Book Name:Jannati Zevar

مسلمانوں کے عیوب چھپاؤ

        رسول اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو دیکھ لے اور پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو اس کو اﷲ   تَعَالٰی اتنا بڑا ثواب عطا فرمائے گا جیسے کہ زندہ درگور کی ہوئی بچی کو کوئی قبر سے نکال کر اس کی پرورش اور اس کی زندگی کا سامان کردے   (مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب ، باب الشفقۃ والرحمۃ، رقم۴۹۸۴، ج۳، ص۷۵)

دل کی سختی کا علاج

        ایک شخص نے دربار رسالتصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں یہ شکایت کی کہ میرا دل سخت ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ تم یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر و اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔

(الترغیب والترہیب، کتاب البر والصلۃ، باب فی کفالۃ الیتیم ورحمتہٖ۔۔۔الخ، رقم ۱۵، ج۳، ص۲۳۷)

بوڑھوں کی تعظیم کرو

        رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جو جوان آدمی کسی بوڑھے کی تعظیم اس کے بڑھاپے کی بنا پر کرے گا تو اﷲ   تَعَالٰی اس کے بڑھاپے کے وقت کچھ ایسے لوگوں کو تیار فرمادے گا جو بڑھاپے میں اس کا اعزازو اکرام کریں گے۔ (جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی اجلال الکبیر، رقم ۲۰۲۹، ج۳، ص۴۱۱)

بہترین گھر اور بدترین گھر

        حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں سب سے بہترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم رہتا ہو اور اس کے ساتھ بہترین سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں کے گھروں میں سے بدترین گھر وہ ہے کہ اس میں کوئی یتیم ہواور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو۔      (سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، باب حق الیتیم، رقم ۳۶۷۹، ج۴، ص۱۹۳)

غرور اور گھمنڈ کی برائی

        غرور یا گھمنڈ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو علم میں یا عبادت میں دیانتداری یا حسب نسب میں یامال و سامان میں یا عزت و آبرو میں یا کسی اور بات میں دوسروں سے بڑا سمجھے اور دوسروں کو اپنے سے کم اور حقیر جانے یہ بہت بڑا گناہ اور نہایت ہی قابل نفرت خصلت ہے حدیث شریف میں ہے کہ جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہوگا وہ جہنم میں (ہمیشہ کے لیے) نہیں جائے گا اور جس کے دل میں رائی کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں سزا بھگتنے کے بعد داخل ہوگا۔ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر، رقم ۹۱، ص۶۰)

       اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ہر سرکش اور سخت دل اور متکبر جہنمی ہے ۔(صحیح مسلم ، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب الناریدخلھا الجبارون...الخ، رقم ۲۸۵۳، ص۱۵۲۷)

اسی طرح ایک تیسری حدیث میں رحمت عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ارشاد ہے کہ تین آدمی وہ ہیں کہ اﷲ   تَعَالٰی قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا بلکہ ان لوگوں کو دردناک عذاب دے گا ایک بوڑھا زناکاردوسرے جھوٹا بادشاہ تیسرے متکبر فقیر۔

     (صحیح مسلم ، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم اسبال ۔۔۔الخ، رقم ۱۰۷، ص۶۸)

        دنیا کے لوگ بھی مغرور اور گھمنڈی مردوں اور عورتوں کو بڑی حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور نفرت کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ اس کے ڈر سے اور اس کے فتنوں سے بچنے کے لیے ظاہر میں لوگ اس کی آؤ بھگت کر لیتے ہیں مگر دل میں اس کو انتہائی برا سمجھ کر اس سے بے انتہا نفرت کرتے ہیں اور اس کے دشمن ہوتے ہیں چنانچہ جب متکبر آدمی پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے تو کسی کے دل میں ہمدردی اور مروت کا جذبہ نہیں پیدا ہوتا بلکہ لوگوں کو ایک طرح کی خوشی ہوتی ہے بہر حال گھمنڈ وغرور اور شیخی مارنا جیسا کہ اکثر مالدار مردوں اور عورتوں کا طریقہ ہے یہ بہت بڑا گناہ اور بہت ہی خراب عادت ہے۔

        اگر آدمی اتنی بات سوچ لے کہ میں ایک ناپاک قطرہ سے پیدا ہوا ہوں اور میرے پاس جو بھی مال یا کمال ہے وہ سب اﷲ   تَعَالٰی کا دیا ہوا ہے اور وہ جب چاہے ایک سیکنڈ میں سب لے لے پھر میں گھمنڈ کس بات پر کروں اور اپنی کون سی خوبی پر شیخی ماروں تو اِنْ شَآءَ اﷲ  یہ بُری خصلت اور خراب عادت بہت جلد چھوٹ جائے گی۔

بُڑھیا عورتوں کی خدمت

        حدیث شریف میں ہے کہ بڑھیا عورتوں اور مسکینوں کی خدمت کرنے کا ثواب اتنا ہی بڑا ہے جتنا کہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے کو اور ساری رات عبادت میں مستعدی کے ساتھ کھڑے ہونے والے کو اور لگاتار روزے رکھنے والے کو ثواب ملتا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب النفقات، باب فضل النفقۃ علی الاھل، رقم ۵۳۵۳، ج۳، ص۵۱۱)

لڑکیوں کی پرورش

        رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ جو شخص تین لڑکیوں کی اس طرح پرورش کرے کہ ان کو ادب سکھائے اور ان پر مہربانی کا برتاؤ کرے تواﷲ   تَعَالٰی اس کو ضرور جنت میں داخل فرمائے گا یہ ارشاد نبویصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسن کر صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص دو لڑکیوں کی پرورش کرے؟تو ارشاد فرمایا کہ اس کے لیے بھی یہی اجروثواب ہے یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص ایک ہی لڑکی کو پالے تو جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس کے لیے بھی یہی ثواب ہے۔

(شرح السنۃ، کتاب البر والصلۃ، باب ثواب کافل الیتیم، رقم ۳۳۵۱، ج۶، ص۴۵۲)

ماں باپ کی خدمت

        حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے سنا کہ وہاں کوئی شخص قرآن مجید کی قرأ ت کررہا ہے جب میں نے دریافت کیا کہ قرأ ت کرنے والا کون ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ آپ کے صحابی حارثہ بن نعمان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُہیں حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ اے میرے صحابیو! دیکھ لو یہ ہے نیکو کاری اور ایسا ہوتا ہے اچھے سلوک کا بدلہ حضرت حارثہ بن نعمان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسب لوگوں سے زیادہ بہترین سلوک اپنی ماں کے ساتھ کرتے تھے۔(شرح السنۃ، کتاب البر والصلۃ، باب بر الوالدین، رقم ۳۳۱۲۔۳۳۱۳، ج۶، ص۴۲۶)