Book Name:Jannati Zevar

اور رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ ’’حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا لیتی ہے۔‘‘        (سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب فی الحسد ، رقم ۴۹۰۳، ج۴، ص۳۶۰)

        اور حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ بھی فرمایا ہے کہ تم لوگ ایک دوسرے پر حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔ اور اے اﷲ  کے بندو! تم آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔   (صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب تحریم التحاسد والتباغض، رقم ۲۵۵۹، ص۱۳۸۴)

        حسد اس لئے بہت بڑا گناہ ہے کہ حسد کرنے والا گویا اﷲ   تَعَالٰی پر اعتراض کررہا ہے کہ فلاں آدمی اس نعمت کے قابل نہیں تھا اس کو یہ نعمت کیوں دی ہے؟ اب تم خود ہی سمجھ لو کہ اﷲ  تَعَالٰی پر کوئی اعتراض کرنا کتنا بڑا گناہ ہوگا۔

حسد کا علاج : ۔حضرت امام غزالی رحمتہ اﷲ  تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ حسد قلب کی بیماریوں میں سے ایک بہت بڑی بیماری ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ حسد کرنے والاٹھنڈے دل سے یہ سوچ لے کہ میرے حسد کرنے سے ہرگز ہرگز کسی کی دولت و نعمت برباد نہیں ہوسکتی۔ اور میں جس پر حسد کررہا ہوں میرے حسد سے اس کا کچھ بھی نہیں بگڑ سکتا۔ بلکہ میرے حسد کا نقصان دین و دنیا میں مجھ کو ہی پہنچ رہا ہے کہ میں خواہ مخواہ دل کی جلن میں مبتلا ہوں اور ہر وقت حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہوں اور میری نیکیاں برباد ہورہی ہیں اور میں جس پر حسد کر رہا ہوں میری نیکیاں قیامت میں اس کو مل جائیں گی۔پھر یہ بھی سوچے کہ میں جس پر حسد کررہا ہوں ۔ اس کو خداوند کریم نے یہ نعمتیں دی ہیں اور اس پر ناراض ہو کر حسد میں جل رہا ہوں تو میں گویا خداوند  تَعَالٰی کے فعل پراعتراض کرکے اپنا دین  

و ایمان خراب کررہا ہوں ۔ یہ سوچ کر پھر اپنے  دل میں اس خیال کو جمائے کہ اﷲ  تَعَالٰی علیم و حکیم ہے۔ جو شخص جس چیز کا اہل ہوتا ہے اﷲ   تَعَالٰی اسکو وہی چیز عطا فرماتا ہے۔ میں جس پر حسد کر رہا ہوں ۔ اﷲ  کے نزدیک چونکہ وہ ان نعمتوں کا اہل تھا۔ اس لئے اﷲ  تَعَالٰی نے اس کو یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور میں چونکہ ان کا اہل نہیں تھا اس لئے اﷲ  تَعَالٰی نے مجھے نہیں دیں ۔ اس طرح حسد کا مرض دل سے نکل جائے گا اور حاسدکو حسد کی جلن سے نجات مل جائے گی۔ (احیاء علوم الدین ، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد ، بیان الدواء الذی ینقی مرض الحسد عن القلب ، ج۳، ص۳۴۲)

سچ ہے    ؎

اس  کے  الطاف  تو  ہیں  عام  شہیدی  سب پر

تجھ سے کیا ضدتھی اگر تو کسی قابل ہوتا

(۳) لا لچ : ۔یہ بہت ہی بری خصلت اور نہایت خراب عادت ہے اﷲ  تَعَالٰی کی طرف سے بندے کو جو رزق و نعمت اور مال و دولت یا جاہ ومرتبہ ملا ہے اس پر راضی ہو کر قناعت کر لینا چاہئے۔ دوسروں کی دولتوں اور نعمتوں کو دیکھ دیکھ کر خود بھی اس کو حاصل کرنے کے پھیر میں پریشان حال رہنا اور غلط و صحیح ہر قسم کی تدبیروں میں دن رات لگے رہنا یہی جذبہ حرص و لالچ کہلاتا ہے اور حرص و طمع در حقیقت انسان کی ایک پیدائشی خصلت ہے۔

        چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ اگر آدمی کے پاس دومیدان بھر کر سونا ہوجائے تو پھر وہ ایک تیسرے میدان کو طلب کرے گا کہ وہ بھی سونے سے بھر جائے اور ابن آدم کے پیٹ کو قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو شخص اس سے توبہ کرے اﷲ   تَعَالٰی اس کی توبہ کو قبول فرمالے گا۔ (صحیح مسلم ، کتاب الزکاۃ ، باب لوان لابن آدم وادیین لابتغی ثالثاً ، رقم ۱۰۴۸، ص۵۲۱)

        اور ایک حدیث میں ہے کہ ابن آدم بوڑھا ہو جاتاہے۔ مگر اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں ایک امید دوسری مال کی محبت۔

 (صحیح البخاری ، کتاب الرقاق ، باب من بلغ ستّین سنۃ، رقم ۶۴۲۰، ج۴، ص۲۲۴)

        لالچ اور حرص کا جذبہ خوراک‘ لباس‘ مکان‘ سامان‘ دولت‘ عزت‘ شہرت‘ غرض‘ ہر نعمت میں ہوا کرتا ہے۔ اگر لالچ کا جذبہ کسی انسان میں بڑھ جاتا ہے تو وہ انسان طرح طرح کی بداخلاقیوں اور بے مروتی کے کاموں میں پڑجاتا ہے اور بڑے سے بڑے گناہوں سے بھی نہیں چوکتا۔ بلکہ سچ پوچھئے تو حرص و طمع اور لالچ درحقیقت ہزاروں گناہوں کا سر چشمہ ہے اس سے خدا کی پناہ مانگنی چاہئے۔

لالچ کاعلاج : ۔اس قلبی مرض کا علاج صبر و قناعت ہے یعنی جو کچھ خدا کی طرف سے بندے کو مل جائے اس پر راضی ہو کر خدا کا  شکر بجا لائے اور اس عقیدہ پر جم جائے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں رہتا ہے۔ اسی وقت فرشتہ خدا کے حکم سے انسان کی چار چیزیں لکھ دیتا ہے۔ انسان کی عمر‘ انسان کی روزی‘ انسان کی نیک نصیبی‘ انسان کی بدنصیبی‘ یہی انسان کا نوشتہ تقدیر ہے۔ لاکھ سرما رو مگر وہی ملے گا جو تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے اس کے بعد یہ سمجھ کر کہ خدا کی رضا اور اس کی عطا پر راضی ہوجاؤ اور یہ کہہ کر لالچ کے قلعے کو ڈھا دو کہ جو میری تقدیر میں تھا وہ مجھے ملا اور جو میری تقدیر میں ہوگا وہ آئندہ ملے گا اور اگر کچھ کمی کی وجہ سے قلب میں تکلیف ہو اور نفس ادھر ادھر لپکے تو صبر کر کے نفس کی لگام کھینچ لو۔ اسی طرح رفتہ رفتہ قلب میں قناعت کا نور چمک اٹھے گا اور حرص و لالچ کا اندھیرا بادل چھٹ جائے گا یاد رکھو!  ؎           

حرص ذلت بھری فقیری ہے

جو قناعت کرے‘  تو نگر  ہے

(۴)کنجوسی                  بخیلی بہت ہی منحوس خصلت ہے۔ بخیل مال رکھتے ہوئے کھانے پینے‘ پہننے اوڑھنے‘ وطن اور سفر ہر جگہ ہر حال میں ہر چیز میں ہر قسم کی تکلیفیں اٹھاتا ہے اور ہر جگہ ذلیل ہوتا ہے اور کوئی بھی اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ہے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ہے کہ سخی اﷲ  سے قریب ہے۔ جنت سے قریب ہے۔ انسانوں سے قریب ہے۔ جہنم سے دور ہے اور بخیل اﷲ  سے دور ہے۔ جنت سے دور ہے۔ انسانوں سے دور ہے۔ جہنم سے قریب ہے اور یقیناََ سخی جاہل‘ عبادت گزار بخیل سے زیادہ اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  کو پیارا ہے۔

 (جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی السَخَاء ، رقم ۱۹۶۸، ج۳، ص۳۸۸)

        اور حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ بھی فرمایا ہے کہ دھوکہ باز اور بخیل اور احسان جتانے والا جنت میں نہیں داخل ہوگا۔

 



Total Pages: 188

Go To