Book Name:Jannati Zevar

(۱۱)گالی گلوچ : ۔اس گندی عادت کی برائی ہر چھوٹا بڑا جانتا ہے۔ یقیناً پھوہڑ اور فحش الفاظ اور گندے کلاموں کو بولنا یہ کمینوں اور رذیل و ذلیل لوگوں کا طریقہ ہے۔ اور شریعت میں حرام و گناہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ

سَبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقُٗ ۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب بیان قول النبی صلی اللہ  علیہ وسلم ۔۔۔الخ، رقم ۶۴، ص۵۲)

یعنی کسی مسلمان سے گالی گلوچ کرنا یہ فاسق کا کام ہے۔

        آج کل عورت ومرد سبھی اس بلا میں مبتلا ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑوں کی فحش کلامیوں اور گالیوں کو سن سن کر بچے بھی گندی اور پھوہڑ گالیاں بکنے لگتے ہیں اور پھر بچپن سے بڑھاپے تک اس گندی عادت میں گرفتار رہتے ہیں لہٰذا ہر مردو عورت پر لازم ہے کہ کبھی ہرگزہرگز گالیاں اور گندے الفاظ منہ سے نہ نکالیں ۔ کون نہیں جانتا کہ کبھی کبھی گالی گلوچ کی وجہ سے خوں ریز لڑائیاں ہو جایا کرتی ہیں اور مسلمانوں کی جان و مال کا عظیم نقصان ہو جایا کرتا ہے اس لئے مسلم معاشرہ کو تباہ کرنے میں بدزبانیوں اور گالیوں کا بہت بڑا دخل ہے۔ لہٰذا اس عادت کو ترک کردینا بے حد ضروری ہے خاص کر عورتوں کو اپنی سسرال میں اس کا ہر وقت خیال رکھنا چاہئے۔ کیونکہ سینکڑوں عورتوں کو طلاق ان کی بدزبانیوں اور گالیوں کی وجہ سے ہو جایا کرتی ہے اور پھر میکا اور سسرال والوں میں مستقل جھگڑوں کی بنیاد پڑ جاتی ہے اور دونوں خاندان تباہی و بربادی کے غار میں گر کر ہلاک ہوجاتے ہیں ۔

(۱۲)فضول بکواس : ۔مردوں اور عورتوں کی بری عادتوں میں سے ایک بہت بری عادت بہت زیادہ بولنا اور فضول بکواس ہے۔ کم بولنا اور ضرورت کے مطابق بات چیت یہ بہت ہی پسندیدہ عادت ہے۔ ضرورت سے زیادہ بات اور فضول کی بکواس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی ایسی باتیں بھی زبان سے نکل جاتی ہیں جس سے بہت بڑے بڑے فتنے پیدا ہو جاتے ہیں اور شروفساد کے طوفان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس لئے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ہے کہ

وَکُرِہَ لَکُمْ قِیْلَ وَ قَالَ وَ کَثْرَۃَ السُّوَالِ وَ اِضَاعَۃَ الْمَالِ۔

  (صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، باب قول اللّٰہ تعالٰی لایسألون الناس إلحافاً، الحدیث۱۴۷۷، ج۱، ص۴۹۸)

 یعنی اﷲ  تَعَالٰی کو یہ ناپسند ہے کہ بلا ضرورت قیل اورقال اور فضول اقوال آدمی کی زبان سے نکلیں ۔ اسی طرح کثرت سے لوگوں کے سامنے کسی چیز کا سوال کرتے رہنا اور فضول کاموں میں اپنے مالوں کو برباد کرنا یہ بھی اﷲ  تَعَالٰی کو ناپسند ہے یہ بھی سرکار دو عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمان ہے کہ اپنی زبانوں کو فضول باتوں سے ہمیشہ بچائے رکھو۔

(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب وغیرہ ، الترغیب فی الصمت الاعن خیر والترہیب من کثرۃ الکلام ، رقم ۵، ج۳، ص۳۳۶)

        کیونکہ بہت سی فضول باتیں ایسی بھی زبانوں سے نکل جاتی ہیں جو بولنے والوں کو جہنم میں پہنچا دیتی ہیں ۔ اسی لئے تمام بزرگوں نے یہ فرمایا ہے کہ تین عادتوں کو لازم پکڑو۔ کم بولنا، کم سونا، کم کھانا کیونکہ زیادہ بولنا، زیادہ سونا، زیادہ کھانا، یہ عادتیں بہت ہی خراب ہیں اور ان عادتوں کی وجہ سے انسان دین و دنیا میں ضرور نقصان اٹھاتا ہے۔

