Book Name:Jannati Zevar

   (سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد ، باب الریاء والسمعۃ، رقم ۴۲۰۳، ج۴، ص۴۷۰)

        اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس عمل میں ذرہ بھر بھی ریا کاری کا شائبہ ہو اس عمل کو اﷲ  تَعَالٰی قبول نہیں فرماتا ہے۔

 (الترغیب والترہیب ، الترہیب من الریائ۔۔۔الخ ، رقم ۲۷، ج۱، ص۳۶)

        اور یہ بھی حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشار فرمایا کہ جہنم میں ایک ایسی وادی ہے جس کو اﷲ  تَعَالٰی نے ریا کاری کرنے والے قاریوں کے لئے تیار فرمایا ہے۔    

(جامع الترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی الریاء ، رقم ۲۳۹۰، ج۴، ص۱۷۰)

(۲۰)تعریف پسندی : ۔کچھ مرد اور عورتیں اس خراب عادت میں مبتلا ہیں کہ جو شخص ان کے منہ پر ان کی تعریف کردے وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور جو شخص ان کے عیبوں کی نشاندہی کردے اس پر مارے غصہ کے آگ بگولا ہو جاتے ہیں ۔ آدمی کی یہ خصلت بھی نہایت ناقص اور بہت بری عادت ہے۔ اپنی تعریف کو پسند کرنا اور اپنی تنقید پر ناراض ہو جانا یہ بڑی بڑی گمراہیوں اور گناہوں کا سر چشمہ ہے اس لئے اگر کوئی شخص تمہاری تعریف کرے تو تم اپنے دل میں سوچو اگر واقعی وہ خوبی تمہارے اندر موجود ہو تو تم اس پر خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے تم کو اس کی توفیق عطا فرمائی اور ہرگز اپنی اس خوبی پر اکڑ کر اترا کر خوش نہ ہوجاؤ۔ اور اگر کوئی شخص تمہارے سامنے تمہاری خامیوں کو بیان کرے تو ہرگز ہرگز اس پر ناراضگی کا اظہار نہ کرو۔ بلکہ اس کو اپنا مخلص دوست سمجھ کر اس کی قدر کرو اور اپنی خامیوں کی اصلاح کرلو اور اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ ہر تعریف کرنے والا دوست نہیں ہوا کرتا۔ اور ہر تنقید کرنے والا دشمن نہیں ہوا کرتا۔ قرآن و حدیث کی مقدس تعلیم سے پتا چلتا ہے کہ اپنی تعریف پر خوش ہو کر پھول جانے والا آدمی اﷲ  تَعَالٰی اور اس کے رسول  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بے حد ناپسند ہے اور اس قسم کے مردوں اور عورتوں کے اردگرد اکثر چاپلوسی کرنے والوں کا مجمع اکٹھا ہو جایا کرتا ہے اور یہ خود غرض لوگ تعریفوں کا پل باندھ کر آدمی کو بے وقوف بنایا کرتے ہیں ۔اور جھوٹی تعریفوں سے آدمی کو الو بنا کر اپنا مطلب نکال لیا کرتے ہیں ۔ اور پھر لوگوں سے اپنی مطلب برآری اور بیوقوف  بنانے کی داستان بیان کر کے لوگوں کو خوش طبعی اور ہنسنے ہنسانے کا سامان فراہم کرتے رہتے ہیں ۔ لہٰذا ہر مردو عورت کو چاپلوسی کرنے والوں اور منہ پر تعریف کرنے والوں کی عیارانہ چالوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ اور ہرگز ہرگز اپنی تعریف سن کر خوش نہ ہونا چاہئے۔

چند اچھی عادتیں

(۱)حلم : ۔غصہ کو برداشت کر لینا اور غصہ دلانے والی باتوں پر غصہ نہ کرنا اس کو حلم اور بردباری کہتے ہیں یہ مسلمان کی بہت ہی بلند مرتبہ عادت ہے اور اس عادت والے کو خداوند قدوس دنیا و آخرت میں بڑے بڑے مراتب و درجات عطا فرماتا ہے چنانچہ قرآن مجید میں رب العزۃ جل جلالہ نے فرمایا کہ۔

وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ     (پ۴، آل عمران : ۱۳۴)   

’’یعنی غصہ پی جانے والوں ‘ اور لوگوں کو معاف کردینے والوں ( اور اس قسم کے اچھے اچھے کام کرنے والوں ) کو اﷲ  تَعَالٰی اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔‘‘

        اﷲ اکبر! غصہ کو ضبط اور برداشت کرنے والوں کو خداوند قدوس اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ سبحان اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! کوئی بندہ یا بندی اﷲ  تَعَالٰی کا محبوب اور پیارا بن جائے اس سے بڑھ کر اور کون سی دوسری نعمت ہوسکتی ہے؟

        لہٰذا پیاری بہنو اور بھائیو! تم اپنی یہ عادت بنا لو کہ کوئی کتنی ہی سخت بات تم کو کہہ دے مگر تم اس کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلو اور غصہ آجائے تو غصہ کو پی جاؤ اور ہرگز ہرگز اپنے غصہ کا اظہار نہ کرو۔ نہ کوئی انتقام لو۔ اگر تم نے یہ عادت ڈالی تو پھر یقین کر لو کہ تم خدا اور اس کی تمام مخلوق کے پیارے بن جاؤ گے اور خداوند کریم بڑے بڑے درجات و مراتب کا تم کو تاج پہنا کر نیک بختی اور خوش نصیبی کا تاجدار بنادے گا۔

(۲)تواضع و انکساری : ۔اپنے کو دوسروں سے چھوٹا اور کمتر سمجھ کر دوسروں کی تعظیم و تکریم کے ساتھ خاطر ومدارت کرنا اس عادت کو تواضع اور انکساری کہتے ہیں ۔ یہ نیک عادت درحقیقت جو ہر نایاب ہے کہ اﷲ  تَعَالٰی جس کو اس عادت کی توفیق عطا فرما دیتا ہے گویا اس کو خیر کثیر کا خزانہ عطا فرما دیتا ہے جو شخص ہر ایک کو اپنے سے بہتر اور اپنے کو سب سے کمتر سمجھے گا وہ ہمیشہ گھمنڈ اور تکبر کی شیطانی خصلت سے بچا رہے گا اور اﷲ  تَعَالٰی اس کو دونوں جہان میں سر بلندی اور عظمت کا بادشاہ بلکہ شہنشاہ بنادے گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص اﷲ  کی رضاجوئی کے لیے تواضع اور انکساری کی خصلت اختیار کرے گا اﷲ   تَعَالٰی اس کو سر بلندی عطا فرمائے گا۔

(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب وغیرہ، الترغیب فی التواضع والترہیب من الکبر والعجب والافتخار، رقم ۶، ج۳، ص۳۵۱)

        حضرت شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ

مرا پیر دانائی روشن شہاب

دو اندرْز فرمود بر روئی آب

یکی آنکہ برخویش خود بین مباش

دگر آنکہ بر غیر بدبین مباش

        یعنی مجھ کو میرے پیر عارف خدا اور روشن دل شیخ شہاب الدین سہروردی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے دریائی سفر میں کشتی پر یہ دو نصیحت فرمائی ہیں ایک یہ کہ اپنے کو اچھا اور بڑا نہ سمجھو۔ اور دوسری یہ کہ دوسروں کو برا اور کمتر نہ سمجھو بلکہ سب کو اپنے سے بہتر اور اپنے کو سب سے کمتر سمجھ کر دوسروں کے سامنے تواضع اور انکساری کا مظاہرہ کرتے رہو اور خبردار ہرگز ہرگز کبھی بھی تکبر اور گھمنڈ کی شیطانی ڈگر پر چل کر دوسروں کو اپنے سے حقیر نہ سمجھو۔

        یاد رکھو کہ تواضع اور عاجزی و انکساری کی عادت رکھنے والا آدمی ہر شخص کی نظروں میں عزیز ہو جاتا ہے۔ اور متکبر آدمی سے ہر شخص نفرت کرنے لگتا ہے۔ اس لئے ہر مرد وعورت کو لازم



Total Pages: 188

Go To