Book Name:Jannati Zevar

کی آگ سے نجات پائی یہی وہ دن ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی بلائیں ختم ہوئیں ۔ یہی وہ دن ہے کہ حضرت ادریس وحضرت عیسیٰ علیہما السلام آسمانوں پر اٹھائے گئے۔ یہی وہ دن ہے کہ بنی اسرائیل کے لئے دریا پھٹ گیا۔ اور فرعون لشکر سمیت دریا میں غرق ہوگیا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی۔ اسی دن حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے زندہ وسلامت باہر تشریف لائے۔ اسی دن حضرت امام حسین اور ان کے رفقاء نے میدان کربلا میں جام شہادت نوش فرما کر حق کے پرچم کو سر بلند فرمایا۔ (ماثبت من السنۃ (مترجم)ص۱۷، غنیۃ الطالبین، ص۸۷)

شب عاشوراء کی نفل نماز : ۔عاشوراء کی رات میں چار رکعت نماز نفل اس ترکیب سے پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد کے بعد آیۃ الکرسی ایک بار اور سورئہ اخلاص   (قل ھو اﷲ ) تین تین بار پڑھے اور نماز سے فارغ ہو کر ایک سو مرتبہ قل ھواﷲ  کی سورہ پڑھے۔ گناہوں سے پاک ہوگا اور بہشت میں بے انتہا نعمتیں ملیں گی۔     

عاشوراء کا روزہ : ۔نویں اور دسویں محرم دونوں کا روزہ رکھنا چاہئے اور اگر نہ ہوسکے تو عاشورا ہی کے دن روزہ رکھے۔ اس روزہ کا ثواب بہت بڑا ہے۔

        عاشورا کے دن دس چیزوں کو علماء نے مستحب لکھا ہے بعض عالموں نے ان کو ارشاد نبوی کہا ہے اور بعض نے حضرت علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا قول بتایا ہے۔ بہر حال یہ سب اچھے اعمال ہیں لہٰذا ان کو کرنا چاہئے۔

(۱)روزہ رکھنا۔ (۲)صدقہ کرنا۔(۳)نماز نفل پڑھنا۔(۴) ایک ہزار مرتبہ قل ھواﷲ  پڑھنا۔(۵)علماء کی زیارت۔(۶)یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا۔(۷)اپنے اہل و عیال کے رزق میں وسعت کرنا۔ (۸)غسل کرنا۔(۹)سرمہ لگانا۔ (۱۰)ناخن تراشنا ۔

    اور بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ ان دس چیزوں کے علاوہ تین چیزیں اور بھی مستحب ہیں ۔ (۱)مریضوں کی بیمار پرسی کرنا۔(۲)دشمنوں سے ملاپ کرنا۔(۳)دعائے عاشوراء پڑھنا۔

        حضرت عبداﷲ بن مسعود صحابی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ہے کہ جو شخص عاشوراء کے دن اپنے بال بچوں کے کھانے پینے میں خوب زیادہ فراخی اور کشادگی کرے گا یعنی زیادہ کھانا تیار کرا کر خوب پیٹ بھر کے کھلائے گااﷲ  تَعَالٰی سال بھر تک اس کے رزق میں وسعت اور خیر و برکت عطا فرمائے گا۔  (ماثبت من السنۃ(مترجم)ص۱۷)

مجالس محرم : ۔عشرئہ محرم بالخصوص دسویں محرم عاشوراء کے دن مجلس منعقد کرنا اور صحیح روایتوں کے ساتھ شہداء کربلا رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمکے فضائل و واقعات کربلا کو بیان کرنا جائز اور باعث ثواب ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ جن مجالس میں صالحین کا ذکر ہو، وہاں رحمت نازل ہوتی ہے۔ پھر چونکہ ان واقعات میں صبرو تحمل اور تسلیم و رضاا ور پابندی شریعت کا بے مثال عملی نمونہ بھی ہے۔ اس لئے کربلا کے واقعات کو بار بار بیان کرنے سے مسلمانوں کو دین پر استقامت حاصل ہوگی جو اسلام کا عطر اور ایمان کی روح ہے مگر ہاں اس کا خیال رہے کہ ان مجلسوں میں صحابہ کرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمکا بھی ذکر خیر ہو جانا چاہئے۔ تاکہ اہلسنّت اور شیعوں کی مجلسوں میں فرق و امتیاز رہے۔ میلاد شریف اور گیارہویں شریف کی محفلوں کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ یہ سب جائز و درست اور بہت ہی بابرکت محفلیں ہیں اور یقیناََ باعث ثواب اور مستحب ہیں ۔ اس لئے ان کو نہایت اخلاص و محبت سے کرنا چاہئے اور ان محفلوں اور مجلسوں میں نہایت ہی محبت و عقیدت کے ساتھ حاضری دینا چاہئے ان محفلوں سے لوگوں کو روکنا یہ وہابیوں کا طریقہ ہے۔ ہر گز ان لوگوں کی بات نہیں ماننی چاہئے۔ کیونکہ یہ لوگ گمراہ ہیں ۔

