Book Name:Jannati Zevar

دہلوی علیہ الرحمۃ  کے ملفوظات میں ہے کہ ہندوستان میں شب برات کو روٹی اور حلوا پر فاتحہ دلانے کا دستور ہے۔ اور سمر قند و بخارا میں ’’قتلما‘‘ پر جو ایک میٹھا کھانا ہے۔

        الغرض شب برات کا حلوا ہو یا عید کی سویاں ، محرم کا کھچڑا ہو یا ملیدہ، محض ایک رسم و رواج کے طریقہ پر لوگ پکاتے کھاتے اورکھلاتے ہیں ۔ کوئی بھی یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ یہ فرض یا سنت ہیں ۔ اس لئے اس کو ناجائز کہنا درست نہیں ۔ یاد رکھو کسی حلال کو حرام ٹھہرانااﷲ  پر جھوٹی تہمت لگانا ہے جو ایک بدترین گناہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًاؕ-قُلْ ﰰ للّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ(۵۹) (پ۱۱، یونس : ۵۹)

        یعنی کہہ دو بھلا بتاؤ تو وہ جو اﷲ  نے تمہارے لئے رزق اتارا۔ اس میں تم نے اپنی طرف سے کچھ حرام کچھ حلال ٹھہرالیا۔ (اے پیغمبر) فرمادو کیا اﷲ  نے اس کا تمہیں حکم دیا ہے، یا اﷲ  پر تم لوگ تہمت لگاتے ہو؟     

 (۴)ایمانیات

غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

        جاننا چاہئے کہ مسائل شریعت چار قسم کے ہیں پہلی قسم وہ مسائل ہیں جن کا تعلق ایمان و عقیدہ سے ہے جیسے توحید‘ رسالت‘ قیامت وغیرہ کا بیان۔ دوسری قسم وہ چیزیں ہیں جو بدنی و مالی عبادتوں سے تعلق رکھتی ہیں جیسے نماز روزہ اور حج وزکوٰۃ وغیرہ۔ تیسری قسم وہ باتیں ہیں جن کا تعلق ایک دوسرے کے ساتھ لین دین اور معاملات سے ہے۔ جیسے خریدوفروخت‘ نکاح و طلاق‘ حکومت و سیاست وغیرہ چوتھی قسم ان اوصاف کا بیان جو انسان کے اخلاق و عادات اور نفسانی جذبات سے تعلق رکھنے والے ہیں ۔ جیسے شجاعت‘ سخاوت‘ صبر و شکر وغیرہ۔

         مسائل شریعت کی یہ چاروں قسمیں انسان کی صلاح و فلاح دارین کے لئے انتہائی ضروری ہیں لیکن واضح رہے کہ جب تک عقیدے صحیح اور درست نہیں ہوں گے اس وقت تک کوئی عمل مقبول نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ پہلے اسلام کے عقیدوں کو اچھی طرح جان کر اس پر ایمان لائیں اور سچے دل سے ان کو مان کر زبان سے اقرار بھی کریں ۔یوں سمجھو کہ عقائد جڑ ہیں اور اعمال شاخیں ہیں اگر درخت کی جڑ ہی کٹ جائے گی تو شاخیں کبھی ہری بھری نہیں رہ سکتیں ۔ اس لئے پہلے ہم عقائدِ اسلام کو بیان کرتے ہیں ۔ اس کے بعد اِنْ شَآءَ اﷲ  تَعَالٰی نماز و روزہ اور زکوٰۃ وحج وغیرہ اعمال اسلام کا بیان بھی ہم لکھیں گے اور ان فرائض کے علاوہ دوسرے اسلامی مسائل کو بھی ہم بیان کریں گے۔ اﷲ  تَعَالٰی ہر مسلمان کے عقیدوں کو درست فرمائے اور علم کی توفیق دے۔ (آمین)

چھ کلمے

اول کلمہ طیب :     لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)

 اﷲ  کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ محمد( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  کے برگزیدہ رسول ہیں ۔

دوم کلمہ شہادت :   

       اَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًَا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ

   میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ ( عَزَّ وَجَلَّ ) کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اس کے خاص بندے اور رسول ہیں ۔

سوم کلمہ تمجید :       

        سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ط وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ 

اِلاَّ بِاﷲ  الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ط

       پاک ہے اﷲ  ( عَزَّ وَجَلَّ ) اور ساری خوبیاں اﷲ  ( عَزَّ وَجَلَّ ) ہی کے لئے ہیں ۔ اﷲ  ( عَزَّ وَجَلَّ ) کے سوا کوئی معبود نہیں اور اﷲ  ( عَزَّ وَجَلَّ ) سب سے بڑا ہے اور گناہ سے باز رہنے اور نیکی کی قوت اﷲ  ( عَزَّ وَجَلَّ ) ہی سے ہے جو بلند مرتبہ والا عظمت والا ہے۔

چہارم کلمہ توحید :    

لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰـہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَـہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ط یُحْیِیَْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لاَّ یَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًا ط ذُو الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ط   

     اﷲ  ( عَزَّ وَجَلَّ ) کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے ساری خوبیاں ، وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور وہ زندہ ہے کبھی بھی نہیں مرے گا۔ وہ عظمت اور بزرگی والا ہے۔اسی کے ہاتھ میں خیر ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

پنجم کلمہ استغفار :

        اَسْتَغْفِرُ اللّٰـہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہٗ عَمَدًا اَوْخَطَاً سِرًّا اَوْ عَلَانِیَۃً وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْٓ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ لَآ اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُیُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲ  الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ط

        میں اﷲ ( عَزَّ وَجَلَّ ) سے بخشش مانگتا ہوں جو میرا پروردگار ہے ہر گناہ سے جو میں نے کیا، خواہ جان کر یا بے جانے، چھپ کر، خواہ کھلم کھلا اور میں اس کی طرف توبہ کرتا ہوں اس گناہ سے جسے میں جانتا ہوں اور اس گناہ سے بھی جو میں نہیں جانتا، یقیناً تو ہی ہر غیب کو خوب جاننے والا ہے اور توہی عیبوں کو چھپانے والا اور گناہوں کو بخشنے والا ہے اور گناہ سے باز رہنے اور نیکی کی قوت اﷲ ( عَزَّ وَجَلَّ ) ہی سے ہے جو بلند مرتبہ والا، عظمت والا ہے۔

 



Total Pages: 188

Go To