Book Name:Jannati Zevar

جائے حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان کا جواب سن کر مطمئن ہوگئے ۔     

        حضرت ام ہانی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی یہ دو خصوصیات بہت زیادہ باعث شرف ہیں ایک یہ کہ فتح مکہ کے دن حضرت ام ہانی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے ایک کافر کو امان اور پناہ دے دی اس کے بعد حضرت علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے اس کافر کو قتل کرنا چاہا جب ام ہانی نے حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کیا تو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جس کو تم نے امان دے دی اس کو ہم نے بھی امان دے دی۔     (صحیح البخاری ، کتاب الجزیۃ ولھوادعۃ، باب امان النسائ، رقم ۳۱۷۱، ج۲، ص۳۶۷)

         دوسری یہ کہ فتح مکہ کے دن حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کے مکان پرغسل فرمایا اور کھانا نوش فرمایا پھر آٹھ رکعت نماز چاشت ادا فرمائی۔ (صحیح البخاری ، کتاب الغسل، باب التسترفی الغسل عند الناس، رقم ۲۸۰، ج۱، ص۱۱۵)

(۴۱)حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

          یہ مکہ مکرمہ میں مسلمان ہوئیں اور چونکہ مفلسی کی وجہ سے سواری کا انتظام نہ ہو سکا اس لئے پیدل چل کر انہوں نے ہجرت کی اور مدینہ منورہ پہنچ کر حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بیعت ہوئیں مدینہ میں ان سے حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے نکاح فرمالیا پھر جب وہ جنگ ’’موتہ‘‘ میں شہید ہوگئے تو ان سے جنتی صحابی حضرت زبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے نکاح فرما لیا پھر طلاق دے دی تو دوسرے جنتی صحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے نکاح فرمالیا اور ان کے شکم سے ابراہیم و حمید دو فرزند پیدا ہوئے پھر جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی وفات ہوگئی تو فاتح مصر حضرت عمرو بن العاص رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے نکاح کیا اور چند مہینے زندہ رہ کر وفات     پا گئیں یہ حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی ماں کی طرف سے بہن ہیں ۔  (الاستیعاب ، کتاب کنی النساء، باب الکاف۳۶۳۷، أم کلثوم بنت عقبۃ، ج۴، ص۵۰۸)   

تبصرہ : ۔مسلمان بہنو! غور کرو کہ انہوں نے اسلام کی محبت میں اپنے گھر اور وطن کو چھوڑ کر پیدل ہجرت کی اور مدینہ جا کر حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بیعت ہوئیں پھر یہ غور کرو کہ انہوں نے یکے بعد دیگرے چار شوہروں سے نکاح کیا اس میں ان عورتوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے جو دوسرا نکاح کرنے کو عیب سمجھتی ہیں اور پوری عمر بلا شوہر کے گزار دیتی ہیں ۔

(۴۲)حضرت شفاء بنت عبداﷲ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ ہجرت سے پہلے ہی مسلمان ہوگئی تھیں بہت ہی عقل مند اور فضل و کمال والی عورت تھیں حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان پربہت زیادہ شفقت و کرم فرماتے تھے انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ایک مخصوص بستر بنا رکھا تھا کہ جب آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَدوپہر میں کبھی کبھی ان کے مکان پر قیلولہ فرماتے تھے تو وہ اس بستر کو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لئے بچھا دیتی تھیں دوسرا کوئی شخص بھی نہ اس بستر پر سو سکتا تھا نہ بیٹھ سکتا تھا           (الاستیعاب ، باب النساء، باب الشّین ۳۴۳۲، الشفاء أم سلیمان، ج۴، ص۴۲۳)

تبصرہ : ۔سبحان اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! ان کے قلب میں کس قدر حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عظمت اور کتنا نبوت کا احترام تھا کہ جس بستر پر حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے آرام فرما لیا انہوں نے دوسرے کسی شخص کو بھی اس پر بیٹھنے نہیں دیا یہ بستر حضرت شفاء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے بعد ان کے صاحبزادہ حضرت سیلمان بن ابی حثمہ کے پاس ایک یادگاری تبرک ہونے کی حیثیت سے محفوظ رہا مگر حاکم مدینہ مروان بن حکم اموی نے اس مقدس بچھونے کو ان سے چھین لیا اس طرح یہ تبرک لا پتا ہو کر ضائع ہوگیا۔

        حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت شفاء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو جاگیر میں ایک گھر بھی عطا فرمایا تھا جس میں یہ اپنے بیٹے سلیمان کے ساتھ رہا کرتی تھیں حضرت امیر المومنین عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُان کی بہت قدر کرتے تھے بلکہ بہت سے معاملات میں ان سے مشورہ طلب کیا کرتے تھے ان کو بچھو کے ڈنک کا زہر اتارنے والا ایک عمل بھی یاد تھا اور حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان سے فرمایا تھا کہ تم یہ عمل میری بیوی حضرت حفصہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو بھی سکھا دو الغرض یہ بارگاہ نبوت میں مقرب تھیں اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے عشق و محبت کی دولت سے مالامال تھیں ۔

        (الاستیعاب ، باب النسائ، باب الشّین ۳۴۳۲، الشفاء أم سلیمان، ج۴، ص۴۲۳۔۴۲۴)

(۴۳)حضرت ام درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ مشہور صحابی حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی بیوی ہیں بہت سمجھدار نہایت ہی عقلمند صحابیہ ہیں علمی فضیلت کے علاوہ عبادت میں بھی بے مثال تھیں اپنے شوہر حضرت ابودرداء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے دوسال پہلے ملک شام میں حضرت عثمان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی خلافت کے دوران ان کی وفات ہوئی ۔ (الاستیعاب ، کتاب النسائ، باب الدال۳۵۸۴، أم الدردائ، ج۴، ص۴۸۸)

(۴۴)حضرت رُبَیِّع بنت نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ مشہور صحابی حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی پھوپھی ہیں بہت ہی بہادر اور بلند حوصلہ صحابیہ ہیں ان کے فرزند حارثہ بن سراقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُبھی بہت باکمال ہوئے انصاری خاندان میں قابل فخر عورت تھیں جب ان کے بیٹے حارثہ شہید ہوگئے تو انھوں نے کہا کہ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! اگر میرا بیٹا جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی ورنہ اتنا غم کھاؤں گی کہ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبھی دیکھیں گے تو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ تیرا بیٹا جنت الفردوس میں ہے۔        (الاستیعاب ، باب النسائ، باب الراء ۳۳۷۱، الربیع بنت النضر، ج۴، ص۳۹۷)

(۴۵)حضرت ام شریک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ قبیلہ ’’دوس‘‘ کی ایک صحابیہ ہیں جو اپنے وطن سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئی تھیں یہ بہت ہی عبادت گزار اور صاحب کرامت بھی تھیں ان کی دو کرامتیں بہت مشہور ہیں جن کو ہم نے اپنی کتاب ’’کرامات صحابہ‘‘ میں بھی لکھا ہے ایک کرامت تو یہ ہے کہ یہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ جا رہی تھیں اور روزہ دار تھیں راستہ میں ایک یہودی کے مکان پر پہنچیں تاکہ روزہ افطار کر لیں اس دشمن اسلام نے ان کو ایک مکان میں بند کر دیا تاکہ ان کو روزہ افطار کرنے کے لئے ایک قطرہ پانی بھی نہ مل سکے جب سورج غروب ہوگیا اور ان کو روزہ افطار کرنے کی فکر ہوئی تو اندھیری بند



Total Pages: 188

Go To