Book Name:Jannati Zevar

ششم کلمہ ردکفر :

     اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیْئاً وَّاَنَا اَعْلَمُ بِہٖ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَآ اَعْلَمُ بِہٖ تُبْتُ عَنْہُ وَتَبَرَّاْتُ مِنَ الْکُفْرِ وَالشِّرْکِ وَالْکِذْبِ وَالْغِیْبَۃِ وَالْبِدْعَۃِ وَالنَّمِیْمَۃِ وَالْفَوَاحِشِ وَالْبُھْتَانِ وَالْمَعَاصِیْ کُلِّھَا وَ اَسْلَمْتُ وَاَ قُوْلُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ  ط

        اے اﷲ ( عَزَّ وَجَلَّ  )میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں تیرے ساتھ کسی کو شریک کروں اور وہ میرے علم میں ہو اور میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اس گناہ سے جس کا مجھے علم نہیں میں نے اس سے توبہ کی اور میں بیزار ہوا کفر سے اور شرک اور جھوٹ اور غیبت سے اور بری نو ایجادات سے اور چغلی سے اور بے حیائی کے کاموں سے اور کسی پر بہتان باندھنے سے اور ہر قسم کی نافرمانی سے اور میں اسلام لایا اور میں کہتا ہوں سوائے اﷲ ( عَزَّ وَجَلَّ ) کے کوئی معبود نہیں محمد( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اﷲ ( عَزَّ وَجَلَّ ) کے برگزیدہ رسول ہیں ۔

ایمان مجمل :

 اٰمَنْتُ بِاﷲ  کَمَا ھُوَ بِاَسْمَآئِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ اِقْرَارُٗمبِاللِّسَانِ وَتَصْدِیْقٌ بِالْقَلْبِ

    میں ایمان لایا اﷲ ( عَزَّ وَجَلَّ  )پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور اپنی صفتوں کے ساتھ ہے اور میں نے قبول کئے اس کے تمام احکام مجھے اس کا زبان سے اقرار ہے اور دل سے یقین۔

ایمان مفصل :

         اٰمَنْتُ بِاﷲ  وَمَلٰئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ  مِنَ اﷲ  تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَالْمَوْتِ ط

        میں ایمان لایا اﷲ ( عَزَّ وَجَلَّ ) پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اس پر کہ ہر بھلائی اور برائی اﷲ  تَعَالٰی نے مقدر فرما دی ہے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے۔

تنبیہ : ۔ان چھ کلموں اور ایمان مجمل و ایمان مفصل کو زبانی یاد کر لو۔ اور معنوں کو خوب سمجھ کر سچے دل سے یقین کے ساتھ ان پر ایمان لاؤ۔ کیونکہ یہی وہ کلمے ہیں جن پر اسلام کی بنیاد ہے۔ جب تک ان کلموں پر ایمان نہ لائے کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔

        یہ مسلمانوں کی بہت بڑی کم نصیبی ہے کہ ہزاروں لاکھوں مسلمان ان کلموں سے ناواقف یا غافل ہیں ۔ حالانکہ ہر مسلمان ماں باپ پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو یہ اسلامی کلمے زبانی یاد کرادیں ۔ اور ان کلموں کے معنی بچوں کو بتا کر ذہن نشین کرادیں ۔ تاکہ یہ اسلامی عقیدے بچپن ہی سے دلوں میں جم جائیں اور زندگی کی آخری سانس تک ہر مسلمان مرد و عورت ان عقیدوں پر پہاڑ کی طرح مضبوطی کے ساتھ قائم رہے اور دنیا کی کوئی طاقت ان کو اسلام سے برگشتہ نہ کر سکے اور جن بالغ مردوں اور عورتوں کو یہ کلمے نہ یاد ہوں ان پر بھی لازم ہے کہ وہ جلد سے جلد ان کلموں کو یاد کرلیں اور ان کے معنوں کو سمجھ کر سچے دل سے ان کو جان پہچان کر اور مان کر ان پر ایمان رکھیں اور ہر وقت ان عقیدوں کا دھیان رکھیں ۔ کیونکہ یہی عقیدے اسلام کی پوری عمارت کی بنیاد ہیں ۔ جس طرح کسی عمارت کی بنیاد ہل جائے یا کمزور ہو جائے تو وہ عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔ ٹھیک اسی طرح اگر اسلام کے ان عقیدوں میں کوئی شک و شبہ پیدا ہو جائے تو اسلام کی عمارت بالکل ہی تہس نہس اور برباد ہوجائے گی۔

اﷲ  تعالٰی

عقیدہ : ۱تمام عالم زمین و آسمان وغیرہ سارا جہان پہلے بالکل ناپید تھا۔ کوئی چیز بھی نہیں تھی پھر اﷲ  تَعَالٰی نے اپنی قدرت سے سب کو پیدا کیا تو یہ سب کچھ موجود ہوا۔

  (شرح العقائد النسفیۃ ، مبحث العالم بجمیع اجزائہ محدث ، ص۲۴/ پ۷، الانعام : ۱۰۱)

عقیدہ : ۲جس نے تمام عالم اور دوسرے جہان کو پیدا کیا اسی پاک ذات کا نام اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  ہے۔

(پ۱، البقرۃ : ۲۹/ پ۷، الانعام : ۱/پ۲۴، المؤمنون : ۶۲/ المسامرۃ بشرح المسایرۃ، الاصل العاشر العلم بانہ  تَعَالٰی واحدلاشریک لہ، ص۴۴)   

عقیدہ : ۳ اﷲ  تَعَالٰی ایک ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں ۔         (پ۲۶، محمد : ۱۹/پ۱۵، الکھف : ۲۶)

        وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ (المسامرۃ بشرح المسایرۃ ، الاصل الثانی :  اللہ  قدیم ، ص۲۲۔۲۵)

          وہ بے پروا ہے۔ کسی کا محتاج نہیں ۔ سارا عالم اس کا محتاج ہے۔

    (شرح الملا علی القاری علی الفقہ الاکبر ، لایشبہ اللّٰہ شیء من خلقہ، ص۱۵/ پ۲۶، محمد : ۳۸)

         کوئی چیز اس کے مثل نہیں وہ سب سے یکتا اور نرالا ہے۔ (پ۲۵، الشورٰی : ۱۱/پ۳۰، الاخلاص : ۱۔۴)

         اور وہی سب کا خالق و مالک ہے۔         (پ۷، المائدۃ : ۱۲۰/پ۷، الانعام : ۱۰۲)

عقیدہ : ۴وہ زندہ ہے۔(پ۳، البقرۃ : ۲۵۵)

         وہ قدرت والا ہے وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔(پ۲۲، فاطر : ۴۴)

         سب کچھ دیکھتا ہے سب کچھ سنتا ہے ۔(پ۲۵، الشورٰی : ۱۱)

        سب کی زندگی اور موت کا مالک ہے جس کو جب تک چاہے زندہ رکھے اور جب چاہے موت دے۔ وہی سب کو جلاتاا ور مارتا ہے۔(پ۱۱، التوبۃ : ۱۱۶)

         وہی سب کو روزی دیتا ہے وہی جس کو چاہے عزت اور ذلت دیتا ہے۔                (<



Total Pages: 188

Go To