Book Name:Jannati Zevar

الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط وَبِاﷲ  وَلَا حَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلّاَ بِاﷲ  الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ اُسْکُنْ اَیُّھَا الوَجْعُ سَکَّنْتُکَ بِالَّذِیْ  یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَن تَزُ ولَا وَلَئِنْ زَالَتَا اِنْ اَمْسَکَھُمَا مِنْ اَحَدٍ مِنْ بَعْدِہٖ ط اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْماً غَفُوْراً

    یہ حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا مجرب عمل ہے امام موصوف کا قول ہے کہ اس کے پڑھنے کی برکت سے مجھے کبھی طبیب (ڈاکٹر) کی ضرورت ہی نہیں ہوئی ۔(فیوض قرآنی)

حرز ابو دُجانہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ: ۔جو جن و شیطان وغیرہ کے شر اور شرارتوں سے بچانے والا بہترین وظیفہ اور اعلی درجے کا عمل ہے حضرت امام سیوطی   رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ’’خصائص کبری‘‘ جلد ۲ص۹۸ میں امام بیہقی کی روایت لکھتے ہیں کہ حضرت ابو دجانہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار اقدس میں گزارش کی کہ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں رات کو بستر پر لیٹتا ہوں تو اپنے گھر میں چکی چلنے کی آواز‘ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنا کرتا ہوں اور کبھی کبھی بجلی کی سی چمک بھی دیکھتا ہوں ایک رات میں نے کچھ خوف زدہ ہو کر سر اٹھا یا تو صحن میں ایک کالا سایہ نظر آیا جو اونچا اور لمبا ہوتا جا رہا ہے میں نے بڑھ کر اس کو چھوا تو اس کی کھال ساہی کی کھال کی طرح کاٹنے والی تھی پھر اس نے میرے منہ پر آگ کا ایک شعلہ پھینکا اور مجھے محسوس ہوا کہ میں جل جاؤں گا یہ سن کر حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حکم فرمایا کہ قلم دوات اور کاغذ لاؤ میں نے پیش کیا تو آپ نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے فرمایا کہ لکھو۔

        بِسْمِ اﷲ  الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ھٰذَا کِتَابُٗ مِّنْ رَّسُوْلِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اِلٰی مَنْ طَرَقَ الدَّارَ مِنَ الْعُمَّارِ وَ الزُّوَّارِ وَالسَّائِحِیْنَ اِلَّا طَارِقُٗ یَّطْرُقُ بِخَیْرٍ یَّارَحْمٰنُ اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْحَقِّ سَعَۃً فَاِنْ تَکُ عَاشِقاً مُّوْلِعًا اَوْفَاجِرًا مُّقْتَحِمًا اَوْ رَاغِبًا حَقًّا اَوْ مُبْطِلاً فَھٰذَا کِتَا بُٗ یَّنْطِقُ عَلَیْنَا وَ عَلَیْکُم بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ وَرُسُلُنَا یَکْتُبُوْنَ مَا تَمْکُرُوْنَ  اُتْرُکُوْاصَاحِبَ کِتَابِیْ ھٰذَا وَاَنْطَلِقُوْ اِلٰی عَبَدَۃِ الْاَ صْنَامِ وَاِلٰی مَنْ یَّزْ عَمُ اَنَّ مَعَ اﷲ اِلٰھًا اٰخَرَ لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ط کُلَّ شَیْئٍ ھَالِکُٗ اِلَّا وَجْھَہٗ لَہُ الْحُکْمُ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ  تُقْلَبُوْنَ حٰمٓ   لَا تُنْصَرُوْنَ  حٰمٓ  عٓسٓقٓ  تَفَوَّقَ اَعْدَآئُ اﷲ  وَبَلَغَتْ حُجَّۃُ اﷲ  وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲ  ط فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اﷲ  وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ط

        یہ حرز آسیب زدہ کی گردن میں تعویذ بنا کر پہنا دیا جائے اِنْ شَآءَ اﷲ   تَعَالٰی آسیب جاتا رہے گا اگر گھر میں آسیب کا اثر ہے تو دیوار پر چسپاں کر دیا جائے اِنْ شَآءَ اﷲ   تَعَالٰی آسیب بھاگ جائے گا چنانچہ حضرت ابو دجانہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُاس حرز کو لے کر گھر آئے اور رات کو اپنے سر کے نیچے رکھ کر سوئے تو ان کی آنکھ اس وقت کھلی جب کوئی چلاچلا کر کہہ رہا تھا کہ اے ابو دجانہ رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہ! لات و عزی کی قسم ہے کہ میں ان کلمات سے جل رہا ہوں میں اس تحریر والے کے حق کا وسیلہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر تم نے اس حرز کو اٹھا لیا تو ہم تمہارے گھر اور تمہارے ہمسایہ کے گھر نہ آئیں گے حضرت ابو دجانہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُفجر کو مسجد نبوی میں آئے اور نماز پڑھ کر رات کاماجرا سنایا تو حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا۔   

