Book Name:Jannati Zevar

روشنی معرفت کی گر چاہو

چشم دل کی ضیاء عبادت ہے

روح کو ملتی ہے توانائی

ہر مرض کی دوا عبادت  ہے

اعظمیؔ کر علاج عصیاں کا

معصیت کی شفاء عبادت ہے

(۳)رسومات

محبت خصومات میں کھو گئی

یہ امت رسومات میں کھو گئی

مسلمانوں کی رسموں کا بیان

     جب تک اسلام عرب کی زمین تک محدود رہا۔ اس وقت تک مسلمانوں کا معاشرہ اور ان کا طرز زندگی بالکل ہی سیدھا سادہ اور ہر قسم کی رسومات اور بدعات و خرافات سے پاک صاف رہا۔ لیکن جب اسلام عرب سے باہر دوسرے ملکوں میں پہنچا تو دوسری قوموں اور دوسرے مذہب والوں کے میل جول اور ان کے ماحول کا اسلامی معاشرہ اور مسلمانوں کے طریقہ زندگی پر بہت زیادہ اثر پڑا اور کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ کی بہت سی غلط سلط اور من گھڑت رسموں کا مسلمانوں پر ایسا جارحانہ حملہ ہوا، اور مسلمان ان مشرکانہ رسموں میں اس قدر ملوث ہو گئے کہ اسلامی معاشرہ کا چہرہ مسخ ہو گیا اور مسلمان رسم و رواج کی بلاؤں میں گرفتار ہو کر خیرالقرون کی سیدھی سادھی اسلامی طرز زندگی سے بہت دور ہوگئے۔ چنانچہ خوشی غمی‘ پیدائش و موت‘ ختنہ‘ شادی بیاہ‘ وغیرہ مسلمانوں کی جملہ تقریبات بلکہ مسلمانوں کی زندگی و موت کے ہر مرحلہ اور موڑ پر قسم قسم کی رسموں کی فوجوں کا اس طرح عمل دخل ہوگیا ہے کہ مسلمان اپنی تقریبات کو باپ داداؤں کی ان روایتی رسموں سے الگ کر ہی نہیں سکتے اور یہ حال ہوگیا ہے کہ     ؎

یہ امت روایات میں کھو گئی

حقیقت خرافات میں کھو گئی

        ہمارے یہاں مسلمانوں کی تقریبات میں جن رسموں کا رواج پڑ گیا ہے ان کے بارے میں تین قسم کے مکتبِ خیال کے لوگ ہیں جو اپنے اپنے مسلک کا اعلان کرتے رہتے ہیں ۔

        اول لال‘ پیلے‘ ہرے رنگ کے لباسوں والے گیسو دراز قسم کے رنگین مزاج باباؤں کا گروہ جو تصوف کا لبادہ اوڑھے ہوئے صوفی بنے پھرتے ہیں ان حقیقت و معرفت کے ٹھیکیداروں نے تو تمام خرافات اور خلاف شریعت رسومات کو جائز ٹھہرا رکھا ہے۔ یہاں تک کہ ڈھولک اور طبلہ کی تھاپ‘ اور ہار مونیم اور سارنگی کے راگ پر ان لوگوں کو معرفت کی معراج حاصل ہوتی ہے۔ ان لوگوں نے اپنی جہالت سے مسلم معاشرہ کو تہس نہس‘ اور اسلام کے مقدس چہرے کو خرافات و بدعات اور خلاف شریعت رسومات کے داغ دھبوں سے مسخ کر ڈالا ہے۔ یہ لوگ بلا شبہ خطاکار ہیں ۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان لوگوں کی صحبت‘ اور ان لوگوں کی پیروی سے ہمیشہ بچتے رہیں ۔

        دوم وہابیوں دیوبندیوں کا فرقہ ہے جنہوں نے اصلاح کے نام سے اسلامی معاشرہ اور دین اسلام کی حجامت بنا ڈالی ہے۔ ان لوگوں نے یہ ظلم کیا ہے کہ مسلم معاشرہ کی جائز و ناجائز تمام رسومات کو حرام و بدعت بلکہ کفر و شرک ٹھہرا دیا ہے۔ اور یہ لوگ یہاں تک حد سے بڑھ گئے کہ دولھا کے سر پر سہرا  باندھنے کو کفر و شرک لکھ دیا ہے اور زیب و زینت کے لیے دیواروں پر دیوار گیری اور چھتوں میں چھت گیری لگانے کو بدعت اور حرام لکھ مارا۔ اور دوسری بہت سی جائز چیزوں مثلاََ قبروں پر چادر ڈالنے‘ بزرگوں کی نیازو فاتحہ دلانے ‘ مردوں کا تیجہ‘ چالیسواں کرنے کو بدعت و حرام قرار دے دیا۔ میلاد شریف کی مجلسوں کو حرام و بدعت بلکہ کَنْہَیَّا کے جنم سے بدتر لکھ دیا۔ قیام و سلام کو نا جائز و ممنوع قرار دیا۔ بزرگان دین کے عرسوں کو ناجائز و حرام لکھا۔ محرم میں ذکر شہادت اور سبیلوں سے منع کیا۔ اور لطف یہ ہے کہ ان لوگوں سے جب ان رسومات کے کفر و شرک اور بدعت و حرام ہونے پر دلیل طلب کی جاتی ہے تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم لوگوں نے احتیاطاً ان چیزوں کو کفر و شرک اور حرام و بدعت لکھ دیا ہے تاکہ لوگ ڈر کر ان چیزوں کو چھوڑ دیں ۔ خدا کے لئے کوئی ان سے پوچھے کہ اﷲ  تَعَالٰی کی حلال کی ہوئی چیزوں کو کفر و شرک‘ اور حرام و ناجائز ٹھہرانا یہ احتیاط ہے یا اعلیٰ درجے کی بے احتیاطی ہے؟ اﷲ  تَعَالٰی نے جن چیزوں کو حلال بتایا ہے ان کو کفر وشرک اور حرام بتانا۔ یہ اﷲ  تَعَالٰی پر افتراء وتہمت ہے اور قرآن مجید میں اﷲ  تَعَالٰی کا ارشاد ہے کہ۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ  (پ۲۴، الزمر : ۳۲)

یعنی اس سے زیادہ ظالم اور کون ہوگا؟ جو اﷲ  تَعَالٰی پر جھوٹی تہمت لگائے۔

        بہر حال خلاصہ کلام یہ ہے کہ جن رسموں کو اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  و رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حرام نہیں بتایا۔ ان کو خواہ مخواہ کھینچ تان کر حرام ٹھہرانا یہ خود بہت بڑا گناہ ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان لوگوں سے بھی الگ تھلگ رہیں ۔ اور ہر گز ہرگز ان لوگوں کی پیروی نہ کریں ۔

        سوم ہم سب اہلسنّت و جماعت کا مقدس طبقہ ہیں ۔ جس کے بڑے بڑے علمبرداروں میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی و مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی‘ ومولانا فضل رسول بدایونی‘ ومولانا فضل حق خیر آبادی‘ومولانا بحر العلوم لکھنوی و اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی وغیرہ بزرگان دین ہیں ۔ اہلسنّت و جماعت کے ان مقدس بزرگوں کا مسلمانوں کی رسموں کے بارے میں یہ فتویٰ ہے کہ مسلمانوں کی وہ رسمیں جن کو شریعت نے منع کیا ہے وہ یقیناََ حرام و ناجائز ہیں ۔ مثلاََ ناچ گانا۔ باجا بجانا۔ آتش بازی دولھا کو چاندی سونے کے زیورات پہنانا۔



Total Pages: 188

Go To