(۱۳)ناشکری : خداوند کریم کے انعاموں اور انسانوں کے احسانوں کی نا شکری، اس منحوس اور بری عادت میں نوے فیصد مرد وعورت گرفتار ہیں ۔ بلکہ عورتیں تو ننانوے فیصد اس بلا میں مبتلا ہیں ۔ ذرا کسی گھرانے کو یا کسی عورت کے کپڑوں یا زیورات کو اپنے سے خوشحال اور اچھا دیکھ لیا تو خدا کی ناشکری کرنے لگتی ہیں اور کہنے لگتی ہیں کہ خدا نے ہمیں نامعلوم کس جرم کی سزا میں مفلس اور غریب بنا دیا۔ خدا کا ہم پر کوئی فضل ہی نہیں ہوتا۔ میں نگوڑی ایسے پھوٹے کرم لے کر آئی ہوں کہ نہ میکے میں سکھ نصیب ہوا نہ سسرال میں ہی کچھ دیکھا۔ فلانی فلانی گھی دودھ میں نہا رہی ہے۔ اور میں فاقوں سے مر رہی ہوں ۔ اسی طرح عورتوں کی عادت ہے کہ اس کا شوہر اپنی طاقت بھر کپڑے، زیورات، سازو سامان دیتا رہتا ہے لیکن اگر کبھی کسی مجبوری سے عورت کی کوئی فرمائش پوری نہیں کر سکا تو عورتیں کہنے لگتی ہیں کہ تمہارے گھر میں ہائے ہائے کبھی سکھ نصیب نہیں ہوا۔ اس اجڑے گھر میں ہمیشہ ننگی بھوکی ہی رہ گئی کبھی بھی تمہاری طرف سے میں نے کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں ۔ میری قسمت پھوٹ گئی تمہارے جیسے فتو فقیر سے بیاہی گئی میرے ماں باپ نے مجھے بھاڑ میں جھونک دیا۔ اس قسم کی ناشکری کرتی اور جلی کٹی باتیں سناتی رہتی ہیں ۔ چنانچہ حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ میں نے جہنم میں زیادہ تعداد عورتوں کی دیکھی تو صحابہ علیھم الرضوان نے کہا یا رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! اس کی کیا وجہ ہے کہ عورتیں زیادہ جہنمی ہوگئیں تو حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ عورتیں ایک دوسرے پر بہت زیادہ لعنت ملامت کرتی رہتی ہیں اور ناشکری کرتی رہتی ہیں ۔ تو صحابہ علیھم الرضوان نے عرض کیا یا رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! کیا عورتیں خدا کی ناشکری کیاکرتی ہیں ؟ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ عورتیں احسان کی ناشکری کرتی ہیں اور اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں ۔ ان عورتوں کی یہ عادت ہے کہ تم زندگی بھر میں ان کے ساتھ احسان کرتے رہو لیکن اگر کبھی کچھ بھی کمی دیکھیں گی تو یہی کہہ دیں گی کہ میں نے کبھی بھی تمہاری طرف سے کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں ۔

   (صحیح البخاری ، کتاب الایمان ، باب کفران العشیر ۔۔۔الخ، رقم ۲۹، ج۱، ص۲۳)

        عزیز بہنو! سن لو خدا کے انعاموں ‘ اور شوہر یا دوسروں کے احسانوں کی ناشکری بہت ہی خراب عادت‘ اور بہت بڑا گناہ ہے۔ ہر مسلمان مرد وعورت کے لئے لازم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے سے کمزور اور گری ہوئی حالت والوں کو دیکھا کرے کہ اگر میرے پاس گھٹیاکپڑے اور زیور ہیں تو خدا کا شکر ہے کہ فلاں اور فلانی سے تو ہم بہت ہی اچھی حالت میں ہیں کہ ان لوگوں کو بدن ڈھانپنے کے لئے پھٹے پرانے کپڑے بھی نصیب نہیں ہوتے۔ اسی طرح اگر میرے شوہر نے میرے لئے معمولی غذا کا انتظام کیا ہے تو اس پر بھی شکر ہے کیونکہ فلانی فلانی عورتیں تو فاقہ کیا کرتی ہیں ۔ بہر حال اگر تم اپنے سے کمزور اورغریبوں پر نظر رکھو گی تو شکر ادا کرو گی اور اگر تم اپنے سے مالداروں پر نظر کرو گی تو تم ناشکری کی بلامیں پھنس کر اپنے دین و دنیا کو تباہ و برباد کر ڈالو گی۔ اس لئے لازم ہے کہ نا شکری کی عادت چھوڑ کر ہمیشہ خدا کے انعاموں اور شوہر وغیرہ کے احسانوں کا شکریہ ادا کرتے رہنا چاہئے۔ اﷲ  تَعَالٰی قرآن مجید میں فرماتا ہے۔

لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(۷)(پ۱۳، ابراہیم : ۷)

        ’’یعنی اگر تم شکر ادا کرتے رہو گے تو میں زیادہ سے زیادہ نعمتیں دیتا رہوں گا۔ اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بہت ہی سخت ہے۔‘‘

        اس آیت نے اعلان کردیا کہ شکر ادا کرنے سے خدا کی نعمتیں بڑھتی ہیں اور ناشکری کرنے سے خدا کا عذاب اتر پڑتا ہے۔

 



Total Pages: 188

Go To