Book Name:Jannati Zevar

ہے کہ تواضع کی عادت اختیار کرے اور کبھی بھی تکبر اور گھمنڈ نہ کرے۔

(۳)عفو و درگزر : ۔ہرگزاگر کوئی شخص تمھارے ساتھ ظلم و زیادتی کر بیٹھے یا ایذا پہنچائے یا کسی سے خطا یا قصور ہو جائے یا تمہیں کسی طرح کا نقصان پہنچائے تو بدلہ و انتقام لینے کی بجائے اسکو معاف کر دینا۔ یہ بہت ہی بہترین خصلت اور نہایت ہی نفیس عادت ہے۔ لوگوں کی خطاؤں کو معاف کردینا یہ قرآن مجید کا مقدس حکم اور رسولوں کا مبارک طریقہ ہے۔ خداوند قدوس نے قرآن مجید میں فرمایا کہ   

فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا (پ۱، البقرۃ : ۱۰۹)

        ’’یعنی لوگوں کی خطاؤں کو معاف کر دو اور درگزر کی خصلت اختیار کرو۔‘‘ ہمارے رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مکہ کے ان مجرموں اور خطاکاروں کو جنہوں نے برسوں تک آپ پر طرح طرح کے ظلم کئے تھے۔ فتح مکہ کے دن جب یہ سب مجرمین آپ کے سامنے لرزتے اور کانپتے ہوئے آئے تو آپ نے ان سب مجرموں کی خطاؤں کو معاف فرما دیا اور کسی سے بھی کوئی انتقام اور بدلہ نہیں لیا۔ جس کا یہ اثر ہوا کہ تمام کفار مکہ نے اس اخلاق محمدی صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے متأثر ہو کر کلمہ پڑھ لیا۔

        عزیز بھائیو اور پیاری بہنو! تم بھی اپنی یہی عادت بنا لو کہ گھر میں یا گھر کے باہر ہر جگہ لوگوں کے قصور معاف کر دیا کرو۔ اس سے لوگوں کی نظروں میں تمھارا و قار بڑھ جائیگا اور خداوند کریم بھی تم پر مہربان ہو کر تمھاری خطاؤں کو بخش دے گا۔

(۴)صبروشکر : ۔مصیبتوں اور جسمانی و روحانی تکلیفوں پر اپنے نفس کو اسطرح قابو میں رکھنا کہ نہ زبان سے کوئی برالفظ نکلے نہ گھبرا گھبرا کر اور پریشان حال ہو کر ادھر ادھر بھٹکتاا ور بھاگتا پھرے بلکہ بڑی سے بڑی آفتوں اور مصیبتوں کے سامنے عزم و استقلال کے ساتھ جم کر ڈٹے رہنا۔ اس کا نام صبر ہے صبر کا کتنا بڑا ثواب اور اجر ہے۔ اس کو بچہ بچہ جانتا ہے۔ قرآن مجید میں اﷲ  تَعَالٰی کا فرمان ہے کہ۔

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ     (پ۲، البقرۃ : ۱۵۳)

’’یعنی صبر کرنے والے کے ساتھ اﷲ  تَعَالٰی کی مدد ہوا کرتی ہے۔‘‘

اور خداوند کریم نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے یہ ارشاد فرمایا کہ۔

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (پ۲۶، الاحقاف : ۳۵)  

یعنی اے محبوب! آپ اسی طرح صبر کریں جس طرح تمام ہمت والے رسولوں نے صبر کیا ہے۔

        اس دنیا میں رنج و راحت اور غم و خوشی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ہر شخص کو اس دنیاوی زندگی میں تکلیف اور آرام دونوں سے پالا پڑنا ضروری ہے اس لیے ہر انسان پر لازم ہے کہ کوئی نعمت و راحت ملے تو اس پر خدا کا شکر ادا کرے اور کوئی تکلیف و رنج پہنچے تو اس پر صبر کرے۔ غرض صبر کی عادت ایک نہایت ہی بہترین عادت ہے اور مثل مشہور ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوا کرتا ہے۔ اس لیے ہر مرد وعورت کو چاہیے کہ صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑے۔

(۵)قناعت : ۔انسان کو جو کچھ خدا کی طرف سے مل جائے اس پر راضی ہو کر زندگی بسر کرتے ہوئے حرص اور لالچ کو چھوڑ دینا۔اس کو ’’قناعت‘‘ کہتے ہیں قناعت کی عادت انسان کے لیے خدا کی بہت بڑی نعمت ہے۔ قناعت پسند انسان سکون و اطمینان کی دولت سے مالا مال رہتا ہے اور حریص اور لالچی انسان ہمیشہ پریشان رہتا ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے

اے قناعت تونگرم گردان

کہ  ورائی تو ہیچ نعمت نیست

        یعنی اے قناعت کی عادت تو مجھ کو تو نگر اور مالدار بنادے۔ کیونکہ تجھ سے بڑھ کر دنیا میں کوئی نعمت نہیں ہے۔ ہر انسان خصوصاََ عورتوں کو چاہئے کہ ان کو بیٹے شوہروں کی طرف سے جو کچھ مل جائے اس پر راضی رہ کر قناعت کریں ۔ اور دوسری عورتوں کی دیکھا دیکھی حرص اور لالچ کی عادت سے ہمیشہ دور رہیں تو اِنْ شَآءَ اﷲ  تَعَالٰی ان کی زندگی نہایت ہی سکون و اطمینان کے ساتھ بسر ہوگی اور نہ وہ خود پریشان حال رہیں گی۔ نہ اپنے شوہر کو پریشانی میں ڈالیں گی۔

(۶)رحم وشفقت : ۔خدا کی ہر مخلوق‘ انسان ہو یا جانور اگر وہ رحم کے قابل ہوں تو ان پر رحم کرنا‘ اور ان کے ساتھ مہربانی و شفقت کا سلوک اور برتاؤ کرنا یہ انسان کی بہترین خصلت‘ اور اعلیٰ درجے کی قابل تعریف عادت ہے اور دنیا و آخرت میں اس پر بے حد ثواب ملتا ہے۔ حدیث شریف میں رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ہے کہ۔ 

        رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے اے لوگو! تم زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔ (جامع الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی رحمۃ المسلمین ، رقم ۱۹۳۱، ج۳،  ص۳۷۱)  

؎  کرو مہربانی  تم   اہل  زمیں  پر

خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر

        نرم خوئی‘ مہربانی اور رحم وکرم کی عادت خداوند کریم کی بہت ہی بڑی نعمت ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس کو رفق اور نرم دلی کی عادت خداوند کریم کی طرف سے عطا کر دی گئی اس کو دنیا و آخرت کی بھلائیوں کا بہت بڑا حصہ مل گیا۔ اور جو نرم دلی اور رحم و مہربانی کی خصلت سے محروم کردیا گیا۔ وہ دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے محروم ہو گیا۔

          (شرح السنۃ ، کتاب البر والصلۃ ، باب الرفق ، رقم ۳۳۸۵، ج۶، ص۴۷۲)

.5(۷).5خوش اخلاقی : ۔.5ہر ایک کے ساتھ خوش روئی اور خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا یہ وہ پیغمبرانہ خصلت ہے جس کے بارے میں حضور اکرم  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ.5 نے ارشاد فرمایا ہے کہ یقیناً تم سب مسلمانوں میں سب سے زیادہ مجھے وہ شخص محبوب ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں ۔      (صحیح البخاری ، کتاب المناقب ، باب صفۃ النبی علیہ الصلوۃ والسلام، رقم ۳۵۵۹، ج۲، ص۴۸۹)

 



Total Pages: 188

Go To