Book Name:Jannati Zevar

(۹)ہچکی آرہی ہو تو لونگ کھا لینے سے بند ہو جاتی ہے۔

(۱۰)سر میں جوئیں پڑ جائیں تو ست پودینہ صابون کے پانی میں حل کر کے سر میں ڈالیں اور سر کو خوب دھوئیں دو تین مرتبہ ایسا کر لینے سے کل جوئیں مر جائیں گی۔

(۱۱)لیموں کی پھانک چہرہ پر کچھ دنوں ملنے اور پھر صابون سے دھولینے سے چہرہ کے کیل مہاسے دور ہو جاتے ہیں ۔

(۱۲)پیدل چلنے کی وجہ سے اگر پاؤں میں تھکن زیادہ معلوم ہو تو نمک ملے ہوئے گرم پانی میں کچھ دیر پاؤں رکھ دینے سے تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔

(۱۳)لیموں کو اگر بھوبل میں گرم کر کے نچوڑیں تو عرق آسانی کے ساتھ دوگنا نکلے گا۔

(۱۴)آگ سے جل جائیں تو جلے ہوئے مقام پر فوراً روشنائی لگائیں یا چونا کا پانی ڈالیں یا بروزہ کا تیل لگائیں یا شکر سفید پانی میں گھول کر لگائیں ۔   

(۱۵)سانپ یا کوئی زہریلا جانور کاٹ لے تو کاٹنے سے ذرا اوپر فوراً کسی مضبوط دھاگے سے کس کر باندھ دو پھر کاٹنے کی جگہ افیون لگا دو تاکہ وہ جگہ سن ہوجائے پھر بلیڈ سے زخم لگا کر دبا دو تاکہ چند قطرہ خون نکل جائے پھر پیاز کو چولہے میں بھون کر اور نمک ملا کر اس جگہ پر باندھ دیں اور مریض کو سونے نہ دیں یہ فوری ترکیب کر کے پھر ڈاکٹر سے علاج کرائیں اور انجکشن لگوائیں ۔

(۱۶)اگر کوئی سنکھیا یا افیون یا دھتورا کھا لے تو فوراً سویہ کا بیج دوتولہ آدھ سیر پانی میں پکا کر اس میں پاؤ بھر گھی ایک تولہ نمک ملا کر نیم گرم پلائیں اور قے کرائیں جب خوب قے ہوجائے تو دودھ پلائیں اور اگر دودھ سے بھی قے ہوجائے تو بہت اچھا ہے اور مریض کو سونے نہ دیں اِنْ شَآءَ اﷲ   تَعَالٰی مریض صحت یاب ہوجائے گا۔

کیڑوں مکوڑوں کو بھگانا

سانپ : ۔ایک پاؤ نوشادر کو پانچ سیر پانی میں گھول کر گھر کے تمام بلوں سوراخوں اور کونوں میں چھڑک دیں اگر گھر میں سانپ ہوگا تو بھاگ جائے گااور کبھی کبھی یہ پانی چھڑکتے رہیں تو اس مکان میں سانپ نہیں آئے گا۔

        دوسری ترکیب یہ ہے کہ گھر کے بلوں اور دوسرے سب سوراخوں میں رائی ڈال دیں سانپ فورًا ہی مر جائے گا اوراگراپنے آس پاس رائی ڈال کر سوئیں تو سانپ قریب نہیں آسکتا۔

بچھو : ۔ مولی کا عرق اگر بچھو کے اوپر ڈال دیا جائے تو بچھو ضرور مر جائے گا اور اگر بچھو کے سوراخ میں مولی کے چند ٹکڑے ڈال دیئے جائیں تو بچھو سوراخ سے باہر نہیں نکل سکے گا بلکہ سوراخ کے اندر ہی ہلاک ہو جائے گا۔   

        دوسری ترکیب یہ ہے کہ چِرْچِٹا گھاس کی جڑ اگر بچھو نے پر رکھ دی جائے تو بچھو بستر پر نہیں چڑھ سکے گا۔

        اگر بچھو ڈنک مار دے تو بہروزہ کا تیل لگائیں یا چِرْچِٹا کی جڑ گھس کر لگائیں زہر اتر جائے گا۔

کنکھجورا (گوجر) : ۔اگر کسی کے بدن میں چمٹ جائے یا کان میں گھس جائے تو شکر اس کے اوپر ڈالیں فوراً ہی اس کے پاؤں کھال میں سے باہر نکل جائیں گے اور اگر پیاز کا عرق کنکھجورہ کے اوپر ڈال دیں تو وہ جگہ بھی چھوڑ دے گا اور پھر فوراً ہی مر جائے گا اور اس کے پاؤں چبھنے سے زخم ہو گیا ہے تو پیاز بھلبھلا کر اس زخم پر باندھنا اکسیر ہے۔

