Book Name:Jannati Zevar

رہیں اور ان لوگوں کے پھندوں میں نہ پھنسیں ۔

ششم)کسی شخص کی پہچان کرانے کے لئے اس کے کسی مشہور عیب کو اس کے نام کے ساتھ ذکر کردینا۔ جیسے حضرات محدثین کا طریقہ ہے کہ ایک ہی نام کے چند راویوں میں امتیاز اور ان کی پہچان کے لئے اعمش (چندھا) اعرج (لنگڑا) اعمیٰ (اندھا) احول  (بھینگا) وغیرہ عیبوں کو انکے ناموں کے ساتھ ذکر کردیتے ہیں ۔ جس کا مقصد ہرگزہرگز نہ توہین و تنقیص ہے نہ ایذا رسانی بلکہ اس کا مقصد صرف راویوں کی شناخت اور ان کی پہچان کا نشان بتانا ہے۔ (شرح صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ والادب ، باب تحریم الغیبۃ ، تحت حدیث الغیبۃ ذکر ک اخاک۔۔۔الخ، ج۱، ص۳۲۲)

        اوپر ذکر کی ہوئی صورتوں میں چونکہ کسی کے عیبوں کو بیان کر دینا ہے اسلئے بلا شبہ یہ غیبت تو ہے۔ لیکن ان صورتوں میں شریعت نے جائز رکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی غیبت کر دے تونہ کوئی حرج ہے نہ کوئی گناہ بلکہ بعض صورتوں میں اس قسم کی غیبت مسلمانوں پر واجب ہو جاتی ہے۔ مثلاََ ایسے موقعوں پر کہ اگر تم نے کسی کے عیب کو بیان نہ کر دیا تو کسی مسلمان کے نقصان میں پڑ جانے کا یقین یا غالب گمان ہو۔ مثال کے طور پر ایک مسلمان رقم لے کر جا رہا ہو اور ایک سفید پوش ڈاکو تسبیح و مصلیٰ لئے بزرگ بن کر اس مسلمان کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو اور مسلمان بالکل ہی اس ڈاکو کے بارے میں لاعلم ہو اور تم کو یقین ہے کہ یہ ڈاکو ضرور ضرور اس بھولے بھالے مسلمان کو دھوکہ دے کر لوٹ لے گا اور تم اس ڈاکو کے عیب کو جانتے ہو تو اس صورت میں ایک بھولے بھالے مسلمان کو نقصان سے بچانے کے لئے ڈاکو کے عیب کو اس مسلمان سے بیان کر دینا تم پر واجب ہے۔ حضرت شیخ سعدی  رحمۃ اللہ   تَعَالٰی علیہنے اسی بات کو اسطرح بیان فرمایا ہے کہ

اگر  بینی کہ  نابینا  و چاہ  است

اگر خاموش می مانی گناہ است

        یعنی تم اگر دیکھو کہ ایک اندھا جارہا ہے اور اس کے آگے کنواں ہے تو تم پر لازم ہے کہ اندھے کو بتا دو کہ تیرے آگے کنواں ہے اس سے بچ کر چل۔ اور اگر تم اس کو دیکھ  کر چپ رہ گئے اور اندھا کنویں میں گر پڑاتو یقیناََ تم گنہگار ٹھہرو گے۔

(۸)بہتان : ۔جھوٹ موٹ اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر کوئی الزام یا عیب لگانا اس کو افترائ‘ تہمت اور بہتان کہتے ہیں ۔ یہ بہت خبیث اور ذلیل عادت ہے اور بہت بڑا گناہ ہے۔ خاص کر کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کاری کی تہمت لگانا یہ تو اتنا بڑا گناہ ہے کہ شریعت کے قانون میں اس شخص کو اسی (۸۰) کوڑے مارے جائیں گے اور عمر بھر کسی معاملہ میں اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور قیامت کے دن یہ شخص دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہوگا۔

(۹)جھوٹ : ۔یہ وہ گندی گھناؤنی اور ذلیل عادت ہے کہ دین و دنیا میں جھوٹے کا کہیں کوئی ٹھکانا نہیں ۔ جھوٹا آدمی ہر جگہ ذلیل و خوار ہوتا ہے اور ہر مجلس اور ہر انسان کے سامنے بے وقار اور بے اعتبار ہو جاتا ہے اور یہ بڑا گناہ ہے کہ اﷲ  تَعَالٰی نے قرآن مجید میں اعلان فرما دیا ہے کہ۔

لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ (پ۳، آل عمران : ۶۱)

