سے جو بہت مشہور ہیں ۔ اور قرآن مجید اور احادیث میں جن کا باربار ذکر آیا ہے۔ وہ یہ ہیں : ۔

(۱)حضرت نوح علیہ السلام           (پ۱۷، الانبیآء :  ۷۶)

 (۲)حضرت ابراہیم علیہ السلام                (پ۱۷، الانبیاء : ۶۹)

 (۳)حضرت اسمٰعیلعلیہ السلام