     اے ابو دجانہ رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہ! اس ذات کی قسم ہے مجھے جس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اب یہ آسیب قیامت تک عذاب میں رہے گا۔  (الخصائص الکبریٰ، ج۲، ص۱۶۶)

خفقان کا تعویذ : ۔دل دھڑکتا ہو یا دل گھبراتا ہو یا دل میں درد یا جلن ہو تو یہ تعویذ لکھ کر گلے میں ڈال دیا جائے اور ڈور اتنا بڑا ہو کہ تعویذ دل کے پاس لٹکا رہے تعویذ یہ ہے بِسْمِ اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط ‘ یااﷲ  یا رحمن یا رحیم‘ دل مارا کن مستقیم‘  بحق ایاک نعبد و ایاک نستعینوبحق الا بذکر اللہ  تطمئن القلوب  وبحق طٰہٰ ویٰسٓ وحق نٓ وصٓ  وبحق یا بدوح ۔

خواص سو رۂ فاتحہ

        امام دارمی امام بیہقی وغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ سورئہ فاتحہ ہر مرض کی دوا ہے اس سورہ کا ایک نام ’’شافیہ‘‘ اور ایک نام ’’سورۃ الشفا‘‘ ہے اس لئے کہ یہ ہر مرض کے لئے شفاء ہے ۔(سنن الدارمی، باب فضل خاتمہ الکتاب، رقم۳۳۷۰، ج۲، ص۵۳۸۔صاوی، الفاتحہ، ج۱، ص۱۳)

روزی کی فراوانی وغیرہ : ۔مسند دارمی میں ہے کہ سو مرتبہ سورئہ فاتحہ پڑھ کر جو دعا مانگی جائے اس کو اﷲ   تَعَالٰی قبول فرماتا ہے۔

مکان سے جن بھاگ جائے : ۔اگر کسی گھر میں جن رہتا ہو اور پریشان کرتا ہو تو سورئہ فاتحہ اور آیۃ الکرسی اور سورئہ جن کی ابتدائی پانچ آیتیں پڑھ کر اور پانی پر دم کر کے مکان کے اطراف و جوانب میں چھڑک دینے کے بعد جن مکان میں سے چلا جائے گا اور اِنْ شَآءَ اﷲ   تَعَالٰی پھر نہ آئے گا ۔ (فیوض قرآنی)

شفائِ امراض : ۔ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ فجر کی سنتوں اور فرض کے درمیان میں ۴۱ بار

   

 سورئہ فاتحہ پڑھ کر مریض پر دم کرنے سے آرام ہو جاتا ہے اور آنکھ کا درد بہت جلد اچھا ہو جاتا ہے اور اگر اتنا پڑھ کر اپنا تھوک آنکھوں میں لگا دیا جائے تو بہت مفید ہے۔ (فیوض قرآنی)

        حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو سورئہ فاتحہ اس طرح چالیس مرتبہ پڑھو کہ بسم اﷲ  الرحمن الرحیم کی میم کو الحمد کے لام میں ملاؤ اور الرحمن الرحیم کو تین بار پڑھو اور ہر مرتبہ آخر میں تین بار ’’آمین‘‘ کہو اِنْ شَآءَ اﷲ   تَعَالٰی مقصد حاصل ہوگا ۔   (فوائد الفوادمع ھشت بہشت، ح۲، ص۷۹بتغیرقلیل)

بیماری اور آفتوں کو دفع کرنے کے لئے : ۔سات دنوں تک روزانہ گیارہ ہزار مرتبہ صرف اتنا پڑھے اِیَّاکَ نَعْبُدُوَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ  اول آخر تین تین بار درود شریف بھی پڑھو بیماریوں اور بلاؤں کو دور کرنے کے لئے بہت ہی مجرب عمل ہے۔ (فیوض قرآنی)

خواص سورۂ بقر ہ

شیطان بھاگ جائے : ۔حدیث شریف میں ہے کہ جس گھر میں سورئہ بقرہ پڑھی جاتی ہے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔

(ترمذی کتاب فضائل القران، باب ما جاء فی سورۃ البقرۃ، الحدیث۲۸۸۶، ج۴، ص۴۰۲)

بڑی برکت : ۔حدیث شریف میں ہے کہ سورئہ بقرہ سیکھو کہ اس کا حاصل کرنا بڑی برکت ہے اور اس کو چھوڑ دینا اور حاصل نہ کرنا بڑی حسرت کی بات ہے باطل پرست (جادوگر) اس کی تاب نہیں لا سکیں گے ۔ (مجمع الزوائد، باب منہ : فی فضل القرآن، الحدیث۱۱۶۳۳، ص