Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔عورت کا پیر بھی عورت کا غیر محرم ہے اس لئے مریدہ کو اپنے پیر سے بھی پردہ کرنا فرض ہے۔اور پیر کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ اپنی مریدہ کو بے پردہ دیکھے یا تنہائی میں اس کے پاس بیٹھے۔ بلکہ پیر کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ عورت کا ہاتھ پکڑ کر اس کو بیعت کرے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے عورتوں کی بیعت کے متعلق فرمایا کہ حضور علیہ ا لصلوۃ و السلام   یٰٓاَ یُّھَا ا لنَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤمِنَاتُ سے عورتوں کاامتحان فرماتے تھے جو عورت اس آیت کا اقرار کرلیتی تھی تو آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاس سے فرماتے تھے کہ میں نے تجھ سے یہ بیعت لے لی۔ یہ بیعت بذریعہ کلام ہوتی تھی۔ خدا کی قسم کبھی بھی حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے بیعت کے وقت نہیں لگا۔

    (صحیح البخاری ، کتاب المغازی، باب غزوۃ الحدیبیۃ، رقم ۴۱۸۲، ج۳، ص۷۵)

بہترین شوہر کی شان : ۔شوہروں کے بارے میں اوپر لکھی ہوئی ہدایات کی  روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہترین شوہر کون ہے؟ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ۔

بہترین شوہر وہ ہے!        

(۱)جو اپنی بیوی کے ساتھ نرمی‘ خوش خلقی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے!

(۲)جو اپنی بیوی کے حقوق کو ادا کرنے میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی نہ کرے!

(۳)جو اپنی بیوی کا اس طرح ہوکر رہے کہ کسی اجنبی عورت پر نگاہ نہ ڈالے۔

(۴)جو اپنی بیوی کو اپنے عیش و آرام میں برابر کا شریک سمجھے۔

(۵)جو اپنی بیوی پر کبھی ظلم اور کسی قسم کی بے جا زیادتی نہ کرے۔

(۶)جو اپنی بیوی کی تند مزاجی اور بد اخلاقی پر صبر کرے۔

(۷)جو اپنی بیوی کی خوبیوں پر نظر رکھے اور معمولی غلطیوں کو نظر انداز کرے۔   

(۸)جو اپنی بیوی کی مصیبتوں ، بیماریوں اور رنج و غم میں دل جوئی، تیمارداری اور وفاداری کا ثبوت دے۔

(۹) جو اپنی بیوی کو پردہ میں رکھ کر عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔

(۱۰)جو اپنی بیوی کو دینداری کی تاکید کرتا رہے اور شریعت کی راہ پر چلائے۔

(۱۱)جو اپنی بیوی اور اہل و عیال کو کما کما کر رزق حلال کھلائے۔

(۱۲)جو اپنی بیوی کے مَیْکا والوں اور اسکی سہیلیوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے۔

(۱۳)جو اپنی بیوی کو ذلت و رسوائی سے بچائے رکھے۔

(۱۴)جو اپنی بیوی کے اخراجات میں بخیلی اورکنجوسی نہ کرے ۔

(۱۵)جو اپنی بیوی پر اسطرح کنٹرول رکھے کہ وہ کسی برائی کی طرف رخ بھی نہ کر سکے۔

(۴) عورت ماں بن جانے کے بعد

        عورت جب صاحب اولاد اور بچوں کی ماں بن جائے تو اس پر مزید ذمہ داریوں کابوجھ بڑھ جاتا ہے کیونکہ شوہر اور والدین وغیرہ کے حقوق کے علاوہ بچوں کے حقوق بھی عورت کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں جن کو ادا کرنا ہر ماں کا فرض منصبی ہے۔ جو ماں اپنے بچوں کا حق ادا نہ کرے گی یقیناً وہ شریعت کے نزدیک بہت بڑی گناہگار، اور سماج کی نظروں میں ذلیل و خوار ٹھہرے گی۔

بچوں کے حقوق            

(۱)ہر ماں پر لازم ہے کہ اپنے بچوں سے پیار و محبت کرے اور ہر معاملہ میں ان کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ کرے اور ان کی دلجوئی و دل بستگی میں لگی رہے اور ان کی پرورش اور تربیت میں پوری پوری کوشش کرے۔   

(۲)اگر ماں کے دودھ میں کوئی خرابی نہ ہو تو ماں اپنا دودھ اپنے بچوں کو پلائے کہ دودھ کا بچوں پر بڑا اثر پڑتا ہے۔

(۳)بچوں کی صفائی ستھرائی۔ ان کی تندرستی و سلامتی کا خاص طور پر دھیان رکھے۔

(۴)بچوں کو ہر قسم کے رنج و غم اور تکلیفوں سے بچاتی رہے۔

(۵)بے زبان بچے اپنی ضروریات بتا نہیں سکتے۔ اس لئے ماں کا فرض ہے کہ بچوں کے اشارات کو سمجھ کر ان کی ضروریات کو پوری کرتی رہے۔

(۶)بعض مائیں چلا کر یا بلی کی بولی بول کر یا سپاہی کا نام لے کر‘ یا کوئی دھماکہ کرکے چھوٹے بچوں کو ڈرایا کرتی ہیں ۔ یہ بہت ہی بری باتیں ہیں ۔ بار بار ایسا کرنے سے بچوں کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور وہ بڑے ہونے کے بعد ڈرپوک ہو جایا کرتے ہیں ۔

(۷)بچے جب کچھ بولنے لگیں تو ماں کو چاہئے کہ انہیں بار بار اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  و رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا نام سنائے ان کے سامنے بار بار کلمہ پڑھے۔ یہاں تک کہ وہ کلمہ پڑھنا سیکھ جائیں ۔

(۸)جب بچے بچیاں تعلیم کے قابل ہو جائیں تو سب سے پہلے ان کو قرآن شریف اور دینیات کی تعلیم دلائیں ۔

(۹)بچوں کو اسلامی آداب و اخلاق اور دین و مذہب کی باتیں سکھائیں ۔

(۱۰)اچھی باتوں کی رغبت دلائیں اور بری باتوں سے نفرت دلائیں ۔

(۱۱)تعلیم و تربیت پر خاص طور پر توجہ کریں اور تربیت کا دھیان رکھیں ۔ کیونکہ بچے سادہ ورق کے مانند ہوتے ہیں ۔ سادہ کاغذ پر جو نقش و نگار بنائے جائیں وہ بن جاتے ہیں اور بچوں بچیوں کا سب سے



Total Pages: 188

Go To