Book Name:Jannati Zevar

کوٹھڑی میں اچانک کسی نے ٹھنڈے پانی کا بھرا ہوا ڈول ان کے سینہ پر رکھ دیا اور انہوں نے روزہ افطار کر لیا دوسری کرامت یہ ہے کہ ان کے پاس چمڑے کا ایک کُپہ تھا ایک دن انہوں نے اس کپے میں پھونک مار کر اس کو دھوپ میں رکھ دیا تو وہ کُپہ گھی سے بھر گیا پھر ہمیشہ اس کپے میں سے گھی نکلتا رہتا یہاں تک کہ اس کرامت کا چرچا ہوگیا کہ لوگ کہا کرتے تھے کہ ام شریک کا کُپہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔(حجۃ اللّٰہ علی العالمین، المطلب الثالث فی ذکر بعض کرامات أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، أم تسریک، ص۶۲۳)

(۴۶)حضرت ام سائب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ ایک بڑھیا اور نابینا صحابیہ ہیں جو خدا کی راہ میں اپنا وطن چھوڑ کر اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ رہنے لگی تھیں ان کی بھی ایک کرامت عجیب و غریب ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کا ایک بیٹا جو ابھی بچہ تھا اچانک انتقال کر گیا لوگوں نے اس کی لاش کو کپڑا او ڑھا دیا اورحضرت ام سائب کو خبر کردی کہ آپ کا بچہ انتقال کر گیا یہ سن کر انہوں نے آبدیدہ ہوکر دونوں ہاتھ اٹھا کر اس طرح دعا مانگی کہ۔

        ’’یا اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! تجھ پر ایمان لائی اور میں نے اپنا وطن چھوڑ کر تیرے رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف ہجرت کی ہے اس لئے اے میرے اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! میں تجھ سے دعا کرتی ہوں کہ تو میرے بچے کی موت کی مصیبت مجھ پر نہ ڈال‘‘۔

        حضرت انس بن مالک صحابی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا بیان ہے کہ حضرت ام سائب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی دعا ختم ہوتے ہی ایک دم ان کا بچہ اپنے چہرے سے کپڑا اٹھا کر اٹھ بیٹھا اور زندہ ہوگیا ۔          (حجۃ اللّٰہ علی العالمین، فی معجزات سید المرسلین، ص۶۲۳)

تبصرہ : ۔اسلامی بہنو! غور کرو کہ حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے محبت کرنے والیوں اور عبادت گزار عورتوں کو خداوند کریم نے کیسی کیسی کرامتوں سے سرفراز فرمایا ہے تم بھی رسول پاک سے سچی محبت رکھو اور قسم قسم کی نیکیوں اور عبادتوں میں اپنی زندگی گزار دو خداوند قدوس بڑا رحیم و کریم ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اپنا فضل و کرم فرما دے اور تم کو بھی صاحب کرامت بنا دے۔

(۴۷)حضرت کبشہ انصاریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ قبیلہ انصار کی بہت ہی جاں نثار صحابیہ ہیں ایک مرتبہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی مشک کے منہ سے اپنا منہ لگا کر پانی نوش فرمالیا تو حضرت کبشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے اس مشک کا منہ کاٹ کر تبرکاً اپنے پاس رکھ لیا   (الاستیعاب ، باب النساء، باب الکاف ۳۵۱۱، کبشۃ الأنصاریۃ، ج۴، ص۴۶۰)

   

تبصرہ : ۔اس سے پتا چلتا ہے کہ حضرات صحابہ و صحابیات رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمکو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے کتنی والہانہ اور عاشقانہ محبت تھی کہ جس چیز کو بھی حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے تعلق ہوجاتا تھا وہ چیز ان کی نظروں میں باعث تعظیم اور لائق احترام ہو جایا کرتی تھی کیوں نہ ہوکہ یہی ایمان کی نشانی ہے کہ مسلمان نہ صرف حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ذات سے محبت کرے بلکہ حضور کی ہر ہر چیز سے بھی محبت کرے اور حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ہر چیز کو اپنے لئے قابل تعظیم جانے اور اس کا ایمانی محبت کے ساتھ اعزاز واکرام کرے۔