        یعنی کان کھول کر سن لو کہ جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے اور وہ خدا کی رحمتوں سے محروم کردیے جاتے ہیں ۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتوں اور بہت سی حدیثوں میں جھوٹ کی برائیوں کا بیان ہے۔ اس لئے یاد رکھو کہ ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے کہ اس لعنتی عادت سے زندگی بھر بچتا رہے۔ بہت سے ماں باپ بچوں کو چپ کرانے کیلئے ڈرانے کے طور پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ چپ رہو گھر میں ’’ماؤں ‘‘ بیٹھا ہے یا چپ رہو صندوق میں لڈو رکھے ہوئے ہیں تم رؤوگے تو سب لڈو دھول مٹی ہو جائیں گے۔ حالانکہ نہ گھر میں ’’ماؤں ‘‘ ہوتا ہے نہ صندوق میں لڈو ہوتے ہیں نہ رونے سے لڈو دھول مٹی ہو جاتے ہیں تو خوب سمجھ لو یہ سب بھی جھوٹ ہی ہے۔ اس قسم کی بولیاں بول کر والدین گناہ کبیرہ کرتے رہتے ہیں اور اس قسم کی باتوں کو لوگ جھوٹ نہیں سمجھتے۔ حالانکہ یقیناََ ہر وہ بات جو واقعہ کے خلاف ہو جھوٹ ہے اور ہر جھوٹ حرام ہے خواہ بچے سے جھوٹی بات کہو یا بڑے سے۔ آدمی سے جھوٹی بات کہو یا جانور سے۔ جھوٹ بہرحال جھوٹ ہے اور جھوٹ حرام ہے۔

کب اور کونسا جھوٹ جائز ہے : ۔کافر یا ظالم سے اپنی جان بچانے کے لئے یا دو مسلمانوں کو جنگ سے بچانے اور صلح کرانے کے لئے اگر کوئی جھوٹی بات بول دے تو شریعت نے اس کی رخصت دی ہے۔ مگر جہاں تک ہو سکے اس موقع  پر بھی ایسی بات بولے اور ایسے الفاظ منہ سے نکالے کہ کھلا ہوا جھوٹ نہ ہو بلکہ کسی معنی کے لحاظ سے وہ صحیح بھی ہو اس کو عربی زبان میں ’’توریہ‘‘کہتے ہیں ۔ مثلاََ ڈاکو نے تم سے پوچھا کہ تمھارے پاس مال ہے کہ نہیں ؟ اور تم کو یقین ہے کہ اگر میں اقرار کر لوں گا تو ڈاکو مجھے قتل کر کے میرا مال لوٹ لے گا تو اس وقت یہ کہہ دو ’’میرے پاس کوئی مال نہیں ہے‘‘ اور نیت یہ کرلو کہ میری جیب یا میرے ہاتھ میں کوئی مال نہیں ہے۔

        بکس یا جھولے میں ہے تو اس معنی کے لحاظ سے تمہارا یہ کہنا کہ میرے پاس کوئی مال نہیں ہے یہ سچ ہے اور اس معنی کے لحاظ سے میری ملکیت میں کوئی مال نہیں ہے یہ جھوٹ ہے۔ اسی قسم کے الفاظ کو عربی میں ’’توریہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور جہاں جہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ فلاں فلاں موقعوں پر مسلمان جھوٹ بول سکتا ہے۔ اسی کا یہی مطلب ہے کہ ’’توریہ‘‘ کے الفاظ بولے۔ اور اگر کھلا ہوا جھوٹ بولنے پر کوئی مسلمان مجبور کردیا جائے تو اس کو لازم ہے کہ وہ دل سے اس جھوٹ کو برا جانتے ہوئے جان و مال کو بچانے کے لئے صرف زبان سے جھوٹ بول دے اور اس سے توبہ کرلے۔  (واﷲ  تَعَالٰی اعلم)   

(۱۰)عیب جوئی : ۔ادھر ادھر کان لگا کر لوگوں کی باتوں کو چھپ چھپ کر سننایا تاک جھانک کر لوگوں کے عیبوں کو تلاش کرنا۔ یہ بڑی ہی چھچھوری حرکت اور خراب عادت ہے۔ دنیا میں اس کا انجام بدنامی اور ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں اس کی سزا جہنم کا عذاب ہے ایسا کرنے والوں کے کانوں اور آنکھوں میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ قرآن مجید میں اور حدیثوں میں خداوند قدوس اور ہمارے رسول اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ

’’ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا ‘‘(الترغیب والترہیب، کتاب الادب وغیرہ ، الترہیب من الحسد وفضل السلامۃ الصدر ، رقم ۱، ج۳، ص۳۴۶)

یعنی کسی کے عیبوں کو تلاش کرنا حرام اور گناہ ہے مردوں کی بہ نسبت عورتوں میں یہ عیب زیادہ پایا جاتا ہے لہٰذا پیاری بہنو! تم اس گناہ سے خود بھی بچو اور دوسری عورتوں کو بھی بچاؤ۔

 



Total Pages: 188

Go To