Book Name:Jannati Zevar

شہادت سے سرفراز فرمائے گا یقیناً تم شہیدہ ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے دور خلافت میں ان کو ان کے گھر کے اندر ان کے ایک غلام اور لونڈی نے قتل کر دیا اور دونوں فرار ہوگئے امیرالمؤمنین حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو بڑا رنج و قلق ہوا اور آپ نے ان دونوں قاتلوں کو گرفتار کرایا اور مدینہ منورہ میں ان دونوں کو پھانسی دی گئی تھی ام ورقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی شہادت کی خبر سن کر حضرت عمر  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ بے شک رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسچے تھے کیونکہ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرمایا کرتے تھے کہ چلو ام ورقہ شہیدہ کی ملاقات کر لیں چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ گھر بیٹھے ان کو شہادت نصیب ہوگئی ۔            (الاستیعاب ، کتاب النسائ، باب الواو۳۶۵۸، أم ورقۃ بنت عبداللّٰہ ج۴، ص۵۱۹)

تبصرہ : ۔حضرت ام ورقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے شوق شہادت سے عبرت حاصل کرو۔

(۵۰)حضرت سیدہ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ حضرت غوث محی الدین عبدالقادرجیلانی رحمہ اﷲ  کی پھوپھی ہیں بڑی عابدہ زاہدہ اور صاحب کرامات ولیہ تھیں ایک مرتبہ گیلان میں بالکل بارش نہیں ہوئی اور لوگ قحط سے پریشان حال ہو کر ان کی خدمت میں دعا کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے اپنے صحن میں جھاڑو دے کر آسمان کی طرف سر اٹھایا اور یہ کہا کہ۔

رَبِّ اَنَا کَنَسْتُ فَرُشَّ اَنْتَ۔   

یعنی اے پروردگار! میں نے جھاڑو دے دیا تو چھڑ کاؤ کر دے۔

        اس دعا کے بعد فوراً ہی موسلا دھار بارش ہونے لگی اور اس قدر بارش ہوئی کہ لوگ نہال اور خوش حال ہوگئے ۔    (بہجۃ الاسرار، ذکر نسبہ وصفتہٖ، ص۱۷۳)

تبصرہ : ۔اﷲ اکبر! خدا کے نیک بندوں اور نیک بندیوں کی ولایت اور کرامت کا کیا کہنا؟ جو لوگ اولیاء سے عقیدت و محبت نہیں رکھتے وہ بہت بڑے محروم بلکہ منحوس ہیں اس لئے ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے کہ ان بزرگوں سے عقیدت و محبت رکھے اور فاتحہ پڑھ کر ان کی نیاز دلا کر ان کی روحوں کو ثواب پہنچاتا رہے اور ان کو وسیلہ بنا کر خدا سے دعائیں مانگتا رہے اولیاء خدا کے محبوب اور پیارے بندے ہیں اس لئے جو مسلمان اولیاء سے الفت و عقیدت رکھتا ہے اﷲ   تَعَالٰی اس مسلمان سے خوش ہوکر اس کو اپنا پیارا بندہ بنا لیتا ہے اور طرح طرح کی نعمتوں اور دولتوں سے اس بندے کو مالامال اور خوش حال بنادیتا ہے اس قسم کے ہزاروں واقعات ہیں کہ اگر ان کو لکھا جائے تو کتاب بہت موٹی ہو جائے گی۔

(۵۱)حضرت معاذہ عدویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ بہت ہی عبادت گزار اور پرہیز گار خدا کی نیک بندی تھیں حضرت ام المؤمنین بی بی عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی حدیث میں شاگرد ہیں دن رات میں چھ سو رکعات نفل پڑھاکرتی تھیں اور رات بھرنوافل اورخدا کی یاد میں مصروف رہ کر جاگتی تھیں خدا کے خوف سے کبھی آسمان کی طرف سر اٹھاکر نہیں دیکھتی تھیں دن میں کبھی کبھی جب بہت زیادہ نیند کا غلبہ ہوتا تھا تو گھنٹہ دو گھنٹہ سو لیا کرتی تھیں اور اپنے نفس سے کہاکرتی تھیں کہ ابھی کیوں سوئیں ؟ یہ تو عمل کا وقت ہے جاگ کر جتنا ہو سکے اچھے اچھے عمل کرلینا چاہئے موت کے بعد جب عمل کا وقت نہیں رہے گا پھر تو قیامت تک سونا ہی ہے کبھی کہا کرتی تھیں کہ میں کیوں سوؤں ؟ کیا معلوم کب موت آجائے کہیں ایسا نہ ہوکہ میں سوتی رہ جاؤں اور خدا کی یاد سے غافل رہتے ہوئے میرا دم نکل جائے غرض ان پر خوف خدا کا بہت زیادہ غلبہ تھا جو ولایت کی خاص نشانی ہے اﷲ   تَعَالٰی ہر مسلمان کو یہ دولت نصیب فرمائے (آمین)

