Book Name:Jannati Zevar

        ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! سب سے بہترین چیز جو اﷲ  تَعَالٰی نے انسان کو عطا فرمائی ہے وہ کیا چیز ہے؟ تو آپ   صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ ’’اچھے اخلاق‘‘ (شعب الایمان ، باب فی تعظیم النبی صلی اللہ  علیہ وسلم ، رقم ۱۵۲۹، ج۲، ص۲۰۰)

 اور آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مومن کے میزان عمل میں سب سے زیادہ وزن دار نیکی اچھے اخلاق ہوں گے

(جامع الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی حسن الخلق ، رقم ۲۰۱۰، ج۳، ص۴۰۴)

        ہر مرد و عورت کو لازم ہے کہ اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں ‘ بلکہ ہر ملنے جلنے والے کے ساتھ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئے۔ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے لوگوں سے ملنا جلنا بہت بڑی سعادت اور خوش نصیبی کی عادت اور ثواب کا کام ہے جو لوگ ہر وقت گال پھلائے‘ منہ لٹکائے‘ اور پیشانی پر بل ڈالے ہوئے تیوری چڑھائے ہوئے ہر آدمی سے بد اخلاقی کے ساتھ پیش آتے ہیں وہ بہت ہی منحوس و مغرور ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادتوں اور خوش نصیبیوں سے محروم ہیں ۔ نہ ان کو کبھی خوشی نصیب ہوتی ہے۔ نہ ان سے مل کر دوسروں کا دل خوش ہوتا ہے بلکہ ایسے مردوں اور عورتوں کے چہروں پر ہر وقت ایسی رعونت اور نحوست برستی رہتی ہے کہ ان کا چہرہ دیکھ کے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ یہ ابھی ابھی سو کر اٹھے ہیں اور ابھی منہ بھی نہیں دھویا ہے۔

(۸)حیائ : ۔ہر آدمی خصوصاََ عورتوں کے حق میں حیاء کی عادت وہ انمول زیور ہے جو عورت کی عفت و پاک دامنی کا دارومدار اور نسوانیت کے حسن و جمال کی جان ہے جس مرد یا عورت میں حیاء کا جوہر ہوگا وہ تمام عیب لگانے والے اور برے کاموں سے فطری طور پر رک جائے گا اور تمام رذائل سے پاک صاف رہ رہ کر اچھے اچھے کاموں اور فضائل ومحاسن کے زیورات سے آراستہ ہو جائے گا۔ چنانچہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ

الحیاء شعبۃ من الایمان ۔  یعنی حیاء درخت ایمان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے ۔

          (صحیح البخاری، کتاب الایمان ، باب امور الایمان، رقم ۹، ج۱، ص۱۵)

(۹)صفائی ستھرائی : ۔یہ مبارک عادت بھی مردوں اور عورتوں کے لیے نہایت ہی بہترین خصلت ہے جو انسانیت کے سر کا ایک بہت ہی قیمتی تاج ہے۔ امیری ہو یا فقیری ہر حال میں صفائی و ستھرائی انسان کے وقار و شرف کا آئینہ دار‘ اور محبوب پروردگار ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کا یہ اسلامی نشان ہے کہ وہ اپنے بدن‘ اپنے مکان و سامان‘ اپنے دروازے اور صحن وغیرہ ہر ہر چیز کی پاکی اور صفائی ستھرائی کا ہر وقت دھیان رکھے۔ گندگی اور پھوہڑ پن انسان کی عزت و عظمت کے بد ترین دشمن ہیں اس لیے ہر مردو عورت کو ہمیشہ صفائی ستھرائی کی عادت ڈالنی چاہیے۔ صفائی ستھرائی سے صحت و تندرستی بڑھتی رہتی ہے اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں بیماریاں دور ہو جاتی ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اﷲ  تَعَالٰی  پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند فرماتا ہے۔

      (مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب اللباس ، الفصل الثالث ، رقم ۴۴۸۷، ج۲، ص۴۹۷)

 رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو پھوہڑ اور میلے کچیلے رہنے والے لوگوں سے بے حد نفرت تھی۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنے صحابہ کرام علیھم الرضوان کو ہمیشہ صفائی ستھرائی کا  حکم دیتے رہتے اور اس کی تاکید فرماتے رہتے تھے۔