پسّو : ۔اندرائن کے پھل یا جڑ پانی میں بھگو کر تمام گھر میں پانی چھڑک دیں تو اس مکان سے پسو بھاگ جائیں گے۔

چیونٹیاں : ۔ہینگ سے بھاگ جاتی ہیں ۔

کپڑوں اور کتابوں کا کیڑا : ۔افسنتین یا پودینہ یا لیموں کے چھلکے یا نیم کے پتے یا کافور کپڑوں اور کتابوں میں رکھ دیں تو کپڑے اور کتابیں کیڑوں کے کھانے سے محفوظ رہیں گی۔

زمانہ حمل کی احتیاط و تدابیر

(۱)حمل کے زمانے میں عورت کو اس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ ایسی ثقیل غذائیں نہ کھائے جس سے قبض پیدا ہو جائے اور اگر ذرا بھی پیٹ میں گرانی معلوم ہو تو ایک دو وقت روٹی چاول نہ کھائیں بلکہ صرف شوربہ گھی ڈال کر پی لیں یا دو تین تولہ منقی یا ایک ہڑ کا مربہ کھالیں ۔   

(۲)حاملہ عورت کو چاہئے کہ چلنے میں پاؤں زور سے زمین پر نہ پڑے اور نہ دوڑ کر چلے اسی طرح اونچی جگہ سے نیچے کو ایک دم جھٹکے کے ساتھ نہ اترے اسی طرح سیڑھی پر دوڑ کر نہ چڑھے بلکہ آہستہ آہستہ چڑھے غرض اس کا خیال رکھے کہ پیٹ نہ زیادہ ہلے اور نہ پیٹ کو جھٹکا لگنے دے نہ بھاری بوجھ اٹھائے نہ کو ئی سخت محنت کا کام کرے نہ غم اور غصہ کرے نہ دست لانے والی دوائیں کھائے نہ زیادہ خوشبو سونگھے۔

(۳)حاملہ عورت کو چلنے پھرنے کی عادت رکھنی چاہئے کیونکہ ہر وقت بیٹھے اور لیٹے رہنے سے بادی اور سستی بڑھتی ہے معدہ خراب ہو جاتا ہے اور قبض کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔

(۴)حاملہ عورت کو شوہر کے پاس نہیں سونا چاہئے خصوصاً چوتھے مہینے سے پہلے اور ساتویں مہینے کے بعد بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

(۵) اگر حاملہ عورت کو قے آنے لگے تو پودینہ کی چٹنی یا کاغذی لیموں استعمال کریں ۔

(۶)اگر حمل کی حالت میں خون آنے لگے تو ’’قُرص کہربا‘‘ کھائیں اور فوراً حکیم یا ڈاکٹر سے علاج کرائیں ۔

(۷) اگر حمل گر جانے کی عادت ہوتو اس عورت کو چار مہینے تک پھر ساتویں مہینے کے بعد بہت زیادہ احتیاط رکھنے کی ضرورت ہے گرم غذاؤں سے بالکل پرہیز رکھے اور اچھا یہ ہے کہ لنگوٹ باندھے رہے اور بالکل کوئی بوجھ نہ اٹھائے اور نہ محنت کا کوئی کام کرے اور اگر حمل گرنے کے کچھ آثار ظاہر ہوں مثلاً پانی جاری ہو جائے یا خون گرنے لگے تو فوراً ہی حکیم یا ڈاکٹر کو بلانا چاہئے۔

(۸) اگر خدانخواستہ حاملہ کو مٹی کھانے کی عادت ہو تو اس عادت کو چھڑانا ضروری ہے اور اگر مٹی کی بہت ہی حرص ہو تو نشاستہ کی ٹکیاں یا طباشیر کھایا کرے اس سے مٹی کی عادت چھوٹ جاتی ہے۔

(۹) اگر حاملہ کی بھوک بند ہو جائے تو مٹھائی اور مرغن غذائیں چھڑا دیں اور سادہ غذائیں کھلائیں اور اگر پیٹ میں درد اور ریاح معلوم ہو تو ’’نمک سلیمانی‘‘ یا ’’جوارش کمونی‘‘ کھلائیں بہر حال تیز دواؤں کے استعمال اور انجکشن وغیرہ سے بچنا بہتر ہے ایسی حالت میں علاج سے بہتر پرہیز اور احتیاط ہے۔

 



Total Pages: 188

Go To