Book Name:Jannati Zevar

(۱۴)جھگڑا تکرار : ۔بات بات پر ساس سسر اور بہو یا شوہر یا عام مسلمان مردوں اور عورتوں سے جھگڑا تکرار کرلینا یہ بھی بہت بری عادت ہے اور گناہ کا کام ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ جھگڑالو آدمی خدا کو بے حد ناپسند ہے۔       (جامع الترمذی، کتاب تفسیرالقرآن، باب۲۳، الحدیث۲۹۸۷، ج۴، ص۴۵۶)

 اس لئے اگر کسی سے کوئی اختلاف ہو جائے یا مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو سہولت اور معقول گفتگو سے معاملات کو طے کر لینا نہایت ہی عمدہ اور بہترین عادت ہے جھگڑے تکرار کی عادت کمینوں اور بد تہذیب لوگوں کا طریقہ ہے اور یہ عادت انسان کے لئے ایک بہت ہی بڑی مصیبت ہے کیونکہ جھگڑالو آدمی کا کوئی بھی دوست نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر شخص کی نگاہوں میں قابل نفرت ہو جاتا ہے اور لوگ اس کے جھگڑے کے ڈر سے اس کو منہ نہیں لگاتے اس سے بات نہیں کرتے۔   

(۱۵)کاہلی : ۔یہ ایسی منحوس عادت ہے کہ اس کی وجہ سے سینکڑوں دوسری خراب عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ مکان‘ سامان‘ کپڑوں اور بدن کی گندگی‘ برتنوں سامانوں کی بے ترتیبی‘ وقت پر کھانے پینے سے محرومی‘ شوہر اور سسرال والوں سے ناراضگی‘ بچوں کا پھوہڑپن‘ طرح طرح کی بیماریاں وغیرہ وغیرہ یہ ساری بلائیں اور مصیبتیں اسی کاہلی کے سب انڈے بچے ہیں ۔ اسی لئے اس عادت کو ہرگز ہرگز اپنے قریب نہیں آنے دینا چاہئے بلکہ دینی و دنیاوی کاموں میں ہر وقت چاق و چوبند ہوکر لگے رہنا چاہئے۔ خوب یاد رکھو! کہ محنتی آدمی ہر شخص کا پیارا ہوتا ہے اور کاہل آدمی ہر ایک در سے پھٹکارا جاتا ہے اور ہر کام میں مار پڑتی ہے۔ کاہل آدمی نہ دنیا کا کام کرسکتا ہے نہ دین کا اسی لئے رسول خدا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیہ دعا مانگا کرتے تھے کہ۔

اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسْلِ ۔       (جامع الترمذی، کتاب الدعواۃ ، باب ۷۱، رقم ۳۴۹۶، ج۵، ص۲۹۴)

یعنی اے اﷲ ! میں کاہلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

(۱۶)ضد : ۔اپنی کسی بات پر اس طرح اڑ جانا کہ کوئی لاکھ سمجھائے مگر کسی کی بات اور سفارش قبول نہ کرے۔ اس بری خصلت کا نام ’’ضد‘‘ ہے یہ اس قدر خراب اور منحوس عادت ہے کہ آدمی کی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کر ڈالتی ہے ایسے آدمی کو دنیا میں سب لوگ ’’ضدی ‘‘ اور ’’ہٹ دھرم‘‘ کہنے لگتے ہیں ۔ اور کوئی بھی اس کو منہ لگانے اور اس سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یہی وہ خبیث عادت تھی جس نے ابو جہل کو جہنم میں دھکیل دیا کہ ہمارے پیغمبر صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور مومنوں نے اس کو لاکھوں مرتبہ سمجھایا اور اس نے شق القمر اور کنکریوں کے کلمہ پڑھنے کا معجزہ بھی دیکھ لیا مگر پھر بھی اپنی ضد پر اڑا رہا۔ اور ایمان نہ لایا۔ قرآن وحدیث میں یہ حکم ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے کہ اپنے بزرگوں اور مخلص دوستوں کا مشورہ ضرور مان لے اور مسلمانوں کی جائز سفارش کو قبول کرکے اپنی رائے اور اپنی بات کو چھوڑ دے اور حق ظاہر ہوجانے کے بعدہر گز ہرگز اپنی رائے اور اپنی بات پر ضد کرکے اڑا نہ رہے بہت سے آدمی خاص طور سے عورتیں اس بری عادت میں مبتلا ہیں ۔ خدا کے لئے ان سب کو چاہئے کہ اس بری عادت کو چھوڑ کر دونوں جہان کی سعادتوں سے سر فراز ہوں ۔