(۴۸)حضرت خنساء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ زمانہ جاہلیت میں بہت بڑی مرثیہ گو شاعرہ تھیں یہاں تک کہ ’’عکاظ‘‘ کے میلے میں ان کے خیمے پر جو سائن بورڈ لگتا تھا اس پر ’’ارثی العرب ‘‘ (عرب کی سب سے بڑی مرثیہ گو شاعرہ) لکھا ہوتا تھا یہ مسلمان ہوئیں اور حضرت امیر المومنین عمر فاروق   رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے دربار خلافت میں بھی حاضر ہوئیں ان کی شاعری کا دیوان آج بھی موجود ہے اور علمائے ادب کا اتفاق ہے کہ مرثیہ کے فن میں آج تک خنساء کا مثل پیدا نہیں ہوا ان کے مفصل حالات علامہ ابو الفرج اصفہانی نے اپنی کتاب ’’کتاب الاغانی‘‘ میں تحریر کئے ہیں یہ صحابیت کے شرف سے سرفراز ہیں اور بے مثال شعر گوئی کے ساتھ یہ بہت ہی بہادر بھی تھیں محرم ۱۴ھ میں جنگ قادسیہ کے خوں ریز معرکہ میں یہ اپنے چار جوان بیٹوں کے ساتھ تشریف لے گئیں جب میدان جنگ میں لڑائی کی صفیں لگ گئیں اور بہادروں نے ہتھیار سنبھال لئے تو انہوں نے اپنے بیٹوں کے سامنے یہ تقریر کی کہ۔

        ’’میرے پیارے بیٹو! تم اپنے ملک کو دوبھر نہ تھے نہ تم پرکوئی قحط پڑا تھا باوجود اس کے تم اپنی بوڑھی ماں کو یہاں لائے اور فارس کے آگے ڈال دیا۔ خدا کی قسم! جس طرح تم ایک ماں کی اولاد ہو اسی طرح ایک باپ کی بھی ہو میں نے کبھی تمہارے باپ سے بد دیانتی نہیں کی نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا لو جاؤ آخر تک لڑو‘‘۔

        بیٹوں نے ماں کی تقریر سن کر جوش میں بھرے ہوئے ایک ساتھ دشمنوں پر حملہ کردیا جب نگاہ سے اوجھل ہو گئے تو حضرت خنساء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا کہ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ ! تو میرے بچوں کا حافظ و ناصر ہے تو ان کی مدد فرما۔

        چاروں بھائیوں نے انتہائی دلیری اور جاں بازی کے ساتھ جنگ کی یہاں تک کہ چاروں اس لڑائی میں شہید ہوگئے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُاس واقعہ سے بے حد متاثر ہوئے اور ان چاروں بیٹوں کی تنخواہیں ان کی ماں حضرت خنساء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو عطا فرمانے لگے ۔          (الاستیعاب ، باب النساء، باب الخاء ۳۳۵۱، خنساء بنت عمرو السلمیۃج۴، ص۳۸۷)

تبصرہ : ۔خواتین اسلام! خدا کے لئے حضرت خنساء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکا دل اپنے سینوں میں پیدا کرو اور اسلام پر اپنے بیٹوں کو قربان کر دینے کا سبق اس دین دار اور جاں نثار عورت سے سیکھو جس کے جوش اسلام و جذبہ جہاد کی یاد قیامت تک فراموش نہیں کی جاسکتی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا )

(۴۹)حضرت ام ورقہ بنت عبداﷲ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ قبیلہ انصار کی ایک صحابیہ ہیں حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان پربہت ہی مہربان تھے اور کبھی کبھی ان کے گھر بھی تشریف لے جاتے تھے اور ان کی زندگی ہی میں آپ نے ان کو شہادت کی بشارت دی اور ان کو شہیدہ کے لقب سے سرفراز فرمایا جنگ بدر کے موقع پر انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ مجھے بھی اس جنگ میں چلنے کی اجازت دے دیجئے میں زخمیوں کی مرہم پٹی اور ان کی تیمار داری کروں گی شاید اﷲ   تَعَالٰی مجھے شہادت نصیب فرمائے یہ سن کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو اﷲ   تَعَالٰی تمہیں



Total Pages: 188

Go To