Book Name:Jannati Zevar

یہ آسمانِ ہدایت کے چند تارے ہیں

خدا کرے تمہیں مل جائے روشنی ان سے

دستکاری اور پیشوں کا بیان

        اس زمانے میں سینکڑوں تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیا ں ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے ادھر اُدھر مارے مارے پھرتے ہیں اور اپنا خرچ چلانے سے عاجز ہیں ۔ اسی طرح بعض لاوارث غریب عورتیں خصوصاً بیوہ عورتیں جن کے کھانے کپڑے کا کوئی سہارا نہیں ایسی پریشانیوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہیں کہ خدا کی پناہ اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ ہر لڑکا اور ہر لڑکی کوئی نہ کوئی دستکاری اور اپنے ہاتھ کا ہنر ضرور سیکھ لے۔ مگر افسوس کہ ہندوستان کے بعض جاہل مسلمان خصوصاً شرفاء کہلانے والے دستکاری اور ہاتھ کے ہنر کو عیب سمجھتے ہیں بلکہ ہاتھ کے ہنر سے پیشہ کرنے والوں کو حقیر و ذلیل شمار کر کے ان پر طعنہ بازی کرتے رہتے ہیں اور پیشہ ور لوگوں کا مذاق اڑایا کرتے ہیں ۔ حد ہوگئی کہ مکر و فریب کر کے رشوت خوروں کی دلالی کر کے یہاں تک کہ چوری کر کے اور بھیک مانگ کر کھانا ان بدبختوں کو گوارا ہے مگر کوئی دست کاری اور پیشہ کرنا ان کو قبول و منظور نہیں ۔

        عزیز بھائیو اور پیاری بہنو! سن لو کہ دستکاری اور اپنے ہاتھوں کی کمائی اسلام میں بہترین کمائی شمار کی گئی ہے بلکہ قرآن و حدیث میں اس کو نبیوں اور رسولوں کا طریقہ بتایا گیا ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ کوئی کھانا کبھی اس کھانے سے اچھا اور بہتر نہیں ہوگا جس کو آدمی اپنے ہاتھ کے ہنر کی کمائی سے کما کر کھائے اور اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کے ہنر کی کمائی کھاتے تھے یعنی لوہے کی زرہیں بنایا کرتے تھے ۔    (صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ، رقم ۲۰۷۲، ج۲، ص۱۱)

        اس لیے ماں بہنو! خبردار، خبردار کبھی ہر گز ہر گز کسی دستکاری اور اپنے ہاتھ کے ہنر کو حقیر و ذلیل مت سمجھو، اور اگر کوئی نادان اس کو حقیر سمجھے اور اس کا مذاق اڑائے تو ہر گز اس کی پروا مت کرو، اور ضرور کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ لو۔ کہ یہ خدا کے پیارے نبیوں کی صفت ہے اور حلال کمائی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ ہمارے رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمان ہے اس لئے اس پر جی جان سے عمل کرو۔

بعض نبیوں کی دستکاری

        حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے کھیتی کی حضرت ادریس علیہ السلام نے لکھنے اور درزی کا کام کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے لکڑی تراش کر کشتی بنائی ہے جو کہ بڑھئی کا پیشہ ہے حضرت ذوالقرنین جو بہت بڑے بادشاہ تھے اور بعض مفسّرین نے ان کو نبی بھی کہا ہے وہ زنبیل یعنی ڈلیا اور ٹوکری بنایا کرتے تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کھیتی کرتے تھے۔ اور آپ نے اپنے ہاتھوں سے خانہ کعبہ کی تعمیر کی جو معماری کا کام ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے تیر بنایا کرتے تھے حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد بکریاں چَراتے تھے اور بکریاں پال پال کر ان کو بیچا کرتے تھے حضرت ایوب علیہ السلام بھی اونٹ اور بکریاں چراتے تھے حضرت داؤد علیہ السلام لوہے کی زرہیں بنایا کرتے تھے جو لوہار کا کام ہے حضرت سلیمان علیہ السلام زنبیل بنایا کرتے تھے حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک دوکاندار کے ہاں کپڑا رنگتے تھے اور خود ہمارے رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور تمام نبیوں نے بکریاں چرائی ہیں ۔   

        اگر چہ ان مقدس پیغمبروں کا گزر بسران چیزوں پر نہیں تھا مگر یہ تو قرآن مجید اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ ان پیغمبروں نے ان کاموں کو کیا ہے اور ان دھندوں کو عار اور عیب نہیں سمجھا ہے اسی طرح بڑے بڑے اولیاء اور فقہاء ومحدثین میں سے بعض نے کپڑا بنا ہے کسی نے چمڑے کا کام کیا ہے کسی نے جوتا بنانے کا پیشہ کیا ہے کسی نے مٹھائی بنانے کا دھندا کیا ہے کسی نے درزی کا کام کیا ہے۔

بعض آسان دستکاریاں

        لڑکوں کے لیے بعض آسان دستکاریاں اور پیشے یہ ہیں سلائی کا ہنر، اور مشین سے کپڑے سینا، کپڑا بننا، سائیکلوں اور موٹروں کی مرمت کرنا بجلی کی فٹنگ کرنا، بڑھئی کا کام، لوہار، معمار اور سنار کا کام کرنا، ٹائپ کرنا، کتابت کرنا، پریس چلانا، کپڑوں کی رنگائی چھپائی، دھلائی کرنا، کھیتی کرنا۔

        لڑکیوں کے لئے آسان دستکاریاں یہ ہیں سوئٹر بننا، اونی اور سوتی موزے بنانا، چکن کا ڑھنا، ٹوپیاں اور کپڑے سی سی کر بیچنا، سوت کاتنا، چوٹیاں بنانا، رسی بٹنا، چارپائی بننا، کتابوں کی جلد بنانا، اچار، چٹنی مربے وغیرہ بنا کر بیچنا۔

        لڑکے اور لڑکیاں ان پیشوں اور ہنروں کو اگر سیکھ لیں تو وہ کبھی بھی اِنْ شَآءَ اﷲ  تَعَالٰی اپنی روزی روٹی کے لئے محتاج نہ رہیں گے۔

نہ تکلیف دو، نہ تکلیف اٹھاؤ

        حضور انورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ :

اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ۔

(صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہٖ ویدہٖ، رقم ۱۰، ج۱، ص۱۵ )

        یعنی مسلمان کا اسلامی نشان یہ ہے کہ تمام مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے سلامت رہیں ۔

        مطلب یہ ہے کہ وہ کسی مسلمان کو کوئی تکلیف نہ دے اور حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ بھی فرمایا کہ مسلمان کو چاہیئے کہ وہ جو کچھ اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنے اسلامی بھائیوں کے لیے بھی پسند کرئے۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ، رقم ۱۳، ج۱، ص۱۶)

        ظاہر ہے کہ کوئی شخص بھی اپنے لیے یہ پسند نہیں کرے گا کہ وہ تکلیفوں میں مبتلا ہو اور دکھ اٹھائے تو پھر فرمانِ رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مطابق ہر شخص پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے کسی قول و فعل سے کسی کو ایذا اور تکلیف نہ پہنچائے اس لیے مندرج ذیل باتوں کا خاص طور پر ہر مسلمان کو خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔

 



Total Pages: 188

Go To