فاتحہ : ۔محرم کے دس دنوں تک خصوصاََ عاشوراء کے دن شربت پلا کر‘ کھانا کھلا کر‘ شیرینی پر یا کھچڑا پکا کر شہدائے کر بلا کی فاتحہ دلانا اور ان کی روحوں کو ثواب پہنچانا یہ سب جائز اور ثواب کے کام ہیں ۔ اور ان سب چیزوں کا ثواب یقیناََ شہدائے کربلاکی روحوں کو پہنچتا ہے اور اس فاتحہ و ایصال ثواب کے مسئلہ میں حنفی‘ شافعی‘ مالکی‘ حنبلی اہلسنّت کے چاروں اماموں کا اتفاق ہے ۔  

(شرح العقائد النسفیۃ، مبحث دعاء الاحیاء للاموات، ص۱۷۲)

        پہلے زمانوں میں فرقہ معتزلہ اور اس زمانے میں فرقہ وہابیہ اس مسئلہ میں اہلسنّت کے خلاف ہیں اور فاتحہ و ایصال ثواب سے منع کرتے رہتے ہیں ۔ تم مسلمانان اہلسنّت کو لازم ہے کہ ہرگز ہرگز نہ ان کی باتیں سنو، نہ ان لوگوں سے میل جول رکھو ورنہ تم خود بھی گمراہ ہوجاؤ گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرو گے۔

        دسویں محرم کو دعائے عاشوراء پڑھنے سے عمر میں خیروبرکت اور زندگی میں فلاح و نعمت حاصل ہوتی ہے۔ ہماری کتاب ’’موسم رحمت‘‘ میں پوری اور مکمل دعائے عاشوراء لکھی ہوئی ہے اس کتاب کو ضرور پڑھو۔

محرم کا کھچڑا : ۔عاشوراء کے دن کھچڑا پکانا فرض یا واجب نہیں ہے لیکن اس کے حرام و ناجائز ہونے کی بھی کوئی دلیل شرعی نہیں ہے بلکہ ایک روایت ہے کہ خاص عاشوراء کے دن کھچڑا پکانا حضرت نوح علیہ السلام کی سنت ہے۔ چنانچہ منقول ہے کہ جب طوفان سے نجات پاکر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری تو عاشورا کا دن تھا۔ آپ نے کشتی میں سے تمام اناجوں کو باہر نکالا تو فول (بڑی مٹر) گیہوں ‘ جو‘ مسور‘ چنا‘ چاول‘ پیاز‘ سات قسم کے غلے موجود تھے آپ نے ان ساتوں اناجوں کو ایک ہی ہانڈی میں ملا کر پکایا۔ چنانچہ علامہ شہاب الدین قلیوبی نے فرمایا کہ مصر میں جو کھانا عاشوراء کے دن ’’طبیخ الحبوب‘‘ (کھچڑا) کے نام سے پکایا جاتا ہے۔ اس کی اصل دلیل یہی حضرت نوح علیہ السلام کا عمل ہے۔ (کتاب القلیوبی، فائدۃ فی یوم عاشوراء ، ص۱۳۶)

شب برات کا حلوا : ۔شب برات کا حلوا پکانا نہ تو فرض و سنت ہے نہ حرام و ناجائز بلکہ حق بات یہ ہے کہ شب برات میں دوسرے تمام کھانوں کی طرح حلوا پکانا بھی ایک مباح اور جائز کام ہے اور اگر اس نیک نیتی کے ساتھ ہو کہ ایک عمدہ اور لذیذ کھانا فقراء ومساکین اور اپنے اہل و عیال کو کھلا کر ثواب حاصل کرے تو یہ ثواب کا کام بھی ہے۔

        درحقیقت اس رات میں حلوے کا دستوریوں نکل پڑا کہ یہ مبارک رات صدقہ وخیرات اور ایصال ثواب و صلہ رحمی کی خاص رات ہے۔ لہٰذا انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اس رات میں کوئی مرغوب اور لذیذ کھانا پکایا جائے۔ بعض عالموں کی نظر بخاری شریف کی اس حدیث پر پڑی کہ۔

کان رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ وسلم یحب الحلواء والعسل۔

(صحیح البخاری، کتاب الاطعمۃ، باب الحلواء والعسل، رقم ۵۴۳۱، ج۳، ص۵۳۶)

        یعنی’’ رسول اﷲ    صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَحلوا (شیرینی) اور شہد کو پسند فرماتے تھے۔‘‘   

        لہٰذا ان علمائے کرام نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس رات میں حلوا پکایا۔ پھر رفتہ رفتہ عوام میں بھی اس کا چرچا اور رواج ہوگیا۔ چنانچہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب قبلہ محدث



Total Pages: 188

Go To