Book Name:Jannati Zevar

از اعلیٰ حضرت قبلہ بریلوی علیہ الرحمۃ

سب سے ا ولی واعلیٰ ہمارابنی     سب سے بالا و والا ہمارابنی

جس کوشایاں ہے عرش خداپرجلوس            ہے وہ سلطان والا ہمارابنی

خلق سے اولیاء  اولیاء سے رسل   اوررسولوں سے اعلیٰ ہمارابنی

حسن کھاتا ہے جس کے نمک کی قسم   وہ ملیح دل آرا ہمارابنی

جس کی دو بوند ہیں کوثروسلسبیل   ہے وہ رحمت کادریا ہمارابنی

کیا خبر کتنے تارے کھلے چھپ گئے    پر نہ ڈوبے نہ ڈوبا ہمارابنی

جس نے مردہ دلوں کو دی عمر ابد    ہے وہ جان مسیحا ہمارابنی

غمزدوں کو رضا مژدہ دیجے کہ ہے

بے کسوں کاسہارا ہمارا بنی

   زہے عزت واعتلائے محمد        کہ ہے عرش حق زیرپائے محمد

مکاں عرش ان کا فلک فرش ان کا     ملک خادمان سرائے محمد

خداکی رضا چاہتے ہیں دو عالم      خدا چاہتا ہے رضائے محمد

عصائے کلیم اژدہائے غضب تھا     گروں کاسہارا عصائے محمد

خدا ان کو کس پیار سے دیکھتا ہے      جو آنکھیں ہیں محو لقائے محمد

اجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا      دلہن بن کے نکلی دعائے محمد

رضاپل سے اب وجدکرتے گزریے      کہ ہے رب سلم صدائے محمد  

سر تا بہ قد م ہے تن سلطان زمن پھول 

 لب پھول دہن پھول ذقن پھول بدن پھول 

واللہ  جو مل جائے مرے گل کا پسینہ

                         مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہے دلہن پھول

تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا  

 تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہ محن پھول

دل اپنا  بھی شیدائی ہے اس ناخن پا کا

اتنا بھی مہ نو پہ نہ اے چرخ کہن پھول

دل بستہ وخوں گشتہ نہ خوشبونہ لطافت

کیوں غنچہ کہوں ہے مرے آقا کادہن پھول

کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی

              زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول

ہے لب عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں

سنگریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں

ابر نیساں مومنوں کو تیغ عریاں کفر پر

جمع ہیں شان جمالی و جلالی ہاتھ میں

مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں

دوجہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں

   

سایہ افگن سرپہ ہو پرچم الٰہی جھوم کر

جب لواء الحمد لے امت کا والی ہاتھ میں

 



Total Pages: 188

Go To