تبصرہ : ۔اﷲ  کی بندیو! آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ کیسی کیسی نیک بیبیاں اس دنیا میں ہوگئیں کیا تم میں بھی نیک بننے کا کوئی شوق ہے؟ ہائے افسوس! آج کل کی مسلمان عورتوں کی زندگی اور ان کی غفلتوں اور بد اعمالیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ کہیں ان گناہوں کی نحوست سے خدا کا عذاب نہ اتر پڑے اے سینما دیکھ دیکھ کر جاگنے والیو! کیا خدا کے خوف سے بھی تم کبھی جاگتی رہی ہو اور اے ناول اور جھوٹے افسانے پڑھنے والیو! کیا تمہیں اس کی بھی توفیق ہوئی کہ قرآن اور دینی و ایمانی کتابیں پڑھو؟ سوچو اور عبرت پکڑو اور اپنی حالتوں کو بدلو اور یہ نہ بھولو کہ دنیا کی زندگی چند روزہ اور آنی فانی ہے لہٰذا جلد کچھ آخرت کا کام کر لو۔

(۵۲)حضرت رابعہ بصریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ وہ نیک بی بی اور کرامت والی ولیہ ہیں کہ تمام دنیا میں ان کی دھوم مچی ہوئی ہے یہ دن رات خدا کے خوف سے رویا کرتی تھیں اگر ان کے سامنے کوئی جہنم کا ذکر کر دیتا تو یہ مارے خوف کے بے ہوش ہو جایا کرتی تھیں بہت زیادہ نفلی نمازیں پڑھا کرتی تھیں خدا نے ان کا دل اس قدر روشن کر دیا تھا کہ ہزاروں میل کے واقعات کی ان کو خبر ہو جایا کرتی تھی بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کرتی تھیں بڑے بڑے بزرگان دین ان سے دعا لینے کے لئے ان کی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے ان کی کرامتیں اور ان کے اقوال بہت زیادہ ہیں جو عام طور پر مشہور ہیں ۔   

(۵۳)حضرت فاطمہ نیشا پوریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ بڑی اﷲ  والی ہوئی ہیں مصر کے ایک بہت بڑے بزرگ حضرت ذوالنون مصری علیہ الرحمۃ  فرمایا کرتے تھے کہ اس اﷲ  والی نیک بی بی سے مجھے بہت زیادہ فیض ملا ہے حضرت خواجہ بایزید بسطامی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا بیان ہے کہ فاطمہ کے برابر بزرگی میں کوئی عورت میری نظر سے نہیں گزری وہ یہ فرمایا کرتی تھیں کہ جو خدا کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے وہ تمام گناہوں میں پڑ جاتا ہے جو منہ میں آتا ہے بک ڈالتا ہے اور جو دل چاہتا ہے کر بیٹھتا ہے اورجو خدا کی یاد میں مصروف رہتا ہے وہ فضول کاموں اور گناہ کی باتوں کے کرنے اور بولنے سے محفوظ رہتا ہے مکہ مکرمہ میں عمرہ کے راستہ میں ۲۲۳ھ میں ان کی وفات ہوئی۔

(۵۴)حضرت آمنہ رملیّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ بھی بہت بلند مرتبہ اور باکرامت ولیہ ہیں حضرت بشر حافی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِجو بہت بڑے محدث اور صاحب کرامت ولی ہیں ان کی ملاقات کے لئے جایا کرتے تھے ایک مرتبہ حضرت بشر حافی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِبیمار ہوگئے تو حضرت آمنہ رملیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاان کی بیمار پرسی کے لئے گئیں اتفاق سے اسی وقت حضرت امام احمد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِبھی عیادت کے لئے آگئے جب ان کو پتا



Total Pages: 188

Go To