Book Name:Jannati Zevar

         یہاں تک کہ ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ چغل خور جنت میں نہیں داخل ہوگا ۔   (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان غلظ تحریم النمیمۃ ، رقم ۱۰۵، ص۶۶)

        اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ تم لوگوں میں سب سے زیادہ خدا کے نزدیک ناپسندیدہ وہ ہے جو ادھر ادھر کی باتوں میں لگائی بجھائی کرکے مسلمان بھائیوں میں اختلاف اور پھوٹ ڈالتا ہے۔

 (المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عبد الرحمن بن غنم ، رقم ۱۸۰۲۰، ج۶، ص۲۹۱)

 اور ایک حدیث میں یہ بھی فرمان رسول  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے کہ چغل خور کو آخرت سے پہلے اس کی قبر میں عذاب دیا جائے گا۔   

(صحیح البخاری، کتاب الوضو، باب من الکبائر... إلخ، الحدیث۲۱۶، ج۱، ص۹۵)

 اس کے علاوہ چغلی کی برائی کے بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں ۔

        مسلمان بھائیو اور بہنو! کسی کی کوئی بات سنو تو خوب سمجھ لو کہ تم اس بات کے امین ہوگئے اگر دوسروں تک اس بات کے پہنچانے میں کوئی دین و دنیا کا فائدہ ہو جب تو تم ضرور اس بات کا چرچا کرو لیکن اگر اس بات کو دوسروں تک پہنچانے میں دو مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور جھگڑے کا اندیشہ ہو تو خبردار خبردار ہر گز کبھی بھی اس بات کا نہ چرچا کرو نہ کسی دوسرے سے کہو ورنہ تم پر امانت میں خیانت کرنے اور چغلخوری کا گناہ ہوگا اور اس گناہ کا دنیا میں بھی تم پر یہ و بال پڑے گا کہ تم سب کی نگاہوں میں بے وقار اور ذلیل و خوار ہوجاؤ گے اور آخرت میں بھی عذاب جہنم کے حق دار ٹھہرو گے۔

(۷)غیبت : ۔کسی کو غائبانہ برا کہنا‘ یا پیٹھ پیچھے اس کا کوئی عیب بیان کرنا یہی غیبت ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے صحابہ کرام علیھم الرضوان سے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے۔ صحابہ علیھم الرضوان نے کہا کہ اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے رسول  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَزیادہ جاننے والے ہیں ۔ حضور  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشادفرمایا کہ تمہارا اپنے بھائی کی ان باتوں کو بیان کرنا جن کو وہ ناپسند سمجھتا ہے۔ یہی غیبت ہے تو صحابہ علیھم الرضوان نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ   صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیہ بتایئے کہ اگر  میرے اس دینی بھائی میں واقعی وہ باتیں موجود ہوں ۔ تو کیا ان باتوں کا ذکر کرنا بھی غیبت کہلائے گا؟ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر اس کے اندر وہ باتیں واقعی ہوں گی جبھی تو تم اس کی غیبت کرنے والے کہلاؤ گے اور اگر اس میں وہ باتیں نہ ہوں اور تم اپنی طرف سے گھڑ کر کہو گے جب تو تم اس پر بہتان لگانے والے ہو جاؤ گے جو ایک دوسرا گناہ کبیرہ ہے جس کا کرنے والا جہنم کا ایندھن بنے گا۔    (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ ، باب تحریم الغیبۃ ، رقم ۲۵۸۹، ص۱۳۹۷)

   یاد رکھو غیبت اتنا بڑا گناہ ہے کہ حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہاں تک فرمایا کہ      

اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا          یعنی غیبت زنا سے بڑا گناہ ہے۔

(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب وغیرہ ، باب الترہیب من الغیبۃ والبھت بیانھما والترغیب فی ردھما ، رقم ۲۴، ج۳، ص۳۳۱)   

        حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ میں نے معراج کی رات میں کچھ لوگوں کو اس حال میں دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنے ناخنوں سے اپنے چہروں کو کھرچ کھرچ کر نوچ رہے ہیں میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کی غیبت اور آبروریزی کیا کرتے تھے۔

  (الترغیب والترہیب ، کتاب الادب وغیرہ ، باب الترہیب من الغیبۃ والبھت، رقم ۲۱، ج۳، ص۳۳۰)

        یاد رکھو کہ پیٹھ پیچھے کسی آدمی کی ان باتوں کو بیان کرنا جن کو وہ پسند نہیں کرتا یہ غیبت ہے خواہ اس کا کوئی ظاہری عیب ہو یا باطنی‘ اس کا پیدائشی عیب ہو یا اس کا اپنا پیدا کیا ہوا عیب ہو۔ اس کے بدن‘ اس کے کپڑوں ‘ اس کے خاندان و نسب‘ اس کے اقوال و افعال چال ڈھال ‘ اس کی بول چال غرض کسی عیب کو بھی بیان کرنا یا طعنہ مارنا یہ سب غیبت ہی میں داخل ہے لہٰذا اس غیبت کے گناہ سے ہر مسلمان مرد وعورت کو بچنا لازم اور ضروری ہے۔

        قرآن مجید میں اﷲ  تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا کہ۔

وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ       (پ۲۶، الحجرات : ۱۲)

’’اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا۔

        مطلب یہ ہے کہ غیبت اس قدر گھناؤنا گناہ ہے جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا تو جس طرح تم ہر گز ہر گز کبھی یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کی لاش کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھاؤ۔ اسی طرح ہرگز ہرگز کبھی کسی کی غیبت مت کیا کرو۔

کن کن لوگوں کی غیبت جائز ہے؟ : ۔حضرت علامہ ابو زکریا محی الدین بن شرف نووی (متوفی۶۷۶ھ) نے مسلم شریف کی شرح میں لکھا ہے کہ شرعی اغراض و مقاصد کے لئے کسی کی غیبت کرنی جائز اور مباح ہے اور اس کی چھ صورتیں ہیں ۔

اول)مظلوم کا حاکم کے سامنے کسی ظالم کے ظالمانہ عیوب کو بیان کرنا۔ تاکہ اس کی  داد رسی ہوسکے۔

دوم)کسی شخص کی برائیوں کو روکنے کے لئے کسی صاحب اقتدار کے سامنے اس کی برائیوں کو بیان کرنا تاکہ وہ اپنے رعب داب سے اس شخص کو برائیوں سے روک دے۔

سوم)مفتی کے سامنے فتویٰ طلب کرنے کے لئے کسی کے عیوب کو پیش کرنا۔

چہارم)مسلمانوں کو شروفساد اور نقصان سے بچانے کے لئے کسی کے عیوب کو بیان کردینا مثلاََ جھوٹے راویوں ‘ جھوٹے گواہوں ‘ بدمذہبوں کی گمراہیوں ‘ جھوٹے مصنفوں اور واعظوں کے جھوٹ اور ان لوگوں کے مکر و فریب کو لوگوں سے بیان کردینا۔ تاکہ لوگ گمراہی کے نقصان سے بچ جائیں اسی طرح شادی بیاہ کے بارے میں مشورہ کرنے والے سے فریق ثانی کے واقعی عیبوں کو بتا دینا یا خریداروں کو نقصان سے بچانے کے لئے سامان یا سودا بیچنے والے کے عیوب سے لوگوں کو آگاہ کردینا۔

پنجم)جو شخص علی الاعلان فسق و فجور اور قسم قسم کے گناہوں کا مرتکب ہو مثلاََ چور‘ ڈاکو‘ زنا کار‘ خیانت کرنے والا‘ ایسے اشخاص کے عیوب کو لوگوں سے بیان کردینا‘ تاکہ لوگ نقصان سے محفوظ



Total Pages: 188

Go To