(۱۷)بد گمانی : ۔بہت سے مردوں اور عورتوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جہاں انہوں نے دو آدمیوں کو الگ ہو کر چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تو فوراََ ان کو یہ بدگمانی ہو جاتی ہے کہ یہ میرے ہی متعلق کچھ باتیں ہو رہی ہیں اور میرے ہی خلاف کوئی سازش ہورہی ہے اسی طرح عورتیں اگر اپنے شوہروں کو اچھا لباس پہن کر کہیں جاتے ہوئے دیکھتی ہیں یا شوہروں کو کسی عورت کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے سن لیتی ہیں تو ان کو فوراََ اپنے شوہروں کے بارے میں یہ بدگمانی ہو جاتی ہے کہ ضرور میرے شوہر کی فلانی عورت سے کچھ ساز باز ہے اسی طرح شوہروں کا حال ہے کہ اگر ان کی بیویاں میکے میں زیادہ ٹھہر گئیں یا میکا کے رشتہ داروں سے بات یا ان کی خاطر ومدارات کرنے لگیں تو شوہروں کو یہ بدگمانی ہو جاتی ہے کہ میری بیوی فلاں فلاں  مردوں سے محبت کرتی ہے کہیں کوئی بات تو نہیں ہے۔ بس اس بد گمانی میں طرح طرح کی جستجو اور ٹوہ لگانے کی فکر میں مبتلا ہو کر دن رات دماغ میں الم غلم قسم کے خیالات کی کھچڑی پکانے لگتے ہیں اور کبھی کبھی رائی کا پہاڑ اور پھانس کا بانس بنا ڈالتے ہیں ۔

پیاری بہنو اور بھائیو! یاد رکھو کہ بدگمانیوں کی یہ عادت بہت بری بلا اور بہت بڑا گناہ ہے     

        قرآن مجید میں اﷲ  تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا کہ

                            اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ    (پ۲۶، الحجرات : ۱۲)

یعنی بعض گمان گناہ ہیں ۔

        لہٰذا جب تک کھلی ہوئی دلیل سے تم کو کسی بات کا یقین نہ ہو جائے ہر گز ہر گز محض بے بنیاد گمانوں سے کوئی رائے قائم نہ کر لیا کرو۔

 بہت سے مردوں اور عورتوں میں یہ خراب عادت ہوا کرتی ہے کہ اچھا برا یا سچا جھوٹا جو آدمی بھی کوئی بات کہہ دے اس پر یقین کرلیتے ہیں اور بلا چھان بین اور تحقیقات کے اس بات کو مان کر اس پر طرح طرح کے خیالات و نظریات کا محل تعمیر کرنے لگتے ہیں یہ وہ عادت بد ہے جو آدمی کو شکوک و شبہات کے دلدل میں پھنسا دیتی ہے اور خواہ مخواہ آدمی اپنے مخلص دوستوں کو دشمن بنا لیتا ہے اور خود غرض و فتنہ پرور لوگ اپنی چالوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے خداوند قدوس نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ

اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا (پ۲۶، الحجرات : ۶)

’’یعنی جب کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم خوب اچھی طرح جانچ پڑتال کرلو۔‘‘

        مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کی خبر پر بھروسا کر کے تم یقین مت کر لیا کرو بلکہ خوب اچھی طرح تحقیقات اور چھان بین کر کے خبروں پر اعتماد کرو۔ ورنہ تم سے بڑی بڑی غلطیاں ہوتی رہیں گی۔ لہٰذا خبردار! خبردار! کان کے کچے مت بنو۔ اور ہر آدمی کی بات سن کر بلا تحقیقات کئے نہ مان لیا کرو۔   

(۱۹)ریا کاری : ۔کچھ مردوں اور عورتوں کی یہ خراب عادت ہوتی ہے کہ وہ دین یا دنیا کا جو کام بھی کرتے ہیں وہ شہرت و ناموری اور دکھاوے کے لئے کرتے ہیں ۔ اس خراب عادت کا نام ’’ریاکاری‘‘ ہے اور یہ سخت گناہ ہے حدیث شریف میں ہے کہ ریا کاری کرنے والوں کو قیامت کے دن خدا کا منادی اس طرح میدان محشر میں پکارے گا کہ اے بدکار۔ اے بد عہد۔ اے ریاکار! تیرا عمل غارت ہوگیا اور تیرا ثواب برباد ہو گیا۔ تو خدا کے دربار سے نکل جا اور اس شخص سے اپنا ثواب طلب کر جس کے لئے تو نے عمل کیا تھا۔        

 



Total Pages: 188

Go To