Book Name:Jannati Zevar

بی تھا۔

تعلیم وتربیت :  مولانا نے تعلیم مدرسہ محمدیہ امروھہ، مدرسہ منظراسلام بریلی میں علی الترتیب مولانا غلام جیلانی اعظمی ، مولانا حکمت اللہ  امروھوی ، حضرت مولانا سید خلیل کاظمی محدث امروھوی، حضرت مولانا شاہ سردار ا حمد محدث اعظم پاکستان سے حاصل کی۔۱۰شوال المکرم ۱۳۵۵ھ کو دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ ریاست دادوں علی گڑھ پہنچے، حضرت صدرالشریعہ سے دورۂ حدیث پڑھا، ۱۳۵۶ھ میں سند فضیلت مرحمت ہوئی۔

بیعت و خلافت :   ۱۷صفر المظفر۱۳۵۳ھ میں حضرت الحاج حافظ شاہ ابرار حسن خان صاحب نقشبندی شاہجہان پوری سے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور۲۵صفر المظفر ۱۳۵۸ھ میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا الحاج حامد رضا خان صاحب علیہ الرحمۃ   نے سلسلۂ قادریہ رضویہ کی خلافت عطا فرمائی اس کے بعد حضرت مولانا قاضی محبوب احمد عباسی صاحب خلیفہ حافظ شاہ ابرار حسن صاحب شاہ جہان پوری نے سلسلۂ        نقشبندیہ مجددیہ کی خلافت سے سر فراز فرمایا۔

 درس وتدریس :  آپ نے درج ذیل مدارس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیے۔

(۱) مدرسہ اسحاقیہ جودھ پور میں ایک سال۔

(۲)  مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروھہ ضلع مرادآباد میں تین سال۔

(۳)  دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور میں دس سال۔   

(۴)  دارالعلوم شاہ عالم احمد آباد گجرات میں بعہدۂ شیخ الحدیث تین سال۔

(۵)  دارالعلوم صمدیہ علاقہ بمبئی میں بعہدۂ شیخ الحدیث تین سال۔

(۶)  مدرسہ مسکینیہ دھوراجی کاٹھیاواڑ میں بعہدۂ شیخ الحدیث تین سال۔

(۷) مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آبادمیں بعہدۂ شیخ الحدیث گیارہ سال۔

(۸)دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف میں بعہدۂ شیخ الحدیث سات سال۔

        بحمدہ  تَعَالٰی ان درس گاہوں میں تقریباً تین سو سے زائد طلبہ آپ کے درس سے فارغ التحصیل ودستار بند ہو کر ہندوستان و پاکستان ، بنگلہ دیش ، انگلینڈاور افریقہ میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

سفر حج اور آپ کے مشائخ حرمین :   ۱۹شوال المکرم ۱۳۷۸؁ھ میں حرمین شریفین روانہ ہوئے ۔مکہ مکرمہ میں حضرت مفتی محمد سعد اللہ  المکی نے صحاح ستہ ودلائل الخیرات شریف و حزب البحر کی اجازت دے کر سندیں عطا فرمائیں اور مفتی المالکیہ مولاناسید علوی عباس مکی نے صحاح ستہ کی سند عطا فرمائی اور حضرت شیخ الحرم مولانا محمد ابن العربی الجزائری علیہ الرحمۃ  نے بخاری اور مؤطاشریف کی سند خاص سے سرفراز  فرمایااور مدینہ منورہ میں شیخ الدلائل حضرت علامہ یوسف بن محمدبن علی باشلی حریری مدنی نے اپنی سند خاص کے ساتھ دلائل الخیرات شریف کی اجازت عطافرمائی۔

وعظ و تقریر :   آپ ایک بلند پایہ مقرر تھے۔ وعظ و تقریر کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ زبان میں شیرینی، روانی اور تاثیر تھی۔ملک کے طول وعرض میں آپ کے بیانات کی دھوم مچی ہوئی تھی۔

تصانیف :   آپ کی خاص خاص تصانیف جو بحمدہٖ  تَعَالٰی طبع ہو کر ملک و بیرون ملک میں مقبولیت پا چکی ہیں ، حسب ذیل ہیں ۔

(۱) سیرۃ المصطفیصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ(۲) جنتی زیور (۳) کرامات صحابہ علیہم الرضوان  (۴)ایمانی تقریریں (۵) نورانی  تقریریں (۶) حقانی تقریریں (۷) قرآنی تقریریں (۸) عرفانی تقریریں (۹) نوادر الحدیث (۱۰) اولیاء رجال الحدیث (۱۱) روحانی حکایات (حصہ اول)  (۱۲) روحانی حکایات (حصہ دوم) (۱۳) معمولات الابرار (۱۴) قیامت کب آئے گی (۱۵) مشائخ نقشبندیہ(۱۶) موسم رحمت(۱۷)بہشت کی کنجیاں (۱۸)جہنم کے خطرات (۱۹)عجائب القرآن (۲۰) غرائب القرآن(۲۱) جواہر الحدیث (۲۲)آئینہ عبرت(۲۳) سامان آخرت (۲۴)  مسائل القرآن

شعرو شاعری :  زمانہ طالب علمی سے ہی آپ کو شعر وسخن کا ذوق تھا۔ نعت اور قومی نظموں کے علاوہ غزل کی صنف میں بھی طبع آزمائی فرماتے تھے اور باقاعدہ مشاعروں میں بھی شریک ہوتے تھے۔آپ نے اپنے اشعار کا مجموعہ مرتب کر لیا تھا مگر دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور میں آپ کے کمرہ کے اندر آگ لگ گئی جس میں قیمتی کتابوں کے ساتھ یہ نادر الوجود بیاض بھی نذر آتش ہوگئی۔آپ کی کچھ نعتیں اور نظمیں جو رسالوں میں چھپ چکی تھیں اور بعض تلامذہ کے پاس چند نعتیں اور نظمیں اس طرح باقی رہ گئیں ہیں کہ

ع   کچھ بلبلوں کو یاد ہے کچھ قمریوں کو حفظ

بکھری ہوئی چمن میں مری داستان ہے

وصال :  براؤں شریف کے دور تدریس میں دوبار آپ پر فالج کا حملہ ہوا لیکن بفضل خدا عَزَّ وَجَلَّ  علاج سے فالج کا اثر جاتا رہا مگر پہلے جیسی توانائی باقی نہ رہی۔ وفات سے چھ ماہ قبل شدید بیمار ہوئے بالآخر ۵ رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ/۱۵ مئی۱۹۸۵ء بروز جمعرات بوقت عصر علم و حکمت ، فضل و کمال کا یہ مہر درخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔دوسرے دن بعد نماز جمعہ ہزاروں سوگواروں نے اس پیکر علم ودانش اور صاحب قلم مصنف کو ان کی ذاتی زمین میں سپرد خاک کردیا۔(رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) (ملخص از سیرتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ )

بِسْمِ اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

تقریظ

 



Total Pages: 188

Go To