Book Name:Jannati Zevar

        (۱)شعبۂ کتُبِ اعلیٰ حضرت

        (۲)شعبۂ درسی کُتُب  

        (۳)شعبۂ اصلاحی کُتُب

        (۴)شعبۂ تفتیشِ کُتُب

        (۵)شعبۂ تخریج

        (۶)شعبۂ ترا      جِم   

        ’’ا لمد ینۃ العلمیۃ‘‘کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلٰیحضرت اِمامِ اَہلسنّت، عظیم البَرَکت، عظیمُ المرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامیٔ سنّت ، ماحیٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر و بَرَکت، حضرتِ علاّمہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری الشّاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق حتَّی الْوُسعٰ سَہْل اُسلُوب میں پیش کرنا ہے ۔تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس عِلمی ، تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اورمجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِس کی ترغیب دلائیں ۔

        اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بَشُمُول’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘ کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اخلاص سے آراستہ فرماکر دونو ں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے۔ہمیں زیرِ گنبدِ خضرا  شہادت، جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔

                        اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

      رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ        

پیش لفظ

        انسان کی اصلاح دین اسلام کا اوّلین مقصدہے ۔مردوعورت کی حیثیت اس اعتبار سے ایک سی ہے، بلکہ شریعت اسلامیہ نے خواتین کے حقوق بالتاکید ارشاد فرمائے کیونکہ عرصۂ دراز سے یہ صنف نازک ظلم و ستم کا نشانہ بنی ہوئی تھی۔ قدرت نے اگرچہ اسے مرد کی طرح ذی روح اور ذی شعور بنایا تھا لیکن اس کے ساتھ برتاؤ مٹی کی بے جان مورتیوں کا سا کیا جاتا تھا۔ جواء میں اسے داؤ پر لگایا جاسکتا تھا۔ خاوند کی لاش کے ساتھ قانوناًاسے جل کر راکھ ہونا پڑتا تھا۔کہیں اسے تمام برائیوں کی جڑ اور انسان کی ساری بدبختیوں کا سرچشمہ یقین کیا جاتا تھا اور کہیں چوٹی کے نامور فلسفی اس کے انسان ہونے کوبھی مشکوک نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔اس کو ملکیت کے حقوق حاصل نہ تھے۔ اسے ازدواجی بندھنوں میں مقید کرنے سے پہلے اس سے کوئی رائے لینے تک کا تصور نہ تھا۔یہ، بلکہ اس سے بھی بدتر حالات تھے جن میں اسلام سے پہلے یہ صنف نازک گرفتار تھی۔

        لیکن اسلام نے پہلی مرتبہ اعلان کیا کہ جس طرح مرد کے حقوق عورت پر ہیں اسی طرح عورت کے حقوق بھی مرد پر ہیں ۔ اس کی بھی رائے ہے اور قانون اس کی رائے کا احترام کرتا ہے ۔اسے اپنے والدین ، اپنے خاوند، اپنی اولاد کا وارث تسلیم کیاگیا۔ اس کو ملکیت کے حقوق تفویض کیے گئے ۔ مرد کو بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا۔بیٹی کی صورت میں اس کو رحمت قراردیا۔ماں کے روپ میں اس کے قدموں کوجنت کی چوکھٹ سے تشبیہ دی ۔غرض معاشرے میں اسے وہ عزت اور مقام دیا جس کااس سے پہلے تصوربھی نہ کیا جا سکتا تھا۔

        اب ایک مسلمان عورت پر یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ تعلیمات ِاسلامیہ سے واقفیت و آگہی حاصل کرے، انہیں اپنے ذہن میں وسیع جگہ دے۔اس جہان ناپائیدار میں اس کے شب وروز اسی کے مطابق گزریں ۔کیونکہ اس رزم گاہ حیات میں جیت اسی کی ہے جس نے اپنا جینا مرنا اسلام کے مطابق کر لیا۔

        بحمدہ  تَعَالٰی اسلامی بہنوں کو اسلامی عقائد و مسائل سے روشناس کروانے کے لیے شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفی الاعظمی رحمۃ اللہ  تَعَالٰی علیہ نے یہ کتاب ’’جنتی زیور‘‘ ترتیب دی۔کتاب کیا ہے اسلامی مسائل و خصائل کا ایک بہترین مجموعہ ہے، اس میں زندگی گزارنے سے متعلق تقریباًتمام ہی شعبوں کاتذکرہ ہے، خواہ اعتقادات کا بیان ہو یا عبادات کا، معاملات ہوں یا اخلاقیات تقریباًسبھی کو مو صوف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے آسان پیرایہ میں اپنی کتاب میں ذکر کر دیا ہے گویا ایک سلیبس (syllabus)سلیس انداز میں مرتب کر کے اسلامی بہنوں کے ہاتھوں میں دے دیا۔اب اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ وہ اس سے بھر پور استفادہ کریں اور احکام شریعت سیکھ کر اس پر عمل پیرا ہوں ۔

        اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ! مجلس ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘ (دعوت ِاسلامی) نے اکابرین و بزرگانِ اہلسنت کی مایہ ناز کتب کو حتی المقدور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق شائع کرنے کا عزم کیا ہے چنانچہ یہ کتاب بھی اس سلسلہ میں شامل کی گئی اور نئی کمپوزنگ، مکرر پروف ریڈنگ، دیگر نسخوں سے مقابلہ ، آیاتِ قرآنی کی محتاط تطبیق وتصحیح، حوالہ جات کی تخریج، عربی وفارسی عبارات کی درستگی اور پیرابندی وغیرہ، نیز مآخذ و مراجع کی فہرست کے ساتھ اسے شائع کیا، یوں یہ نسخہ دیگر نُسَخ کے مقابلے میں درست اور اغلاط سے مبرا نسخہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ !’’ المدینۃ العلمیۃ‘‘ کے مدنی علماء کی یہ کاوش اور ان کی محنت قابل ستائش و لائق تحسین ہے ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ان کی یہ پیش کش قبول فرما کر جزائے جزیل عطا فرمائے،  انہیں مزید ہمت اور لگن کیساتھ دین کی خدمت کا جذبہ عطافرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

                           شعبۂ تخریج (مجلس المدینۃ العلمیۃ )

کچھ مصنف کے بارے میں

         شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمۃ  ہند کے ضلع مؤکے گنجان آباد قصبہ گھوسی میں ۱۳۳۳ھ میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد ماجد کا نام شیخ عبد الرحیم اور والدہ کا نام حلیمہ بی



Total Pages: 188

Go To