        پھوہڑ عورتیں جو صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتی ہیں وہ ہمیشہ شوہروں کی نظروں میں ذلیل و خوار رہتی ہیں بلکہ بہت سی عورتوں کو ان کے پھوہڑپن کی وجہ سے طلاق مل جاتی ہے اس لیے عورتوں کو صفائی ستھرائی کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے۔

(۱۰)سادگی : ۔خوراک‘ پوشاک‘ سامان زندگی‘ رہن سہن ہر چیز میں  بے جا تکلفات سے بچنا‘ اور زندگی کے ہر شعبہ میں سادگی رکھنا یہ بہت ہی پیاری عادت اور نہایت ہی نفیس خصلت ہے۔ سادہ طرز زندگی میں امیری ہو یا فقیری‘ ہر جگہ ہر حال میں راحت ہی راحت ہے اس عادت والا آدمی نہ کسی پر بوجھ بنتا ہے نہ خود قسم قسم کے بوجھوں سے زیر بار ہو تا ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں سادگی ہی رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور آپکی مقدس بیویوں کا وہ مبارک طریقہ ہے جو تمام دنیا کے مردوں اور عورتوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ ہر مسلمان مرد اور عورت کو چاہئے کہ سادگی کی زندگی بسر کر کے رسول اﷲ    صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اس سنت کریمہ پر عمل کرے اور دنیا و آخرت کی راحتوں اور سعادتوں سے سرفراز ہو۔

(۱۱)سخا وت : ۔اپنی طاقت اور حیثیت کے لحاظ سے سخاوت کی عادت ایک نہایت ہی نفیس خصلت ہے۔ چنانچہ کنجوسی کے بیان میں سخاوت کی فضیلت اور اس کے بارے میں حدیث شریف ہم تحریر کر چکے ہیں ۔

(۱۲)شیریں کلامی : ۔ہر آدمی سے بات چیت کرنے میں نرم لہجہ اور شیریں زبانی کے ساتھ گفتگو کی عادت یہ انسانی خصائل میں سے بہترین عادت ہے۔ اس سے ہر آدمی کا دل جیتا جا سکتا ہے گفتگو میں کڑوا لہجہ‘ چیخنا چلانا‘ ڈانٹ پھٹکار منہ بگاڑ کر جواب دینا یہ اتنی مردود عادتیں ہیں کہ اس سے آدمی ہر ایک کی نظر میں قابل نفرت ہو جاتا ہے۔

گناہوں کا بیان

        گناہوں کی دو قسمیں ہیں ۔ گناہ صغیرہ (چھوٹے چھوٹے گناہ) گناہ کبیرہ (بڑے بڑے گناہ)گناہ صغیرہ نیکیوں اور عبادتوں کی برکت سے معاف ہو جاتے ہیں ۔ لیکن گناہ کبیرہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک کہ آدمی سچی توبہ کر کے اہل حقوق سے ان کے حقوق کو معاف نہ کرالے۔

گناہ کبیرہ کس کو کہتے ہیں ؟ : ۔گناہ کبیرہ اس گناہ کو کہتے ہیں جس سے بچنے پر خداوند قدوس نے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ (کتاب الکبائر، ص۷)

        اور بعض علمائے کرام نے فرمایا کہ ہر وہ گناہ جس کے کرنے والے پراﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  و رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے وعید سنائی‘ یا لعنت فرمائی۔ یا عذاب و غضب کا ذکر فرمایا وہ گناہ کبیرہ ہے۔ (کتاب الکبائر، ص۸)

گناہ کبیرہ کون کون سے ہیں ؟ : ۔گناہ کبیرہ کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر ان میں سے چند مشہور کبیرہ گناہوں کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں جو یہ ہیں ۔

(۱)شرک کرنا۔(۲)جادو کرنا۔(۳)خون ناحق کرنا۔(۴)سود کھانا۔ (۵)یتیم کا مال کھانا۔(۶)جہاد کفار سے بھاگ جانا۔ (۷)پاک دامن مومن مردوں اور عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ (۸)زنا



Total Pages: 188

Go To